فوج کی غیر جانبداری اور بے جا اعتراضات


روایتی سیاستدانوں کے خلاف عوام کی مایوسی کو دیکھ کر اسٹیبلشمنٹ کے اندر سے چند آئیڈیلسٹ شخصیات نے ایک خواب دیکھا اور یہ خواب ایک بہتر پاکستان کا تھا جس کی تعبیر کے لئے عوام کے ایک طبقے میں مقبول ہوئے لیڈر عمران خان کو چنا گیا۔ اس لیڈر کی الیکشن میں کامیابی کے بعد ایک ہائبرڈ نظام کے ذریعے بھرپور مدد فراہم کی گئی۔ پارلیمنٹ میں اکثریت نہ رکھنے کے باوجود اس کو ہر بحران سے نکلنے میں مدد دی گئی اور عمران خان قومی اداروں کی بھرپور سپورٹ سے پاکستان کی تاریخ کے ایک طاقتور ترین وزیراعظم بن گئے۔

مگر وقت گزرتا رہا اور ان سے باندھی گئی تمام توقعات ایک ایک کر کے ٹوٹتی گئیں۔ کارکردگی کے لحاظ سے تو یہ دور بدتر تھا ہی اس کے ساتھ ہی نیب، اینٹی کرپشن اور ایف آئی اے کو بجائے کرپشن کے خاتمے کے اپنے مخالفین کو ختم کرنے کے لئے استعمال کیا گیا۔ سب سے بڑے صوبے میں ایک کٹھ پتلی کو وزیراعلی بنا کر بٹھا دیا گیا۔ جس کے بعد پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ دیکھا گیا کہ ڈی سی اور ڈی پی او بھی پیسے دے کر لگنے لگے۔ عمران خان کو بار بار بتا یا گیا ان سے پنجاب میں وزیراعلی کسی اہل شخص کو لگانے کا کہا گیا مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئے بلکہ الٹا حساس اداروں کے اندرونی معاملات میں دخل انداز ہونے لگے۔ جوں جوں مہنگائی بڑھتی گئی، عوامی ناراضگی کا پارہ چڑھتا گیا عمران خان کی مدد کو آنے والے مایوس ہوتے چلے گئے۔

غالباً اکتوبر کے وسط میں سیاسی قوتوں کو یہ باور کروایا گیا کہ آرمی سیاسی معاملات میں مکمل غیر جانبداری سے کام لے گی۔ تو سیاسی توازن میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی اور نئے سرے سے صف آرائیاں شروع ہو گئیں۔ پاکستان آرمی نے بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا کہ وہ آئین میں اپنے دے گئے کردار کے مطابق پاکستان کی ترقی اور سلامتی کے لئے کام کریں گے اس کو آپ ایک نئی ڈاکٹرائن کہیں کہ اس فیصلہ کے بعد ملٹری مکمل طور پر غیر جانبدار ہے۔

اب سیاستدانوں نے اپنے جھگڑے سیاسی انداز میں خود بھگتانے ہوں گے۔ ملٹری کی اس پالیسی کے بعد اقتدار عمران خان کی مٹھی سے ریت کی مانند سرکنے لگا۔ جب عمران کو اندازہ ہوا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے بغیر اپوزیشن اتحاد کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور ان کے انداز حکومت سے خود ان کی پارٹی کے لوگ ان کو چھوڑ کر اپوزیشن سے جا ملے ہیں تو وہ سیخ پا ہو گئے اور ایک جلسہ عام میں فرمایا کہ نیوٹرل تو جانور ہوتے ہیں۔ یہ ایک قسم کی ملٹری کو اپنے پریشر میں لا کر دوبارہ سے سیاسی معاملات میں گھسیٹنے کی ان کی ناکام کوشش تھی۔ البتہ اس سے ان کے فالوورز لو غلط پیغام گیا اور ان کی حکومت کے خاتمے کے فوری بعد سوشل میڈیا پر ایک طوفان بدتمیزی مچایا گیا اور فیک نیوز چلا کر آرمی کو خواہ مخواہ ہدف تنقید بنایا گیا بعد میں جب اس کی تفتیش کی گئی تو پتہ چلا کہ فیک فرینڈز بنانے میں دشمن ایجنسیوں کے ایجنٹ شامل تھے۔

اس طرح بجائے پاکستان ملٹری کے آئینی کردار تک محدود رہنے کے فیصلے کی تعریف و توصیف کی جاتی الٹا پروپیگنڈا کے ذریعے ادارے کی حوصلہ شکنی کی کوشش کی گئی۔ یہی سیاستدان آرمی پر سیاسی معاملات میں مداخلت کا الزام لگاتے تھے اب وہی اس کی غیر جانبداری پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ مگر پاکستان کی بیشتر عوام سیاسی طور پر بالغ نظر ہے اور ان کو اندازہ ہے کہ آرمی کا موجودہ موقف درست اور اصولی ہے اور اس سے ہمارے ملک میں جمہوری نظام کو تقویت ملے گی اور ہماری فوج مکمل طور پر اپنی توجہ پاکستان کے تحفظ اور سلامتی کے معاملات پر مرکوز رکھ پائے گی۔

کچھ لوگ بیرون ملک میں بیٹھ کر پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح وہ دشمن کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ ان کو پاکستان میں زمینی حقائق کا پتہ ہی نہیں ہے۔ یہاں کے لوگوں کو جو مسائل ہیں وہ یہاں آ کر ان کا سامنا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس طرح پاکستان میں سیاسی حقائق، آئینی ذمہ داریوں اور معاشی مسائل سے نابلد ایک نیم پڑھی لکھی جنریشن ہے جو ان حالات کا عمیق طریقے سے جائزہ لینے سے قاصر ہے مگر سوشل میڈیا پر بیٹھ کر اپنی پسند کی چند لائنیں چوری کر کے اور گا لم گلوچ کے ذریعے معاشرے میں ابتری پھیلانے کی ناکام کوشش رہتے ہیں۔ ہمارے سیاسی لیڈروں کا بھی فرض ہے کہ اپنے سیاسی ورکروں کی تربیت کریں اور ان کو قومی سلامتی سے کھیلنے کی اجازت نہ دیں۔ ہماری فوج دنیا کئی ایک مضبوط ترین فوج ہے اور وہ کسی صورت میں سیاسی منافرت پھیلا کر ملک میں خانہ جنگی برپا کرنے اور دشمن کو ہماری قومی سلامتی پر وار کرنے کی کبھی اجازت نہیں دے گی۔

Facebook Comments HS