مانوس اجنبی دوسری آمد
میرا نثری ڈراما ’بساط‘ اپریل 1987 میں کتابی شکل میں شائع ہوا۔ کتاب میں میری ایک کہانی ’مانوس اجنبی‘ بھی شامل تھی جس میں دکھایا گیا تھا کہ کس طرح شطرنج کی ایک کتاب سے نمودار ہونے والا کردار مصنف کے لیے یہ ڈراما لکھنے کا محرک اور رہنما بنا۔ کہانی ’مانوس اجنبی‘ 6 اگست 2019 کو ’ہم سب‘ میں بھی شائع ہوئی۔
بساط کے بارے میں میرے دوست جاوید فیض (مرحوم) کی رائے تھی کہ یہ شاعری ہے۔ حنیف رامے صاحب نے کہا کہ ”یہ کتاب شاعری کی کتاب بھی ہے، کہانی بھی ہے، لیکن شاعری کرنے اور کہانی کہنے کا اسلوب ڈرامے کے قالب کو بنایا گیا ہے۔“ ایک مذاکرے میں پروفیسر مسز شمیم خیال نے کہا کہ ”یہ کتاب اس طرح پڑھی جائے گی جیسے آپ شاعری کی کسی کتاب کو پڑھتے ہیں۔ جملے مصرعوں کی طرح سے مصنف پر وارد ہوئے ہیں۔“ بہت عرصہ ہوا، میں نے ایک جگہ لکھا تھا کہ نثری نظم کو نظم کہنا کافی ہے۔
پڑھنے والا خود دیکھ لے گا کہ یہ وزن اور بحر سے آزاد ہے۔ اگر اس میں خیال اچھوتا اور الفاظ کی تنظیم متاثر کرنے والی ہے تو یہ اچھی بھی لگے گی اور یاد بھی رہے گی۔ اس کے مقابلے میں ایک گھسے پٹے مضمون والا یا عیب دار شعر نظرانداز کر دیا جائے گا۔ نظم کو منظم ضرور ہونا چاہیے، اس کا منظوم ہونا ضروری نہیں۔ ’نثری غزل‘ بھی ’نثری نظم‘ ہی ہوتی ہے، اوزان اور بحور سے آزاد اگرچہ قافیہ ردیف لیے ہوئے۔ میرے دوسرے شعری مجموعے، ”چمن کوئی بھی ہو“ ( 2009 ) میں دو نثری نظمیں بھی تھیں۔
جدید نثری نظم کے نمایاں شاعر جمیل الرحمن کو ’بساط‘ اتنا اچھا لگا کہ انہوں نے اس پر ایک خوبصورت نظم ’شطرنج‘ لکھی اور اسے نئے قارئین تک پہنچانے کے لیے کاوش بھی کی۔ میرا بھی جی چاہا کہ بساط کو دوبارہ دیکھوں، جیسے یہ کسی اور نے لکھا ہو۔ مجھے احساس ہوا کہ مکالموں میں جابجا نثری نظمیں پوشیدہ ہیں۔ اس کے بعد یہ نظمیں ابھر ابھر کر میرے سامنے آنے لگیں اور تقاضا کرنے لگیں کہ میں انہیں اپنے اگلے مجموعے میں جگہ دوں۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح انہیں زیادہ قارئین مل سکتے تھے۔ مجھے ’بساط‘ بہت عزیز ہے۔ میں اسے دائم آباد دیکھنا چاہتا ہوں۔ اسے پسند کرنے والوں کی بھی یہی خواہش ہے۔ سو میں اس کے مکالموں میں نہاں نظموں کی فرمائش کو ٹالتا رہا۔ آخر ایک دن انہوں نے ایک وفد کی صورت میں مجھے گھیر لیا اور اپنا مطالبہ دہرا یا۔
”تم ’بساط‘ میں خوش نہیں ہو کیا؟“ میں نے گھبرا کے پوچھا۔
”نہیں، ہمارا اصلی گھر تو ’بساط‘ ہی ہے۔“ ان کے ایک نمائندے نے جواب دیا۔
”پھر؟“ میں نے کہا۔
”جیسے مانوس اجنبی بیک وقت شطرنج کی کتاب اور بساط میں رہتا ہے اسی طرح ہم بھی بیک وقت ’بساط‘ اور شاعری کی کتاب میں رہنا چاہتی ہیں۔“
”اوہ۔ یہ تو پوری تیاری کے ساتھ آئی تھیں۔“ میں نے سوچا۔ اور کچھ دیر بعد میرے دلائل واقعی کمزور پڑنے لگے۔ بالآخر میں یہ سوچ کر انہیں ایک موقع دینے پر راضی ہو گیا کہ ڈراما اور شاعری ایسے پڑوسی ہیں جن کے بیچ سرحد نہیں کھینچی جا سکتی۔ ’نظمیں‘ خوش خوش ’اپنے گھر‘ چلی گئیں۔
میں نے ان نظموں میں سے چند کا انتخاب کیا اور اپنے زیر ترتیب شعری مجموعے کے مسودے میں شامل کر لیا۔ یہ بات کسی طرح پوری ’بساط‘ میں پھیل گئی۔ اب تو آئے دن کوئی نہ کوئی ’نظم‘ کسی مکالمے سے نکل آتی اور ”سیر کے واسطے تھوڑی سی جگہ اور“ مانگتی۔ میں کہ مساوی حقوق کا پرانا علمبردار تھا، اس کی بات مان لیتا۔ جب پچیس نظمیں ’بن‘ گئیں تو میرے اندر شطرنج کا کھلاڑی پھر سے جاگ اٹھا۔ مجھے پہلی بار تشویش کی بجائے خوشی ہوئی، یہ سوچ کر کہ اگر ان کی تعداد شطرنج کی بساط کے بتیس مہروں کے برابر ہو جائے تو خوب ہو۔
اب مجھے نئی نظموں کا انتظار رہنے لگا۔ لیکن گلشن ناآفریدہ کی نظموں کو جیسے میری خواہش کا علم ہو گیا، سو انہوں نے نخرے دکھانا شروع کر دیے۔ اب بے تاب و بے صبر ہونے کی باری میری تھی۔ میں نے کچھ مکالموں سے کچھ نظموں کو نکالنا چاہا تو انہوں نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ وہ جہاں تھیں بس وہیں ٹھیک تھیں۔ کمال ہو گیا یہ تو ۔ پھر میں نے بھی کہا کہ نہیں تو نا سہی، مجھے کیا فرق پڑتا ہے۔ میں تو پچیس کے بھی حق میں نہیں تھا۔ لیجیے جناب، ادھر میں بے نیاز ہوا ادھر نظمیں پھر سے متحرک ہو گئیں۔ کچھ عرصے بعد ایک ریلہ آیا اور ان کی تعداد پچاس سے تجاوز کر گئی۔ اب مجھے باقاعدہ پریشانی لاحق ہوئی۔ میرے مسودے میں تو غزلیں اور نظمیں اتنی نہیں تھیں۔ سارا توازن بگڑتا نظر آیا۔
”چونسٹھ تک ٹھیک ہے، شطرنج کی بساط کے چونسٹھ خانوں کے برابر۔ ہر نظم کے لیے ایک گھر۔ تم جانتے ہو بساط کے خانوں کو گھر بھی کہتے ہیں، گھوڑے کی چال ڈھائی گھر ہوتی ہے۔“ شطرنج کا کھلاڑی بولے چلا جا رہا تھا۔
”تمہیں تو شطرنج کی بات کرنے کا موقع چاہیے۔ میرا مسودہ خراب ہو رہا ہے۔“ میں نے کہا۔
”کون سا مسودہ؟“ اس نے معصومیت سے پوچھا۔
”کون سا مسودہ۔ بھولے مت بنو۔ بتیس چونسٹھ کے چکر سے نکل بھی آیا کرو کبھی۔“ میں نے احتجاج کیا۔
”میرا مطلب ہے تمہارا کون سا مسودہ خراب ہو رہا ہے۔ اگر تمہاری مراد اپنی غزلوں اور نظموں سے ہے تو ان کا ان نظموں سے کیا لینا دینا؟“
”کمال ہے، انہیں کے ساتھ شامل ہونے کی تو بات کی تھی ان نظموں نے۔“ میں نے وضاحت کی۔
”وہ تو بہت شروع کی بات تھی۔ اس وقت انہیں نہ تو اپنی نوعیت کا پتا تھا نہ تعداد کا ۔“ اس نے کہا۔
”یعنی؟“
”یعنی یہ کہ انہیں ایک کتاب چاہیے، وہ انہیں دے دو ۔ باقی اپنی غزلوں نظموں کا جو چاہو کرو۔“
”اچھا چلو، میری غزلیں نظمیں تو محفوظ رہیں لیکن میری بساط تو خالی ہو جائے گی۔“ میں نے تشویش کا اظہار کیا۔
”تمہیں یہ وہم کیوں ہو رہا ہے کہ یہ تمہاری ’بساط‘ کے مکالمے ہیں۔ یہ ان کے ہمزاد ہیں۔ ذرا انہیں ان کے ساتھ رکھ کے دیکھو، فرق نظر آ جائے گا۔ اور ان میں استعمال کیے گئے الفاظ کی تعداد بساط کے الفاظ کے دس بارہ فیصد سے زیادہ نہیں ہو گی۔ ڈراما کچھ ایسے مکالموں، جملوں اور الفاظ کا متقاضی ہوتا ہے جو نظم کے لیے زائد ہوتے ہیں۔ اسی طرح کچھ الفاظ جو نظم کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں ڈرامے میں بے محل لگیں گے۔ اب یہ بات تمہیں میں سمجھاؤں گا؟
شاعر تم ہو کہ میں؟ ’بساط‘ زندگی کی بساط ہے۔ اس میں مصوروں کو اپنی تصویریں، مجسمہ سازوں کو مجسمے، موسیقاروں کو نغمے، فلسفیوں کو فلسفے، سیاست دانوں کو منشور اور شاعروں کو نظمیں ملیں گی۔ زندگی چلتی رہے گی، بساط بچھی رہے گی۔ ڈراما ’بساط‘ کے مکالمے اپنی جگہ جم چکے ہیں۔ انہیں کچھ نہیں ہونے والا۔ ستائیس سال ہو گئے انہیں وجود میں آئے۔ ویسے کے ویسے ہیں اب بھی۔“ اس نے کہا۔
” ستائیس سال۔“ مجھے کچھ یاد سا آنے لگا۔ میں نے کھلاڑی کو غور سے دیکھا۔ ”ارے۔ تم! ؟“
”ہاں، میں۔ میں بھی سوچ رہا تھا کہ آخر تم کب تک مجھے نہیں پہچانتے۔“ مانوس اجنبی نے قہقہہ لگایا۔
”تم کتنا بدل گئے ہو۔“
”میں نے تمہیں بتایا تھا کہ میں نے بہت طویل عمر پائی تھی۔ کوئی میری عمر کے جس حصے کے بارے میں سوچے گا، میں اسے ویسا ہی نظر آؤں گا جیسے میں اس وقت تھا۔“
”تم چلے کہاں گئے تھے؟“ میں نے پوچھا۔
”یہ سوال تم نے تب بھی کیا تھا اور میرا جواب تھا کہ میرا وجود زمان و مکان کی قید سے ماورا ہے۔ کہاں جانا تھا میں نے۔ میں یہیں تھا، تمہارے آس پاس۔“ اس نے کہا۔
” کم از کم یہ تو بتا دیتے کبھی کہ تمہیں شطرنج کی کتاب سے آزاد کرانے کے بعد میں نے تمہارے لیے جو گھر بنایا تھا تم نے اسے ویسا ہی پایا جیسا تم چاہتے تھے؟ تم اس میں خوش ہو؟ آرام سے ہو؟ اپنی مرضی سے آ جا سکتے ہو؟ دوسرے تم سے ملنے آسکتے ہیں؟“
”میں چاہتا تھا کہ تمہیں خود سے پتہ چلنا چاہیے۔ اس گھر میں آنے جانے والے تمہیں بتائیں۔ “
”لیکن اس سے میری تسلی تو نہیں ہو سکتی تھی۔“
”یہ تسلی نہ ہونے ہی میں تو لطف ہے۔“
”پھر آج یہ مہربانی کیسی؟“
”مجبوری۔ اس وقت تمہیں اپنی کہانی کا یقین دلانا تھا، آج ان نظموں کے بارے میں تمہاری بدگمانی دور کرنا ہے۔“ مانوس اجنبی نے کہا۔ اس کی باتیں آج بھی میری سمجھ میں آدھی آ رہی تھیں آدھی نہیں۔
جسٹس کارنیلیس نے کہا تھا کہ جیسے قاری کتاب کو ڈھونڈتا ہے اسی طرح کتاب بھی قاری کو ڈھونڈتی ہے۔ اس خیال سے کہ میں ان نظموں کی راہ میں رکاوٹ نہ بنوں میں نے انہیں شاعری کے قارئین کے سامنے پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ اگر انہیں ان میں سے چند نظمیں بھی پسند آ گئیں تو میں سمجھوں گا کہ ان نظموں کی جدوجہد رائگاں نہیں گئی۔ میں نے ان کی ترتیب ویسے ہی رہنے دی تھی جس ترتیب سے ان کے ہمزاد ’بساط‘ میں ہیں اور سب کو ایک مشترکہ عنوان دے دیا : چونسٹھ خانے چونسٹھ نظمیں۔ بعد ازاں، جب ساجد علی نے موضوعات کی مناسبت سے ان کی ترتیب بدلی تو مجھے دل سے پسند آئی۔ شکریہ ساجد۔
(یہ تحریر قدرے مختلف صورت میں مصنف کے شعری مجموعے ’چونسٹھ خانے چونسٹھ نظمیں‘ ۔ ( 2015 ) کے دیباچے کے طور پر شائع ہوئی۔ مشمولہ شجر ہونے تک۔ 2015 ء)


