عمران خان پہلے تیاری تو کر لیں


2011 کے لاہور جلسے کے بعد جب الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر عمران خان کا طوطی بول رہا تھا تو عمران خان کا دعوی تھا کہ وہ 2013 میں کلین سویپ کریں گے اور اس حوالے سے وہ صحافیوں کو لکھ کر دینے کو بھی تیار تھے کہ اگلی حکومت ان کی ہے۔ ان کے اس دعوے کے پیچھے زمینی حقائق سے زیادہ میڈیا پر ان کی پذیرائی تھی۔ 2013 کے الیکشن ہوئے تو نتیجہ عین زمینی حقائق کے مطابق آیا اور مسلم لیگ نون واحد اکثریتی پارٹی کے طور پر ابھر کے سامنے آئی اور عمران خاں اپوزیشن لیڈر بھی نہ بن پائے البتہ ”حقیقی“ اپوزیشن صرف انہوں نے کی اور حکومت کو ایک دن بھی سکون سے کام نہیں کرنے دیا۔ چار حلقوں کو لے کر لانگ مارچ اور پانامہ کے ڈرامہ تک حکومت کے لیے ہر دن مشکلات پیدا کرتے رہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں البتہ ان کی پارٹی نے حکومت بنائی اور الیکڑانک اور سوشل میڈیا کی بدولت اسے ایک ماڈل حکومت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔

ستمبر 2017 میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خاں صاحب نے فرمایا کہ وہ خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ان کو 2013 میں وفاق میں حکومت نہیں ملی ورنہ وفاق کا حال بھی خیبرپختونخوا جیسا ہوتا کیونکہ بقول ان کے پرویز خٹک کے علاوہ سب لوگ نئے تھے اور ایک سال تو انہیں پتا ہی نہیں تھا کہ کرنا کیا ہے۔

عمران خان صاحب کا یہ بیان خیبرپختونخوا حکومت کی ناکامی کا واضح اعتراف تھا۔ یہ اعتراف اس لیے بھی خاص اہمیت کا حامل تھا کہ یار لوگ مرکز میں نواز حکومت کے مقابلے میں خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی کو مثالی بنا کر پیشے کرتے تھے لیکن اس کے برعکس عمران خان نے تیاری نہ ہونے کے باعث وفاقی حکومت نہ ملنے پر خدا کا شکر ادا کیا۔

2018 میں ملی مرکز میں اپنی حکومت کے تقریباً تین سال گزارنے کے بعد عمران خان صاحب نے وزراء کو وارننگ دیتے ہو فرمایا کہ کبھی بھی کسی گورنمنٹ کو بغیر تیاری کے پاور میں نہیں آنا چاہیے۔ جب تک وزارتیں اور محکمے کارکردگی نہیں دکھائیں تو وہ گورننس نہیں دے سکے سکتے۔

یہ باتیں کرتے ہوئے عمران خان صاحب اپنی ناکامی کا برملا اظہار کر رہے تھے۔ اپوزیشن کو مکمل طور پر دیوار میں چنوانے اور میڈیا پر ہر طرح کی پابندیوں اور مثبت رپورٹنگ کے باوجود عمران حکومت ڈلیور کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آئی کیونکہ نہ تو ان کی تیاری تھی نہ انہیں یقین تھا کہ وہ حکومت میں آئیں گے۔

حالیہ لانگ مارچ کے اچانک ختم کرنے اور اپنے پیروکاروں کو اسلام آباد میں حیران پریشان چھوڑنے پر عمران خاں صاحب تنقید کی زد میں ہیں۔ اس حوالے سے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے تسلیم کیا کہ لانگ مارچ اور دھرنے کے حوالے سے ان کی تیاری نہیں تھی۔ انہوں نے کسی بھی ڈیل کی خبروں کی تردید کی اور کہا کہ چھ دن بعد وہ پوری تیاری کے ساتھ اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے اور اس مرتبہ لانگ مارچ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

حکومت سے نکالے جانے کے بعد ملک بھر میں جلسوں اور ریلیوں کے دوران وہ واضح طور پر اعلانات کرتے آئے تھے کہ 20 مئی کے بعد وہ لانگ مارچ کی کال دیں گے اور بیس لاکھ لوگوں کا سمندر اسلام آباد میں داخل ہو گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پورے ملک میں جلسوں میں اعلان کرنے، میڈیا بریفنگز اور پریس کانفرنسز میں لانگ مارچ کی تاریخ دینے کے باوجود آپ کی تیاری نہیں تھی تو پھر قوم کو ایک بار بتا ہی دیں کہ آپ نے تیاری کس چیز کا نام رکھا ہوا ہے۔

عمران خاں صاحب سے دست بستہ عرض ہے کہ جناب کوئی بھی کام کرنے سے پہلے مکمل طور پر تیاری کر لیا کریں، اس کو ہر پہلو سے جانچ لیا کریں اور نفع نقصان کو بھی کیلکیولیٹ کر لیا کریں کیونکہ آپ کے بنا تیاری کے اس طرح کے ایڈونچرز کی قیمت پورے ملک کو ادا کرنی پڑتی ہے۔

Facebook Comments HS