ملک خداداد کے جھوٹے ناخدا اور مسائل


پاکستان آج جن حالات سے گزر رہا اس مقام تک پہنچنے میں ہم نے ایک قوم کے طور پر بڑی محنت کی ہے۔ غور کریں تو ایک وجہ ہر مشکل کی جڑ نظر آتی ہے اور میری نظر میں ہماری وہ خوبی ہے بلا کا جھوٹا ہونا۔ شاید ہی دور حاضر کی کوئی قوم اس میں ہماری ہمسر ہو۔ ہم اپنی ذات تک سے جھوٹ بولتے ہیں مثال کے طور پر ہم میں سے کتنے ایسے ہوں گے جو سچ بولنے کی قیمت چکانے کی ہمت رکھتے ہوں گے اور اس کام میں الحمدللہ ہمارے حاکم دنیا پہ حکمرانی کر رہے ہیں۔ یہ واحد ملک ہے جہاں حاکم اور طاقتور لوگ عدالت ؛سیاست، عوام سب سے جھوٹ بولتے ہیں اور جو جتنا جھوٹ بولتا ہے اتنا منجھا ہوا گرو سمجھا جاتا ہے۔ یہاں جھوٹی بیماری بھی ہوتی ہے، جھوٹی توہین مذہب بھی ہوتی ہے، جھوٹے نعرے بھی ہوتے ہیں، جھوٹے شہید تک ہوتے ہیں۔
جب سے یہ ملک بنا ہے عوام کو آج تک یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کا صحیح معنوں میں دوست اور دشمن کون ہے۔ سیاسی لیڈرز بھی ہم میں سے ہی ہیں وہ بھی میرے اور آپ جتنے سچے ہیں۔ حالیہ مہنگائی کا جھٹکا اسی جھوٹ اور منافقت کی ایک کڑی ہے۔ آج والے کہ رہے ہیں کہ مہنگائی عالمی ہے یہی لوگ ایک مہینہ پہلے مہنگائی مکاوٴ مارچ کر رہے تھے اگر ان لوگوں نے تب سچ بولا ہوتا تو ان کے اپنے لیے حالات کچھ بہتر ہو سکتے تھے۔ لیکن ہماری سیاست میں عوام وہ واحد اکائی ہے جو matter نہیں کرتی۔ اس لیے جھوٹ سے سیاسی نقصان نہیں ہوتا لیکن سچ سے ہوتا ہے۔ اور دوسری طرف جو حکومت سے نکلے ہیں وہ خوش ہیں کہ شکر ہے مہنگائی ہو رہی ہے مخالف کا نقصان ہو گا۔ جس کا نقصان ہو رہا وہ ستو پی کے سو رہا اور رو بھی رہا ہے مہنگائی سہ بھی رہا ہے، وہ ہے وہ پاکستانی جو کہیں شیر کہیں جیالا کہیں یوتھیا اور کہیں انصار الاسلام ہے۔
سچ یہ ہے کہ پاکستان کی ریاست کے فیصلے اب آئی ایم ایف کرتا ہے۔ جو ریاست اپنی بنیادی چیزوں کی قیمت بھی خود معین نہیں کر سکتی وہ کسی ملک کے سامنے کیسے کھڑی ہو سکتی ہے۔ ہم اس نہج پہ کیسے پہنچے ہیں یہ الگ بحث ہے لیکن آج تک ذمہ داری کوئی لیتا نہیں نہ کسی کا کوئی لیڈر چور ہے نہ کوئی ادارہ چور ہے نہ کوئی کاروباری چور ہے اور ہم عوام تو چور ہیں ہی نہیں تو اس ملک کو کون کھا گیا ہے جب تک کوئی یہ سچ نہیں بولے گا یہ ذلالت اور بڑھے گی اور ہم نسل در نسل ایسے ہی رہیں گے جو حا کم تھے وہ آج بھی حاکم ہیں اور عوام وہیں کی وہیں۔
کبھی آئی ایم ایف نے یہ شرط کیوں نہیں رکھی کہ تم لوگ غریب ہو اپنے ریاستی خرچے کم کرو۔ بڑے بڑے محلات، جتنا بڑا افسر اتنی بڑی گاڑی، گھر اور بہت کچھ اسی طرح وزیر مشیر اور ہر ادارے کے سر کردہ لوگ جو دولت میں نہائیں بھی تو ختم نہ ہو وہ بھی اسی ریٹ پہ پٹرول خرید رہا اور ایک مزدور بھی اور ٹیکس بھی دونوں ایک جتنا دے رہے ہیں بلکہ ان کا تو تیل پانی ریاست کے ذمہ ہے۔ یہ شرط آئی ایم ایف کبھی نہیں رکھے گا کیوں کہ اس سے متاثر وہ لوگ ہوں گے جو اس ملک کی اشرافیہ ہے جو اس کے خیر خواہ ہیں۔
جب تک غریب سچ سمجھے گا نہیں، سچ بولے گا نہیں، اور جھوٹوں کو روکے گا نہیں تک یہ روتی بسورتی شکلیں میری قوم کی پہچان رہیں گی۔
Facebook Comments HS