یہ نیم مذہبی، نیم تعلیم یافتہ اور نیم لبرل معاشرہ کس انجام کو پہنچے گا؟



پی ٹی آئی کے بعض حامی عمران کو غلط بھی کہہ رہے ہیں اور غلط کی تقلید بھی کر رہے ہیں۔ اسی لیے ہم اسے فرقہ عمرانیہ کہہ رہے تھے کہ خود ساختہ خلیفہ نے خود اپنے ہی ملک میں جہاد کا اعلان بھی کر دیا۔ اپنے ہی لوگوں کے خلاف۔ اس طرح کل کے ہنگاموں کے بعد کشمیریوں کو پیغام دے دیا گیا تم ہم سے امید مت رکھنا۔ اور دوسرے ملکوں کو پیغام پہنچایا گیا کہ یہ ملک استحکام اور تحفظ کے نام پہ زیرو ہے۔ جب چاہے جو چاہے دارالحکومت کو یرغمال بنا سکتا ہے اور حکومتوں کو بے بس کر سکتا ہے۔

اور اس عمل پر ان شر پسندوں کو سزا نہیں۔ پیسے ملتے ہیں۔ حکومتوں میں حصے ملتے ہیں۔ اس لیے وہ اس غیر محفوظ ملک میں اپنا سرمایہ لگانے کی غلطی نہ کریں وہ سیاستدان تھا نہ ہے۔ اسے اس کے غیر ملکی آقاؤں نے ابھی طرح بتا دیا تھا کہ ملک میں سیاسی جماعتوں کا کوئی مستقبل نہیں البتہ دین کے نام پر ہر چورن گلی کوچوں میں بکے گا۔ اور وہ جتنی بھی شر پسندی کر لے۔ عدالتیں اسے تحفظ دیں گی۔ اور سلامتی کے ادارے اس کی سلامتی کو یقینی بنائے رکھیں گے۔ اور یہی ہوتا ساری دنیا نے دیکھا۔

پاکستانی ایک انتہائی غیر ایماندار قوم ہیں اس لیے ان کے پھوٹے ٹوٹے دین میں جو چاہے نقب لگا لے۔ یہ نہ پڑھی لکھی قوم ہے اور نہ پوری طرح ان پڑھ۔ نیم خواندہ قوم نیم ملا اور نیم حکیموں کے ہتھے چڑھ کر برباد ہو گئی۔ اس نئے فرقہ کی غیر ملکی فنڈنگ کا ساری دنیا کو پتہ ہے۔ لیکن فیصلہ اس لیے نہیں ہونے دیا جا رہا کہ غیر ملکی آقاؤں کی فنڈنگ ثابت ہونے پر جماعت بین ہو جائے گی۔ اس لیے اس طرف عدالتیں تکیہ لگا کر گہری نیند سو رہی ہیں۔

ہم ہزار بار کہہ چکے اس ملک سے عدالتیں ختم ہو جائیں تو ان کی حفاظت میں پلنے والے فتنے بھی ختم ہو جائیں گے۔ اب ہم واشگاف الفاظ میں کہہ رہے ہیں۔ عدالتوں کے ساتھ ساتھ پولیس اور پارلیمنٹ کو بھی ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ اور جن اسلامی تجربات کے لیے ملک بنایا گیا تھا۔ ملک صرف اسی دین کی سائنس لیبارٹری رہنے دیا جائے۔ باقی رہے عوام تو وہ مزدوری کر کے بالکل اسی طرح گزارہ کریں گے جس طرح کسی غیر ملک میں ڈر ڈر کر کرتے ہیں۔

ملک کو ہمیشہ کے لیے فوج کے ہاتھ میں دے دیا جائے۔ تاکہ اسے بار بار اپنے ہی ملک کو فتح کرنے کے لیے چڑھائی نہ کرنی پڑے۔ اور وہ اپنے دنیا بھر میں پھیلے کاروباروں پر بھرپور توجہ دے سکے۔ فوج ملک کی ترقی کے لیے گدی نشینی کے فروغ کے لیے اپنے اقدامات بھرپور طریقے سے اٹھائے۔ ملک کے معاشی استحکام کے لیے سارے میں میں ہر ہفتے عرس منائیں جائیں اور وہاں غلے (چندہ بکس) رکھے جائیں۔

سابق عمرانی حکومت نے بھنگ کی کاشت کے لیے خصوصی دلچسپی دکھائی تھی۔ وہی بھنگ قومی مشروب قرار دیا جائے تاکہ قوم ٹھنڈی رہے۔ اور آمریت کے نالے جو دریا سمجھ کر اول تو ہار نہ کرے اور اگر چھلانگ لگانے کی حکومت کرے بھی تو اسی نالے میں گر کر ہڈی پسلی تڑوائے۔ امریکہ جیسے ملک جب کسی ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانے چاہتے ہیں تو بظاہر اپنے گماشتوں کے خلاف کام کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن در حقیقت وہ ان کو سپورٹ کر رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ انھیں اچھی طرح پتہ ہے قوم میں امریکہ دشمنی کا چورن بھی خوب بکتا ہے۔ اس لیے بظاہر وہ اپنے گماشتوں کے ذریعے گالیاں کھا کر بھی ان کے ذریعے اپنا ایجنڈا پورا کر لیتے ہیں۔

انھیں اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ ان سے دشمنی کے دعویدار نہ تو امریکی سرحدوں پر حملہ کر سکتے ہیں۔ بلکہ اتنی بھی اوقات نہیں کہ صرف سفارت خانے کے سامنے جا کر ہی احتجاج کر لیں۔ وہ صرف عوامی املاک کی تباہی سے اپنے ملک کو نقصان پہنچائیں گے۔ اس لیے امریکہ نے یہ کھیل آسانی سے کھیلا۔ اور ان شرپسند گماشتوں کے خلاف کسی قسم کا کوئی کیس نہیں بنے گا نہ ان سے املاک اور انسانی جان کا بدلہ لیا جائے گا۔ اکیسویں صدی میں یہ نیم مذہبی نیم تعلیم یافتہ اور نیم لبرل معاشرہ کس انجام کو پہنچے گا۔ اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر ناہید اختر کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments