دورہ اسرائیل: الزامات اور حقائق


پاکستان کی اسرائیل سے متعلق ریاستی پالیسی عدم تعلقات کی ہے کیونکہ اسرائیل کو فلسطینیوں کے علاقوں میں زبردستی بسایا گیا ہے اس لیے پاکستان اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا اور فلسطینیوں کی جنگ آزادی میں ان کی حمایت کرتا ہے۔ اسی اصول کی بنیاد پر ریاستی سطح پر پاکستان کے اسرائیل سے تعلقات نہیں ہیں۔ پاکستانی پاسپورٹ پر بھی اس حوالہ سے وضاحت موجود ہے۔

کوئی پاکستانی بلاواسطہ اسرائیل کا سفر نہیں کر سکتا، کوئی بلاواسطہ (ڈائریکٹ) فلائٹ اسرائیل نہیں جاتی، تاہم کسی دوسرے ملک سے اسرائیل کا سفر جا سکتا ہے، احمد قریشی کے مطابق جب کوئی پاکستانی اسرائیل پہنچتا ہے تو اس سے پاکستانی پاسپورٹ لے کر ایک کاغذ دے دیا جاتا ہے جس کی بنیاد پر وہ اسرائیل میں سرگرمیاں کر سکتا ہے۔

پاکستان میں یہودی کمیونٹی موجود ہے (کراچی میں) ۔ سابقہ حکومت نے ان یہودیوں کو اسرائیل جانے کی اجازت دی ہے۔ موجودہ دورہ میں ایسا ایک پاکستانی یہودی بھی شریک سفر تھا۔ کسی اسرائیلی (یہودی) شہری کو پاکستان میں آنے اور یہاں کی شہریت حاصل کرنے کی اجازت نہیں تاہم جو یہودی شروع سے پاکستان میں بستے ہیں ان کے حقوق سے متعلق ریاست کی پالیسی مختلف ہے۔

کچھ دن سے کہا یہ جا رہا ہے کہ پاکستانیوں کا وفد اسرائیلی صدر سے ملا ہے، اسرائیلی صدر نے اس ملاقات کی تصدیق بھی کی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور سینئر رکن شیریں مزاری نے اس حوالہ سے موجودہ حکومت پر اعتراض کیا ہے کہ ان کی سرپرستی میں اسرائیل وفد گیا ہے اور اسرائیل سے تعلقات کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

پاکستان کی موجودہ حکومت نے سرکاری سطح پر کسی وفد کے اسرائیل جانے کی تردید کی ہے اور اسرائیل سے متعلق ریاستی پالیسی واضح کی ہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔ حکومت کی اس وضاحت کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیل جانے والے وفد کی حیثیت کیا ہے اور اس وفد میں کون لوگ شامل ہیں؟

کچھ پاکستانی جو امریکی شہری ہیں نے اسرائیل کا دورہ کیا وہ سب پاکستانی، انہوں نے بطور پاکستانی شہری اسرائیل کا دورہ نہیں کیا، بطور امریکی شہری آزاد دورہ کیا ہے، ان میں سے ایک فرد کا نام احمد قریشی ہے جو پاکستان ٹیلی ویژن کے ایک پروگرام کو ہوسٹ کرتے تھے، احمد قریشی پی ٹی وی کے ملازم نہیں بلکہ معاہد ہیں، اس واقعہ کے بعد موجودہ حکومت نے احمد قریشی کو پی ٹی وی پروگرام کی میزبانی سے الگ کر دیا ہے۔ احمد قریشی کے مطابق ان کا دورہ کا پاکستانی حکومت یا حکمرانوں سے کوئی تعلق نہیں۔

احمد قریشی اور ان کے ہمراہیوں نے جیو نیوز کے پروگرام میں میزبان منیب کے سوالات کے جواب میں اسرائیلی دورے سے متعلق وضاحت کی ہے جس کا خلاصہ یہی ہے کہ اس دورے کا پاکستان یا پاکستانی شہریوں سے تعلق نہیں ہے۔

اس دورہ سے اسرائیل جن مقاصد کو حاصل کرنا چاہتا تھا وہ کسی حد تک پورے ہوئے ہیں، دنیا بھر کے مسلم ممالک بالخصوص فلسطین کو یہ تاثر گیا ہے کہ پاکستان اسرائیل سے تعلقات ہموار کرنا چاہتا ہے۔

احمد قریشی کے پاکستان میں مختلف سیاسی اور عسکری روابط ہیں، ان روابط کی بنیاد پر بے بنیاد اڑائی گئیں کہ مسلم لیگ نے انہیں بھیجا یا افواج پاکستان کی پالیسی یہ ہے۔ وضاحت آ جانے کے بعد کسی سیاسی جماعت اور حکومت پر اسرائیل سے تعلقات ہموار کرنے کا الزام درست نہیں۔

مختلف حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کی اسرائیل سے تعلقات کے حوالہ سے پالیسیز مختلف رہی ہیں۔ میرے مطالعہ کی حد تک کوئی حکومت یا کوئی سیاسی جماعت اسرائیل سے تعلقات کے حق میں نہیں البتہ مختلف سیاسی جماعتوں میں ایسے ارکان پائے جاتے ہیں جو اسرائیل سے تعلقات کو درست سمجھتے ہیں، عمران خان صاحب کی وزارت عظمی کے دوران ان کی جماعت کی رکن پارلیمنٹ نے اجلاس کے دوران اسرائیل سے تعلقات کے لیے دلائل دیے، اسی طرح اور کئی افراد جو لبرل سوچ رکھتے ہیں وہ بھی اس حوالہ سے لچک رکھتے ہیں لیکن ردعمل کی وجہ سے اپنے نظریات کا کھل کا اظہار نہیں کرتے۔

جہاں تک مذہبی جماعتوں اور ان کے سربراہان کا تعلق ہے تو ان سے متعلق ایسے الزامات کی کوئی وقعت نہیں ہے، سیاسی جماعتوں کی باہمی مخالفت کی بنیاد پر پراپیگنڈہ نہیں کرنا چاہیے جس سے ملک کا وقار مجروح ہو۔

Facebook Comments HS