مضبوط ملک کے غیر محفوظ باشندے


اسلام کے نام پر بننے والا ہمارا ملک جس کے قیام کا مقصد ہی ہمارے مذہب اور اسے ماننے والوں کی حفاظت تھا، جسے ہماری حفاظت اور ہمارے عزت و وقار کی خفاظت کے لیے قائم کیا گیا تھا، آج افسوس کے ساتھ ہم اس مضبوط ملک کے انتہائی غیر محفوظ باشندے ہیں۔ ہماری حفاظت کے نام پر قائم ہونے والے ملک میں نہ تو ہماری عزت محفوظ ہے اور نہ ہی ہماری قیمتی جانوں کی کوئی وقت ہے۔ وہ ملک جسے بہت سی قیمتی جانوں کی قربانیوں کے بعد صرف ہماری اور ہمارے دین کی حفاظت کے لیے قائم کیا گیا تھا آج بظاہر اس کے درودیوار تو مضبوط ہیں لیکن اس میں بسنے والے لوگ انتہائی غیر محفوظ ہیں۔
آج ہمارے ملک کا ہر فرد خواہ وہ کسی بھی عمر کا ہو خود کو محفوظ سمجھنے سے قاصر ہے۔ہر کوئی ڈر اور خوف میں مبتلا ہے۔ ہر روز کسی نہ کسی ایسے واقعے کے بارے میں سننے کو ملتا ہے جو ہمیں ہمارے غیر محفوظ ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ کبھی کوئی باہر نکلتے ہی اپنی قیمتی چیزوں اور اپنی محنت کی کمائی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے تو کبھی کوئی اپنی قیمتی چیزیں بچاتے بچاتے اپنی زندگی گنوا بیٹھتا ہے۔ کبھی کوئی تعلیم یا نوکری کے حصول کے لیے نکلی لڑکی اپنی عزت گنوا بیٹھتی ہے تو کبھی کوئی والدین اپنی اولاد کی موت کی صورت میں اپنی زندگی کی جمع پونجی لٹا بیٹھتے ہیں۔ مجھے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایک مضبوط ملک میں رہتے ہوئے بھی کوئی بھی دل ڈر اور خوف سے پاک نہیں۔
ہر روز کوئی نہ کوئی دل دہلا دینے والی خبر سننے کو ملتی ہے۔ کبھی کہیں ڈکیتی کی واردات ہو جاتی ہے تو کبھی گن پوائنٹ پر کسی سے موبائل اور پیسے چھین لیے جاتے ہیں۔ آئے دن کسی نہ کسی بچے یا لڑکی کے اغوا کی خبریں گردش میں ہوتی ہیں۔ کسی لڑکی کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے تو کسی کے چہرے کو تحذاب سے جھلسا دیا جاتا ہے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ملزم کی بھرپور کوششوں کے باوجود مجرم کھلے عام گھوم رہے ہوتے ہیں۔ نہ تو قانون مجرم کو پکڑ پاتا ہے اور نہ ہی ملزوم کو انصاف مل پاتا ہے۔ ملزوم انصاف ملنے کی امید میں عدالتوں کے چکر کاٹتا رہ جاتا ہے لیکن افسوس عدالت اسے انصاف کے نام پر صرف لارے ہی دیتی رہتی ہے۔
کچھ روز پہلے ایک لڑکی کے اغوا کی خبریں گردش میں تھیں۔ سننے میں آیا کہ لڑکی اپنے بھائی کے ساتھ امتحان دینے جا رہی تھی جب ایک گاڑی ان کے قریب رکی اور اس میں موجود نامعلوم افراد لڑکی کو اس کے بھائی کی آنکھوں کے سامنے اپنے ساتھ لے گئے۔ دیکھا جائے تو یہ ایک دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔ یہ تو صرف ایک واقعہ ہے اس طرح کے واقعات ہمارے ملک میں عام ہوتے جا رہے ہیں۔ آئے دن اسی طرح کے دل دہلا دینے والے واقعات سننے کو ملتے ہیں جن کے بارے میں سن کر روح کانپ اٹھتی ہے۔ ایسے حادثات و واقعات کے ہوتے ہوئے ہم خود کو محفوظ تصور کرنے سے بھی قاصر ہیں۔
کیا ایک مضبوط ملک کے باشندے ہونے کے ناطے خود کو محفوظ سمجھنا اور محسوس کرنا ہمارا بنیادی حق نہیں؟ ملک کے حکمران جن کا فرض ہے کہ ملک کے ہر باشندے کی خفاظت کو یقینی بنائیں وہ کرسی کے لالچ میں ایک دوسرے سے لڑنے میں اتنے مصروف ہیں کہ انھیں اپنے ملک کی عوام کے اندر چھپا خوف نظر ہی نہیں آتا۔ ہمارے حکمرانوں کے لیے ان کا اقتدار اور عہدے لوگوں کی قیمتوں جانوں سے زیادہ اہم ہیں۔
Facebook Comments HS