بچیوں کے لئے بامعنی اور باشعور زندگی کی ضرورت
پچھلے سال ایک عزیزہ کی شادی اپنے ہی خاندان میں ان کی اماں کی ضد پر خالہ کے ہاں طے ہوئی۔ شادی سے پہلے یہ طے پایا کہ لڑکی اپنے شوہر کے ساتھ ماسٹرز کے لیے آسٹریلیا جائے گی۔ شادی ہو گئی۔ جب آسٹریلیا جانے کی باری آئی تو میاں کو یاد آیا کہ جب پاکستان میں بھی ماسٹرز ہوجاتا ہے۔ تو آسٹریلیا کیوں جانا؟ ساس نے یاد دلایا کہ غیر ملکوں میں جاکر لڑکیاں کس طرح ہاتھوں سے نکل جاتی ہیں۔ یہ بھی تمہارے قابو میں نہیں رہے گی۔ سسر کو یاد آیا کہ آج تک خاندان میں کوئی لڑکی بیرون ملک نہیں گئی۔ اور شادی کے بعد تو بالکل نہیں۔ اب تو ”غیرت“ کا معاملہ کھڑا ہو گیا۔
خاتون خاموشی سے میکے آئی۔ ابا کو ساری روداد سنائی۔ باپ نے بجائے صبر و شکر و غیرت و عزت و مان و گمان کے سبق پڑھانے کے بیٹی کو گھر بٹھا لیا۔ سسرال والے آئے کہ ہم آپ کی بیٹی کو لینے آئے ہیں۔ تو ابا بولے
”میاں میری بیٹی تو پڑھی لکھی لڑکی ہے۔ جو اپنے کریئر اور مستقبل کے بارے میں اپنی سوچ رکھتی ہے۔ لیکن تمہیں منہ سر سنوارنے اور پیٹ پوجا تک سوچنے والی لڑکی کی ضرورت ہے۔ تم شاید راستہ بھول گئے ہو۔ میری بیٹی کو چھوڑو اور کسی بھی ان پڑھ لڑکی کو بیاہ لاؤ۔ کہ میں اپنی باشعور بیٹی تمہارے حوالے نہیں کر سکتا۔“ لوگوں نے خوب پھبتیاں کسیں۔ کہ دیکھو کیسا باپ ہے اپنی ہی بیٹی کا گھر اجاڑ رہا۔ لیکن ابا نے ایک نہ سنی۔ کیونکہ بات بیرون ملک جانے کی نہیں تھی، بات ان کی بیٹی کی زندگی کو اہمیت نہ دینے کی تھی۔
ہم تب ہی کسی کے خیال کا خیال کرتے ہیں کہ جب ہم مقابل کو غلام کے بجائے انسان سمجھیں۔
طلاق ہو گئی۔ پڑھی لکھی سمجھدار لڑکی تھی۔ مزید مالی اعتبار سے بھی اونچے گھرانے کی چشم و چراغ تھی۔ خدا کی قدرت، کچھ ہی مہینوں میں ہی ایک سوجھ بوجھ رکھنے والے خاندان کے لڑکے سے شادی ہو گئی۔ چند ہی دنوں میں دونوں میاں بیوی بیرون ملک چلے گئے۔
خاتون کا کہنا تھا کہ نہ صرف ان دونوں کی دلچسپیاں یکساں ہیں بلکہ ان کے تعلیمی میدان بھی ایک جیسے ہیں۔ مزید سسرال والے بھی ان کی معاونت کرتے ہیں۔ وہ اس بات کو فخر سمجھتے ہیں ان کے خاندان کی بہو اور بیٹا اس طرح پڑھتے ہیں۔
میرا مشاہدہ یہ کہتا ہے کہ پڑھی لکھی لڑکیاں گھر بیٹھنے والی لڑکیوں سے گھرداری میں بھی زیادہ ایکٹو ہوتی ہیں۔ گھر سنبھالنا، گھر والوں کی دیکھ بھال کرنا زندگی کے ساتھ چلتے ہیں۔ یہ کسی کے لیے حصہ زندگی ہوسکتے ہیں لیکن مقصد حیات نہیں۔ میری رائے کے مطابق، ایک بہترین دماغ رکھنے والے انسان کو چند جسمانی گھریلو مشقتوں میں الجھا کر اس کے مقصد سے منحرف کرنا ایک طرح سے اس کی شخصیت کو مسخ کرنا اور ذہنی صلاحیتوں کو صفر کرنا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ جیسے آپ ایک اعلی نسل کے گھوڑے کو مقابلے کی دوڑ کا حصہ بنانے کی بجائے محض بوجھ اٹھانے پر لگا دیں۔
جہاں تک تعلق ایک بامقصد زندگی گزارنے کا ہے تو وہاں ان پڑھ اور پڑھی لکھی لڑکیوں کی کوئی تفریق نہیں۔ کہ مقصدیت کا تعلق ذہنی شعور سے ہے روایتی ڈگریوں سے نہیں۔ مزید سسرال کا رونا رونے والیوں میں اکثریت ان عورتوں کی ہوتی ہے جو اپنے میکے والوں کی خودغرضی پر رو نہیں سکتیں اس ڈر سے کہ سسرال والے مزید شیر نہ ہوجائیں۔ اور سسرال میں بیٹھ کر رونے والیوں میں بکثرت وہ خواتین ہوتی ہیں جنہیں ان کے میکے والے بیاہ کر بھول جاتے ہیں۔
وہی سسرال والے آپے سے باہر ہوتے ہیں جو جانتے ہیں کہ لڑکی کی خبر لینے والا کوئی نہیں۔ خود ہی سوچیے جس بچی کو آپ نے پال پوس کر بڑا کیا، پڑھایا لکھایا۔ محض معاشرتی رکھ رکھاؤ کے نام پر ( کہ اب بیٹی پرائی ہو گئی۔ وہ اپنا سیاہ سفید خود دیکھے ) اس کے حال پر چھوڑ دیا۔ جب آپ اس کی پروا چھوڑ چکے تو سسرال والے اس کا خیال کیونکر کریں گے؟ کیا کوئی آپ سے بہتر آپ کی اولاد کے متعلق سوچ سکتا ہے؟
ماں باپ اگر پال سکتے ہیں تو کیا وہ اپنی بیٹیوں کے لیے سٹینڈ نہیں لے سکتے؟ یہ ماں باپ ہی ہوتے ہیں جو اولاد کی زندگیوں کو جنت و جہنم بناتے ہیں۔
اگر آپ ایک پڑھے لکھے انسان ہیں، اور چاہتے ہیں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکی گھر سنوارنے کے علاوہ صرف منہ سر سنوارنے کے متعلق سوچے تو آپ کو ایک ایسی لڑکی کی ضرورت ہے جس کی دماغی صلاحیتیں صفر ہوں، یا جو ذہنی غلام ہو۔ ( جو اپنے سلب شدہ حقوق کو زندگی کے حقائق سمجھ کر راضی ہوں )
شادی سے پہلے یہ ڈیفائن کیجیے کہ آپ کیسی زندگی کے متمنی ہیں۔ آیا آپ کی زندگی کا کوئی مقصد ہے بھی یا نہیں؟ اگر آپ زندگی کو فن سمجھتے ہیں تو کسی بامقصد شخص کی زندگی کو کھلواڑ مت بنائیے۔ آپ جس بھی قسم کی سوچ کے مالک ہیں یا آپ مستقبل کے بارے میں کیسی ہی سوچ رکھتے ہیں۔ یہ دنیا اتنی چھوٹی نہیں کہ آپ کو ہم خیال لوگ نہ مل سکیں۔
دوسروں کی زندگیوں کو کنٹرول کرنے کا مائنڈ سیٹ چینج کر کے اپنی زندگی درست کرنے پر فوکس رکھیں تو نتائج نہایت بارآور ثابت ہوسکتے ہیں۔
سمجھ نہیں آتا کہ لوگ یہ کیوں نہیں سوچ لیتے کہ جیسے پڑھا لکھا بیٹا باعث فخر ہوتا ہے پڑھی لکھی بہو بھی ویسے ہی باعث عزت ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے بھی کہ وہ باشعور اولاد کو پروان چڑھا سکتی ہے۔
بیٹے پر فخر تو بہو سے حسد کیوں؟
اگر مقصد گھر کا کام، بچوں کی سنبھال اور بزرگوں کی نرسنگ ہے تو شادی کے لیے پڑھی لکھی ہی کی شرط کیوں؟


