جبری گمشدگی اور عدالت عالیہ کا فیصلہ
ریاست کی طرف سے شہریوں کی جبری گم شدگی ایک عالمی مسئلہ ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی قانون کے تحت کسی شہری کو گم شدہ کر دینا ایک جرم ہے مگر اس کے باوجود پچھلی ایک دہائی میں سو سے زیادہ ممالک میں ہزاروں شہریوں کی جبری گمشدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ جن ممالک پر جبری گم شدگی کا الزام لگایا جاتا ہے ان میں ایران، عراق، پاکستان، سری لنکا، ایتھوپیا، چلی، امریکہ، شام، انڈیا، روس، اور بنگلہ دیش نمایاں ہیں۔
پاکستان میں شہریوں کی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ مشرف حکومت کے دور میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد شروع ہوا تھا جو بعد کی حکومتوں میں بھی نہ رکا۔ الٹا گمشدہ لوگوں کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستان میں مسنگ پرسنز یا گمشدہ افراد کی کثیر تعداد بلوچستان سے تعلق رکھتی ہے۔ جبری گمشدگیوں کے شکار لوگوں میں بلوچ علیحدگی پسند، قوم پرست سیاست دان، طالب علم، انسانی حقوق کے لئے آواز اٹھانے والے، پروفیسرز، ڈاکٹرز، بلاگرز، اور صحافیوں کے علاوہ، بلاسفیمی کے ملزم تک شامل ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق جبری گم شدہ لوگوں کی تعداد اس وقت بھی دو ہزار سے کچھ اوپر ہی ہے۔ اور ستم بالائے ستم یہ کہ اس ضمن میں ریاست نے مرد و زن میں بھی کوئی تخصیص نہیں رکھی اور کئی بلوچ خواتین کو بھی جبری گم شدگی کا نشانہ بنایا گیا۔
حال ہی میں ایک بلوچ طالب علم کو یونیورسٹی کے سامنے سے اٹھائے جانے کی ویڈیو وائرل بھی ہوئی مگر اس کے باوجود اس بیچارے کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا۔ اگرچہ ایسی تمام تر گمشدگیاں ملکی سلامتی کی آڑ میں کی جاتی ہیں مگر حقیقت میں گم شدہ لوگوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کا ملک دشمن سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ جیسا کہ پروفیسر سلمان حیدر جیسے لوگ جنہیں فقط حکومت وقت اور ریاستی اداروں کی بے لگام حرکتوں پر تنقید کرنے کے جرم میں اغوا کیا گیا۔
حکومت نے 2011 میں ایک کمیشن بنایا جس کے ذمہ جبری گمشدہ شہریوں کے واقعات کی تفتیش کا کام لگایا گیا مگر بوجوہ اس کمیشن کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے۔ اور اس کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ بادی النظر میں جبری گم شدگی کے جرم میں ریاستی ادارے بشمول فوج کے ذیلی خفیہ اداروں کے علاوہ ایف آئی اے اور آئی بی، وغیرہ ملوث رہے ہیں، جن کے آگے کسی بھی سول ادارے کا کوئی بس نہیں چل سکتا۔
کسی بھی شہری کی جبری گم شدگی اس کے خاندان کے باقی لوگوں پر بہت برے اثرات چھوڑتی ہے۔ زینت شہزادی ایک چوبیس سالہ صحافی تھی جو مسنگ پرسنز کیس پر کام کر رہی تھی اسے، 2015 میں اٹھایا گیا جس پر اس کے چھوٹے بھائی نے خود کشی کر لی تھی۔ اور یہ اس نوعیت کا واحد واقعہ نہیں ہے۔ کوئی اندازہ کر سکتا ہے کہ جب کسی شخص کو یہ پتہ نہ چل رہا ہو کہ اس کا پیارا کس نامعلوم مقام پر نامعلوم ایجنسیوں کے رحم و کرم پر ہے، اور پتہ نہیں کہ زندہ ہے بھی یا نہیں، ایسے میں مسنگ پرسن کے خاندان والے روز جیتے ہیں، روز مرتے ہیں، ان لوگوں نے انصاف کے لئے ہر در پر دستک دے کر دیکھ لیا۔
بلوچستان سے اسلام آباد تک پیدل مارچ بھی کیے ، حکومت اور اپوزیشن کے سیاست دانوں کے منتیں بھی کیں عدالتوں کے دروازے بھی کھٹکھٹائے پریس کلبوں کے باہر بھی اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا، رو کر، عاجزی سے، گڑگڑاتے ہوئے اپنے پیاروں کے بنیادی حق کے لئے درخواست گزر ہوئے، غرض یہ کہ قانون کے دائرے میں رہ کر ہر تدبیر کر ڈالی، مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ مسئلہ آج بھی شد و مد کے ساتھ ملک کے آئین کا تمسخر اڑاتا، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا منہ چڑاتا کھڑا نظر آتا ہے۔
حسیبہ قنبرانی کسے بھول سکتی ہے جس نے اپنے بھائی اور کزن کی جبری گمشدگی پر رو رو کر گڑگڑاتے ہوئے ارباب اختیار کو انصاف کے لئے دہائی دی تھی مگر کسی کے کان میں جوں رینگنا تھی نہ رینگی۔ حسیبہ کی دہائی سن کر پتھر سے پتھر دل بھی دہل گئے ہوں گے مگر جن پر اثر ہونا چاہیے ان ظالم انسان نما درندوں پر یا اس ناگن ریاست پر جو اپنے ہی بچوں کو کھا جاتی ہے، کوئی اثر نہیں ہوا۔
ریاست ہے کہ ناگن، کیا بلا ہے
یہ کب چھوڑے گی اپنے بچے کھانا
اس سلسلے میں خطرناک بات یہ ہے کہ جبری گم شدگی کو ریاست، حکومت وقت یا ریاستی اداروں کے کرتوتوں پر بات کرنے والوں کے ساتھ ساتھ اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف بھی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، مگر ملکی سلامتی کی آڑ میں۔ ایک لمحے کو اگر فرض کر بھی لیا جائے کہ جبری طور پر گم شدہ کیے جانے والے سب افراد ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں پھر بھی یہ سوال اپنی جگہ پوری شد و مد کے ساتھ اٹھتا ہے کہ ایک ریاست ہے، جو بہ ظاہر بنانا ری پبلک نہیں۔ اس کا ایک قانون ہے، جس میں ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کے نمٹنے کا طریقہ کار بھی متعین ہے، پھر ریاستی ادارے غیر قانونی اور غیر انسانی راستہ کیوں اختیار کرتے ہیں؟
ایسی قانون شکنی کرنے والے ادارے کے افسران و کارکنان پر چیک اینڈ بیلنس اور جواب دہی کا مربوط اور موثر نظام کیوں نہیں ہے؟ اس سوال کا جواب ہمیں معلوم ہے۔ اور وہ جواب بہت تکلیف دہ ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کے لئے قابل شرم بھی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ ملک عزیز میں ریاستی ادارے، جو ریاست کے اندر ایک ڈیپ سٹیٹ کی مانند ہیں، کے افسران و اہل کاران کے آگے کسی بلڈی سویلین کی کوئی اوقات نہیں۔
آئینی طور پر اگرچہ یہ ادارے سول حکومت کو جواب دہ ہیں، مگر یہ وہی آئین ہے جسے ایک سریا پروئی گردن والے جنرل نے بڑی حقارت سے کہا تھا کہ آئین کیا ہے محض ایک کاغذ کا ٹکڑا ہی تو ہے۔ تو اس ڈھیلے ڈھالے آئین کو، جس کا پھندا کبھی کسی وردی پوش کی سیارہ کاریوں کے باوجود اس کی گردن نہیں ناپ سکا، ہمیشہ کسی سویلین کی پھنس جانے والی پتلی سی گردن ہی راس آتی ہے۔
دل میں جما ہوا یہ کب کا غبار تھا جو آج اسلام آباد ہائی کورٹ کے مسنگ پرسنز والے کیس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے کے چیدہ چیدہ نکات پر ایک ٹی وی رپورٹ دیکھ کر نکل پڑا۔ ہمیں تو سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا رد عمل دیا جائے۔ آدھے سے زیادہ فیصلہ تو ایک رپورتاژ کا تاثر دیتا ہے۔ جس میں جج صاحب بتا رہے ہی کہ تب یہ ہوا، اب یہ ہوا، کب کیا ہوا۔ پھر کہتے ہیں کہ مشرف اور اس کے بعد آنے والے تمام چیف ایگزیکٹوز اور وزرائے اعلی کے خلاف نوٹس جاری کیے جائیں کہ انہوں نے مسنگ پرسنز کے معاملے کو کیوں نہ سلجھایا۔
وہ اس بے عملی کے لئے سزا کے تعین کی بھی بات کر رہے ہیں۔ مگر طرفہ تماشا یہ ہے کہ جو ادارے، اور ان کے افسران اور اہل کاران ان حرکتوں میں ملوث ہیں ان کے بارے میں کوئی حکم سناتے ہوئے جج صاحب کے قلم کا نب شاید کام کرنا چھوڑ گیا یا اگر فیصلہ سٹینو کو ڈکٹیٹ کروا رہے تھے تو اس موقع پر ان کی زبان پر مصلحت کا تالا لگ گیا تھا کہ اس بارے کوئی ارشاد نہیں ہوا کہ جو اس غیر قانونی کام میں براہ راست ملوث ہیں، ان کے لئے کیا حکم ہے؟ عدالت عالیہ بھی سویلین اداروں اور اہل کاروں کو ہی دھمکا سکتی ہے، وردی پوشوں اور پراسرار بندوں / خلائی مخلوق کا نام آتے ہی عدالت عالیہ بے زبان ہو جاتی ہے۔
داستاں مختصر ہماری ہے
بے قراری تھی، بے قراری ہے
زندگی اس طرح گزاری ہے
سسکیاں ہیں یا آہ و زری ہے
درد پہلے بھی تھے عطا تیری
چشمہ فیض اب بھی جاری ہے
اور کیا تھا جو ہارتے مظہر
اک فقط زندگی، سو ہاری ہے


