یوم تکبیر نعرہ تکبیر


اٹھائیس مئی پاکستان کی تاریخ کا وہ یادگار دن ہے جب مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے عالم دنیا کو یہ بتا دیا کہ اب ہم بھی ایٹمی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایٹمی قوت کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ ہی ہم دنیا کے سپر پاور کی فہرست میں شمار ہونے لگے اور یہ واقعی ہی پاکستانی عوام کے لیے عظیم خوشخبری تھی اور اس بات سے کوئی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایٹمی طاقت رکھنے کے بعد پاکستان اور پاکستانی عوام پوری دنیا میں خاصی اہمیت رکھ چکی تھی۔ اگر چاغی کے مقام پر کیے جانے والے ایٹمی دھماکوں کا ذکر کیا جائے اور اس سب کا کریڈٹ پاک فوج کو نہ دینا یقیناً زیادتی اور ظلم کا سبب ہو گا۔ ایٹمی طاقت کا سہرا تو برملا پاک فوج کے سر ہی جاتا ہے۔

تئیس برس قبل ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد پاکستان مسلم دنیا کا پہلا اور پوری دنیا میں ساتویں نمبر پہ ایٹمی طاقت بننے کا اعزاز رکھتا ہے۔

جوہری قوت کا دکھانا اس وقت بہت لازمی ہو چکا تھا کیونکہ گیارہ مئی انیس سو اٹھانوے کو پوکھران کے مقام پہ بھارت نے تین دھماکے کر کے خطے کی سلامتی کو خطرے سے دو چار کر دیا۔

بھارت ایٹمی قوت حاصل کرنے بعد پاکستان کو خطر ناک دھمکیاں دینے پر اتر آیا۔

اگر تصویر کا ایک رخ دیکھا جائے تو بھارت دھمکیوں کے ساتھ اسرائیل کے مدد سے پاکستان کی ایٹمی تجربہ گاہوں پر حملے کی تیاری کر رہا تھا تو تصویر کے دوسرے رخ میں مغربی ممالک دھمکیاں دے کر پاکستان کو ایٹمی تجربے نہ کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔

امریکی صدر نے بار ہا اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو فون کر کے یہ باور کرایا کہ وہ ایٹمی طاقت کا مظاہرہ نہ کریں اور بدلے میں کروڑوں ڈالر کی بھی پیشکش کی گئی عالمی سازشوں اور دباؤ کے باوجود حکومت پاکستان نے اٹھائیس مئی کے دن پانچ ایٹمی دھماکے کرنے کا حکم دے دیا اور چاغی کا مقام نعرہ تکبیر کی فضاؤں سے گونج اٹھا۔

اگر ایٹمی قوت کی تاریخ لکھی جائے اور ایٹمی پروگرام کے خالق ڈاکٹر عبد القدیر خان کا ذکر نہ کیا جائے تو یقیناً یہ سراسر ظلم ہو گا۔

ایٹمی دھماکوں کے خالق ڈاکٹر عبد القدیر خان نے انیس سو چوہتر کو موجودہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو خط لکھ کے ایٹمی پروگرام پر عمل کرنے کی پیشکش کی۔

پاکستانی سائنسدانوں نے مشکل حالات کے باوجود ایٹمی پروگرام کو جاری رکھا۔

یقیناً لازوال قربانیوں کے بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ممالک میں شامل ہو گیا ایک اندازے کے مطابق اسلامی جمہوریہ پاکستان اس وقت ایک سو سے زائد ایٹمی وار ہیڈز رکھتا ہے اور یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان ہر سال اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے میں دس نئے ایٹم بموں کا اضافہ کرتا ہے۔ معاہدے کے بعد پاکستان میں ایٹمی بجلی گھر بھی بنائے جا رہے ہیں۔ خوشاب کے قریب پلاٹینم تیار کرنے والے دو نئے ایٹمی ری ایکٹر بھی اپنے کام کا آغاز کر چکے ہیں۔ خوشاب کے ایک علاقے میں ایٹمی پلانٹ کی تعمیر بھی جاری ہے جن سے ایٹمی ہتھیار بنانے کی ملکی صلاحیت میں مزید اضافہ ہونا یقینی ہے۔

پاکستان کے ایٹمی دھماکے کرنے سے بھارت کا غرور اور تکبر ملیا میٹ ہو گیا۔ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ شروع دن سے ہی پاکستان اپنے ایٹمی پروگرام پر عالمی سازشوں اور شدید تنقید کا سامنا کرتا رہا ہے اور کئی بڑی بڑی طاقتیں قیام پاکستان کی ایٹمی طاقت کو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔

اور آج کے دن یوم تکبیر ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ پوری قوم اور حکومت کا فرض ہے کہ ملکی سلامتی کی علامت اس ایٹمی پروگرام کی حفاظت اور ترقی کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کیا جائے ہر وقت چاق و چوبند رہ کر اپنی مسلح افواج کے ساتھ کندھا ملا کر دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یوم تکبیر کا نعرہ لگایا جائے۔

نعرہ تکبیر اللہ اکبر۔
پاکستان زندہ باد۔
پاکستان پائندہ باد۔

Facebook Comments HS