یاسین ملک؛ کشمیر اور عالمی رویہ

حریت پسند رہنماؤں کو سزا دینے سے تحریک آزادی تیز ہوسکتی ہے، روکی نہیں جا سکتی۔ میں کوئی بھیک نہیں مانگوں گا، کرلیں جو آپ کی خواہش ہے۔ لیکن میرے کچھ سوالوں کے جواب دیں۔ گزشتہ اٹھائیس سالوں میں میرے خلاف کوئی ایک ثبوت آپ ایسا پیش کر سکتے ہیں، جہاں میں نے کوئی غیر قانونی یا دہشت گردوں کی مالی معاونت میں کردار ادا کیا ہو؟
یہ سوال تحریک آزادی کشمیر کے حریت رہنما یاسین ملک نے دہلی عدالت کے سامنے رکھا، تو عدالت ہکی بکی اور لاجواب رہ گئی!
یاسین ملک نے 1994 میں بھارتی مظالم کے خلاف مسلح جدوجہد ترک کرکے پرامن جدوجہد کو اپنایا۔ اس سے قبل وہ تحریک آزادی کشمیر کے لئے مسلح جدوجہد کا باقاعدہ حصہ تھے۔ پچھلے اٹھائیس سالوں میں ایک بھی ایسا قدم بھارت ثابت نہ کر سکا، جہاں وہ کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہو۔ انہوں نے عدالت کے سامنے یہ بھی کہا کہ میں نے مہاتما گاندھی کا رستہ اپناتے ہوئے کشمیر کی جدوجہد آزادی کا حل متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔
2017 میں ان کے خلاف "دہشت گردوں کی مالی معاونت” کا کیس درج کیا گیا۔ اس کیس کو بنیاد بنا کر بھارتی قومی تحقیقاتی ایجنسی نے 2019 میں انہیں گرفتار کیا۔ عدالت نے اسی سال الزامات کی توثیق کرتے ہوئے یاسین ملک کو مجرم قرار دیا۔ عدالت نے ان کے خلاف تمام تر جرائم کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ دہشت گردوں کی مالی معاونت میں براہ راست شریک تھے۔
پچھلے دنوں این آئی اے نے عدالت سے درخواست کی کہ یاسین ملک کو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جائے جو اس کیس میں کم سے کم سزا بنتی ہے۔ عدالت نے انہیں دو بار عمر قید کی سزا سنائی۔
دنیا ایک نظر کرم ادھر بھی فرما دے۔ کشمیر بھی یوکرین کی طرح انسانوں کی بستی ہے۔ جیتے، جاگتے سانس لیتے انسان وہاں بھی اپنا کرچی کرچی وجود رکھتے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ دنیا کے نظام انصاف کی تمام تر آوازیں کشمیر پر آکر چپ کیوں ہوجاتی ہے؟ اس سے قبل علی گیلانی کے ساتھ بھارت کی جانب سے کیا برتاؤ کیا گیا۔ پوری دنیا ان کے جذبہ ایمانی سے باخبر تھی۔ معلوم نہیں اور کتنے کشمیری بھارت کے ظلم کی بھینٹ چڑھیں گے۔ جعلی مقدمے بنا کر قید کرنا، قید و بند کی اتنی صعوبتیں دینا کہ قیدی کی جان نکل جائیں۔ یہی تو بھارت کا روز اول سے وطیرہ رہا ہے۔
5 اگست 2019 کو کشمیر کی خصوصیت حیثیت ختم کر کے اس کے ٹکڑے کر ڈالے۔ کشمیر کا جھنڈا اور آئین بھی ضبط کیا گیا۔ کشمیر کو براہ راست ہندوستان کی حکومت کے ماتحت کیا۔ آج تک دنیا کا نظام انصاف اس پر خاموش تماشائی بن کے کھڑا ہے۔ جبکہ کشمیر پکار پکار کہ کہہ رہا ہے
بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں
Facebook Comments HS

