دیوانے لوگ

ہمارے معاشرے میں دیوانے قسم کے افراد خاصی اہمیت نہیں رکھتے۔ ان کو ہمیشہ بے وقوف پاگل ناسمجھ اور دیوانہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ افراد ہم سے اکثر و بیشتر کے خاندانوں میں پائے جاتے ہیں۔ گلی محلے میں ہمسائے میں کوئی نہ کوئی ایسا شخص ضرور ہوتا ہے۔ یہ لوگ پاگل نہیں ہوتے ہاں البتہ آپ کہہ سکتے ہیں ان کے اندر دوسروں کی طرح ہوشیاری چالاکی نہیں ہوتی یا لوگ ان کے متعلق یہ رائے رکھتے ہیں کہ ان میں عقل کی کمی ہے۔ اگر ادب کے دائرے میں رہ کر بات کی جائے تو لوگ ان کو نارمل ذہن والا انسان نہیں سمجھتے۔ یہ لوگ دیکھنے میں بہت سادہ سے ہوتے ہیں۔ ان کے چہرے پہ اکثر مسکراہٹ رہتی ہے کہیں بھی کسی کو بھی ملنے سے اس کے پاس کھڑے ہونے سے بات کرنے سے نہیں جھجکتے۔ یہ لوگ عام انسانوں کی طرح بہت زیادہ خود کو سنوارتے نہیں۔
آخر میں نے اس موضوع کا انتخاب کیوں کیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے ان افراد وہ خصوصیات دیکھیں جن کی کمی شاید ہمارے عقل مند معاشرے میں ہے۔ کہنے اور سننے کو ہم عقل مند اور وہ کم عقل ہوتے ہیں لیکن میں جن خصوصیات کا ذکر کروں گا وہ ان افراد میں تو ہیں لیکن ہمارے عقل مند معاشرے میں بالکل نہیں۔ ان کے اندر منافقت نہیں ہوتی، کسی کے لئے دیرپا بغض نہیں ہوتا، لالچ نہیں ہوتی، مکرو فریب نہیں ہوتا، بے حیا نہیں ہوتے، جھوٹ بولنے پہ بھی آئیں تو چہرے پر وہ آثار ہوتے ہیں کہ ایک عام انسان بھی سمجھ جائے، کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں، کسی انسان کا دل نہیں دکھاتے، کسی عورت کی عزت نہیں لوٹتے، اپنی مردانگی عورت پر ہاتھ اٹھا کر ظاہر نہیں کرتے، بہت تعلیم یافتہ نہیں ہوتے، لیکن تعلیم یافتہ انسانوں کے معاشرے میں رہ کر بغض و کینہ نہیں رکھتے جو آج تعلیم یافتہ افراد میں ہے۔
ایک بہترین معاشرے کو ہتھیار کی ضرورت نہیں، ایٹم بم کی ضرورت نہیں، انسانوں پر ظلم کی ضرورت نہیں، لوگوں کو غلام بنانے کی ضرورت نہیں۔ لیکن معاشرے کو تعلیم یافتہ افراد لیکن غیر تربیت یافتہ افراد نے غلامی دی، ہتھیار بھی دیے، ظلم بھی دیا۔ کیا یہ کم ہے کہ یہ دیوانے ذہن ان پڑھ صحیح لیکن تعلیم یافتہ معاشرے کی اس غلاظت میں شامل نہیں۔ عقل مند افراد نے اس معاشرے میں اکثر و بیشتر خداداد صلاحیتوں کا استعمال غلط کیا اور معاشرے کو تعلیم ہی کے ذریعے ناپید کرنے کی کوشش کی۔
کیا ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا کہ چونکہ عقل مند لوگ تعلیم کے ساتھ تربیت یافتہ ہوتے اور معاشرے کو عروج پہ لے جاتے جب کہ ہم نے اخلاقیات، ادب، مذہب ان سب کو بالائے طاق رکھ کر معاشرے کو پستی میں ڈال دیا، جہاں دلوں میں کدورت کینہ بغض حسد مکاری معاشرے کی تمام برائیاں موجود ہیں، کیا نقصان تھا کہ ہمارے پاس ہتھیار نہ ہوتے، ایٹم بم نہ ہوتا، لیکن ہمارے اندر انسانیت ہوتی، ذرا سوچیں دنیا کتنی خوبصورت ہو جائے اگر ہم سب دیوانہ ذہن لوگوں کی طرح اپنے اندر سے بغض و کینہ، حسد اور اس طرح کی برائیاں ختم کر دیں یا کاش ہم دیوانہ ذہن ہی ہوتے، تو ہم ان برائیوں سے محفوظ رہتے۔
ہم معاشرے کو پستی میں لے جانے کا سبب نہ بنتے۔ معاشرے میں سائنس عروج پہ چاہے نہ ہوتی لیکن انسانیت تو عروج پہ ہوتی۔ میں اپنے قارئین کو یہاں ایک چھوٹی سی کہانی ضرور سنانا چاہتا ہوں، ایک گدھا اپنے مالک سے بہت تنگ تھا کیونکہ مالک اس پہ زیادہ بوجھ ڈالتا لیکن کھلاتا کم۔ بالآخر گدھے نے خدا کی بارگاہ میں دعا کی کہ خدایا تو مجھے انسان بنا دے تاکہ میں پھر پر سکون زندگی کے مزے لے سکوں، اور آخرکار اس کی دعا قبول ہو گئی اور وہ حضرت انسان بن گیا۔
وہ جونہی انسانوں میں آیا تو اسے انسانوں کی بستی میں انسان ہونے کے باوجود انسانوں نے ہی حقارت سے دیکھا، اس نے انسانوں میں مختلف قسم کی برائیاں دیکھیں اور انسانوں پہ انسانوں کا ظلم دیکھ کر وہ دنگ رہ گیا، کہ اصل میں جنگل وہ نہیں جہاں شیر چیڑ پھاڑ کر کھا جائے بلکہ اصل جنگل تو یہاں ہے، اتنا ظلم وہ بھی اپنی ہی جنس پہ، یہ دیکھ کر وہ خدا کی بارگاہ میں پہنچا اور خدا سے التجا کی خدایا اس طرح کے انسانی معاشرے سے بہتر ہے کہ میں گدھا ہی رہوں۔ تو میرے قارئین کو میں نتیجہ یہ دینا چاہتا ہوں کہ اگر چالاکی دھوکہ بازی، جھوٹ مکر و فریب یہ عقل مندی اور ذہانت ہے تو اس سے بہتر دیوانہ ذہن لوگ ہیں۔
خدا تعالیٰ سے اس امید سے کہ ہم اگر کم عقل یا کند ذہن نہیں تو خدا کرے کہ ہم بغض و کینہ اور منافقت کے بغیر والے انسان بھی ہوجائیں تاکہ معاشرہ اپنی خوبصورتی کو پہنچے۔

