وجود

وجود ازل ہے وجود ابد۔ ازل کی ابتداء اور ابد کی انتہا بھی وجود۔ وجود یکتا بھی ہے ہر سو بھی۔ وجود بے حد، بے حساب و بے انتہا بھی وجود۔
نگاہ ناز میں بڑے سے بڑا وجود بھی بے وجود رہتا ہے اور نگاہ شوق میں ذرے کا وجود بھی کل کائنات۔
ہر وجود اپنے اندر ہزار ہا وجود سموئے پھرتا ہے وجود کے اندر موجود ہزاروں وجود، وجود کی تباہی و نشوونما کا وجود رکھتے ہیں۔ وجود کے اندر یہ وجود دو قبیلوں کی فوج میں منقسم ہیں ایک گروہ مثبت تو دوسرا منفی۔ گویا دونوں مثبت و منفی قبیلوں کی فوجیں اس وجود ناتواں کے اندر ہما وقت باہم دست و گریباں ہیں۔ کبھی کوئی فوج غالب آجاتی ہے تو کبھی کوئی۔ مثبت گروہ غلبہ پا جائے تو وجود مومن۔ منفی گروہ غالب آئے تو وجود کافر۔
وجود میں موجود ہزاروں وجود ایک دوسرے کو تقویت و محبت بھی دیتے ہیں اور دھمکی و نفرت بھی۔ نفرت بھی وجود محبت بھی وجود۔
ہونا ہی وجود کی قطعی دلیل ہے اگر ہو تو ذمہ دار، نہ ہو تو آزاد۔ ہونا تلاطم اور نہ ہونا سکوت۔ سکوت موت اور تلاطم زندگی ہے۔ تلاطم ابدی و لازوال، موت عارضی و بے مراد۔ موت وجود عارضی، زندگی وجود دائمی۔
حیرت کا وجود یہ ہے کہ تلاطم و زندگی، سکوت و سکوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ تلاطم، بے قراری و بیزاری، امواج و زندگی سبھی اپنے ان دیکھے بوجھ سے شل نظر آتے ہیں یقیناً ان کے ہونے نے انہیں بری طرح تھکا دیا۔ نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا۔
وجود کی دہلیز خاص پر کئی وجود معرکہ آراء ہیں کسی کی واضح شکست فتح مبین کا وجود اور کسی کی کامیابی ناکامی کا وجود۔ کوئی یقیں لٹا کے گماں لے جاتا ہے اور کوئی مایوسی میں یقین کامل۔ بس ظاہر و باطن کی کشمکش ہے۔
فنا لا فنا کا وجود ہے مکاں لامکاں کا۔ سورج کا وجود ذرے میں ہے بھلا کس نے جانا؟ وجود، موجود کا آئینہ ہے اور موجود، وجود کا عکس۔
خزاں پتوں کو وجود سے جدا کرتے ہی بہاروں کو جنم دیتی ہے۔ پھر کیوں نہ کوئی خواہش خزاں کرے۔ جدائی بدن کی خزاں ہے مگر وجود خیال، بہار۔ کوئی جدا رہ کے بھی تکمیل پا لیتا ہے اور کوئی قریب رہ کر بھی نامراد۔ اویس قرنی رض دور رہ کر بھی وجود فضیلت، ابوجہل قریب رہ کر بھی وجود نامراد۔
آرزو کا اک چھوٹا سا دل میں پلنے والا نحیف وجود ہزار وجود پر مشتمل وجود انساں کی عمارت کو نابود کر دیتا ہے اور یوں ہی دل میں پنپنے والی چھوٹی سی خواہش کی تکمیل ویران عمارت کو بھی فلک شگاف بنا دیتی ہے۔ مگر صد افسوس وجود ناپید ہو رہے ہیں پرچھائیاں باقی ہیں۔ پرچھائیوں کو وجود سمجھنے والے اپنا وجود کھو بیٹھتے ہیں۔ ذلتیں نظریں چرا کے گھستی ہیں۔ نظر کا وجود پرچھائیوں اور حقیقتوں کا کھوجی ہوتا ہے مگر یہ نظر، نگاہ عام کہاں۔
جہان تگ و دو میں مرضی کا وجود ندارد۔ موج اپنی مرضی سے فنا نہیں پاتی، نہ ہی وجود انساں تنگ داماں ہو کر اپنا گلا دبانے کا اختیار رکھتا ہے۔ دیوہیکل سورج اپنے دائرہ سے ہل نہیں سکتا اندھیرا اجالے کو پکڑ نہیں سکتا نہ ہی دن رات کو۔
کیفیات کا وجود، وجود مادہ سے کہیں زیادہ پرکیف ہے۔ ایمان، عشق، محبت، نفرت، غصہ کیفیات کے مختلف مظاہر ہیں جو وجود مادہ کو گود لیے پھرتے ہیں۔ وجود مادہ ایماں، عشق و محبت کی کیفیات میں ڈھل کر کبھی ابوبکر و بلال تو کبھی شیریں فرہاد کی شکل میں نمودار ہوتا ہے۔ یوں حسد و کینہ، گھمنڈ و غرور کی کیفیات جب وجود مادہ پر حاوی ہوتی ہیں تو نمرود و فرعون نظر آتے ہیں۔ جب کوئی نگاہ عام، عشق و مستی کی کیفیت میں ڈھل جائے تو وہ وجود حقیقی کو جو کائنات کی وسعتوں میں سما نہیں سکتا ایک لمحہ میں اپنی اندر سمو لیتی ہے پھر قطرے میں قلزم، ذرے میں خورشید نظر آتے ہیں۔
نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر۔
وہی قرآن، وہی فرقاں، وہی یسین وہی طہ۔

