عدالتی آمریت کی آخری ہچکیاں

زیادہ وقت نہیں لگا۔ صرف پانچ چھ سال میں ہی نواز شریف کو نہ صرف راہ سے ہٹانے والے بلکہ ان کی ساکھ ختم کرنے والے وقت کے کٹہرے میں خود آن کھڑے ہوئے اور اپنے منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ نواز شریف کرپٹ نہیں تھا۔ اسے کرپٹ ثابت کرنے والوں کے چہرے خدا نے ایسے بے نقاب کیے کہ الامان سیاستدانوں کے نام پر سیاہ دھبہ عمران خان, اس کے مربی جنرل, اس کے عدالتی ساتھی, سب ایک ساتھ

Read more

سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ

کشمیر ہائی کورٹ کے ایک وزیراعظم کو بغیر کوئی کیس چلائے پہلی پیشی پر ہی نا اہل کر دینا اور پھر سپریم کورٹ کا اس کی اپیل فوری خارج کر دینا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام کے ووٹوں اور بھاری الیکشن اخراجات سے منتخب شدہ عوامی نمائندوں کی کیا حیثیت ہے۔ پھر قوم جمہوریت کے لئے کیوں جدوجہد کرے اور الیکشن کے لئے اپنے خون پسینے کی کمائی کیوں حرام کرے۔ عدالتوں کی عزت ہے اور پارلیمان

Read more

سپریم کورٹ وقت کے کٹہرے میں

نو ججوں کا بینچ ٹوٹ ٹوٹ کر بالآخر انھی تین ججوں پر مشتمل رہ گیا جو ملک کو ایک آئینی اور سیاسی بحران کا شکار کرنے کا مرکزی کردار تھے۔ چیپ جس ٹس بندیال صاحب تو مارشل لاء ڈکٹیٹروں سے بھی دو ہاتھ آگے جا رہے ہیں۔ لگتا ہے عطا بندیال صرف خود کو ہی سپریم کورٹ سمجھتے ہیں۔ بری طرح بے نقاب ہونے کے باوجود مسلسل ہٹ دھرمی پر قائم رہ کر نہ صرف سیاسی بحران پیدا کر رہے

Read more

احتساب سب کا

آڈیو لیکس نے ہمارے عدالتی نظام کی پستی کا ثبوت بھی فراہم کر دیا ہے۔ اب ان ججز میں شرم نظر آتی ہے نہ ان کے چیف میں جو ہر بینچ میں بار بار انھیں کو رکھتا ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج قاضی فائز عیسی کو صرف 9 اہم ترین بینچوں میں شامل کیا گیا اور فون پر پرویز الہی اور اپنے پالن ہاروں کو سر سر کہنے والے ججز کو 76 اہم ترین کیسز میں شامل کیا

Read more

خان صاحب کا لانگ مارچ

یکم نومبر 2022: تحریک عدم اعتماد ایک مکمل جمہوری عمل تھا جس کے ذریعے حکومت تبدیل کی گئی خان صاحب ایک سیاستدان ہونے کے دعویدار ہوتے ہوئے ایک مکمل پارلیمانی جمہوری عمل کو اسٹبلشمنٹ کے ذریعے ختم کروانا چاہتے تھے۔ موصوف نے اپنے پر خطاب میں یہی فرمایا کہ مجھے اسٹبلشمنٹ نے نہیں بچایا۔ ان کا خیال تھا آر ٹی ایس بٹھا کر جو انھیں حکومت میں لائے ہیں وہی اب جمہوری قوتوں سے بچائیں بھی۔ موصوف اب بھی اسٹبلشمنٹ

Read more

ہماری عدلیہ اور چند سوالات

عدلیہ اس ملک کا وہ ادارہ ہے۔ جس کا وجود مقصد ارادے اور فیصلے بذات خود تشریح طلب ہیں۔ اب ان کی تشریح کے لیے کون سا فورم ہو۔ یہ سوچنے کی ضرورت ہے۔ عدلیہ کی تاریخ شاہد ہے کہ ان کے فیصلے ملک کو بحران سے نکالنے کی بجائے مزید بحرانوں کا شکار کرتے آئے ہیں۔ آئین کی کسی بھی شق کی تشریح ایسے انداز میں کی جاتی ہے کہ اس تشریح کی بھی تشریح کرنی پڑ جاتی ہے۔

Read more

یہ نیم مذہبی، نیم تعلیم یافتہ اور نیم لبرل معاشرہ کس انجام کو پہنچے گا؟

پی ٹی آئی کے بعض حامی عمران کو غلط بھی کہہ رہے ہیں اور غلط کی تقلید بھی کر رہے ہیں۔ اسی لیے ہم اسے فرقہ عمرانیہ کہہ رہے تھے کہ خود ساختہ خلیفہ نے خود اپنے ہی ملک میں جہاد کا اعلان بھی کر دیا۔ اپنے ہی لوگوں کے خلاف۔ اس طرح کل کے ہنگاموں کے بعد کشمیریوں کو پیغام دے دیا گیا تم ہم سے امید مت رکھنا۔ اور دوسرے ملکوں کو پیغام پہنچایا گیا کہ یہ ملک

Read more