کشمیر کی آزادی اور حریت رہنما یاسین ملک


”میری قوم غلام ہے یہ بات مجھے اس وقت محسوس ہوئی جب میں چھوٹا سا بچہ تھا۔ ہمارے علاقے میں انڈین آرمی جب ریڈ لگا رہی تھی تو ان کے ساتھ موجود ڈرائیور نے شراب پی ہوئی تھی۔ اس نے مقامی لوگوں کو گالیاں دی تو کسی نے اس کو تھپڑ رسید دیا۔ اس کے بعد شام کو انڈین آرمی آئی اور پورے علاقے کے لوگوں کو مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔ لوگوں کے مویشی خانوں، مرغی خانوں اور دکانوں کو جلا دیا۔ میں چھوٹا سا تھا اور ڈر کی وجہ سے پاس ہی ایک ٹین کے کیبن میں چھپ گیا۔ میری زندگی تھی میں بچ گیا ورنہ میں بھی جل چکا ہوتا۔ اس کے بعد چھوٹی سی عمر میں مجھے احساس ہوا کہ میری قوم آزاد نہیں بلکہ غلام ہے۔“ یہ وہ دن تھا جس نے اس حریت پسند رہنما کو ایک سکھ اور آرام کی زندگی گزارنے کی بجائے اپنی قوم کی آزادی کے لئے ایک باغیانہ زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیا۔

ضمیر کے قیدی لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک جنہوں نے بہت اوائل ہی سے کشمیریوں کی خود ارادیت کے لئے جدوجہد کی اور اپنی پوری زندگی اس کاز کے لئے وقف کردی۔ اس کو اپنے مقاصد سے ہٹانے کے لئے جان لیوا حملے بھی ہوئے، جیلوں میں بھی ڈالا گیا، دوائی اور علاج پر پابندی بھی لگائی گئی، بدترین تشدد سے بھی گزارا گیا لیکن ان کے عظم و ہمت میں کبھی بھی کمی نہیں آئی۔ غاصب ملک ان تمام ہتھکنڈوں کے باوجود ان کے ارادوں کو کبھی توڑ نہیں سکا اور وہ اپنی قوم کی آزادی کے لئے چٹان کی طرح کھڑے رہے۔

مودی کی فاشسٹ حکومت نے ریاست جموں کشمیر کے آرٹیکل 370 اور 35 A کو ختم کر کے مکمل طور پر جموں کشمیر کو بھارت میں ضم کر دیا۔ اس طرح ایک بڑی مسلم اکثریتی ریاست کو قید خانہ میں تبدیل کر دیا گیا۔

جموں کشمیر کے حریت پسند رہنما یاسین ملک نے اپنی جدوجہد کا آغاز نیشنل کانفرنس کی مخالفت سے شروع کی۔ آزادی کی جدوجہد کے لئے جے کے ایل ایف میں بھی شامل ہو گئے۔ 1994 ء کے بعد یاسین ملک کے خیالات میں مکمل تبدیلی آئی۔ انہوں نے خودارادیت کی جدوجہد کے لئے عدم تشدد کا راستہ اختیار کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ دنیا مسئلہ کشمیر کو سمجھے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق امن اور بات چیت کے ذریعے کشمیریوں کو خود ارادیت دے۔

کشمیری لوگ بھی دوسری قوموں کی طرح اپنا ایک آزاد ملک بنانے میں کامیاب ہو جائیں۔ اس سلسلے میں یاسین ملک نے پرامن طریقے سے مسئلہ کشمیر کا حل نکالنے کے لئے بات چیت کا سلسلہ شروع کیا۔ دنیا بھر کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کی۔ ان سب کو مسئلہ کشمیر اور خود ارادیت کے پیغام کو بڑے موثر اور جاندار طریقے سے پہنچاتے رہے۔ اپنی قوم کے خلاف انڈین آرمی کے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے پر آپ کو بار بار جیل میں بھیجا، نظر بند کر دیا گیا۔

25 مئی 2022 ء کو انڈیا کی قومی تحقیقاتی خصوصی عدالت نے تیس سالہ پرانے کیس کو بنیاد بنا کر یاسین ملک پر الزام لگایا کہ وہ اور اس کے ساتھی انڈین فضائیہ کے چار اہلکاروں کو مارنے کے ذمہ دار ہیں۔ یاسین ملک پر فرد جرم عائد کرنے کا دوسرا بڑا الزام دہشت گردوں کی مالی معاونت کا تھا۔ اس خصوصی عدالت نے ان الزامات کے بنیاد پر یاسین ملک کو دو بار عمر قید کی سزا دی اور دس لاکھ بھارتی روپیہ کا جرمانہ بھی عائد کر دیا۔

آج پوری کشمیری قیادت پابند سلاسل ہے۔ کشمیر کی آزادی کو ظلم اور جبر سے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کشمیری قیادت پر من گھڑت الزامات لگا کر کیسز بنائے جا رہے ہیں۔ آج انڈیا کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے کی بجائے ریاستی دہشت گردی پر اتر آیا ہے۔ آج کے اس دور میں کسی بھی قوم کے حق خودارادیت کو جبر اور طاقت سے نہیں دبایا جا سکتا۔ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی آزادی کی تحریکیں ہو ان کی حمایت کی جائے۔ کشمیریوں کو بھی یہ بنیادی حق حاصل ہے کہ وہ غاصب حکومت کے خلاف اپنی آزادی تک جدوجہد کو جاری رکھیں۔

آج یاسین ملک نے انڈیا کی کینگرو کورٹ کے کٹہرے میں اپنے اوپر لگائے گئے الزامات سے انکار نہیں کیا نہ ہی کسی وکیل کا سہارا لیا کیونکہ اس کا ضمیر مطمئن تھا۔ اس کی ضمیر کی عدالت اس کی اس جدوجہد کو صحیح اور حق پر سمجھتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اس کو کسی عدالت کے سامنے انکار کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔ یاسین ملک اپنی قوم کے وہ سچے لیڈر ہیں جو اس بات کو جانتے ہیں کہ اس نے آج تک جو جدوجہد کی ہیں وہی سچائی ہے۔ اس جدوجہد کی پرامن دنیا حمایت کرتی ہے۔ یاسین ملک کی عمر قید کی سزاء بھی حریت کی ایک علامت ہے۔

دنیا کو اس پرامن تحریک کی حمایت کر کے کشمیری لوگوں کو استصواب رائے کا حق دلوانا چاہیے۔ حالانکہ دنیا میں سکاٹ لینڈ اور کینیڈا میں سپینش لوگوں کی اس طرح کی تحریکوں کو استصواب رائے کا حق حاصل ہوا ہے۔ لیکن انڈیا نے فوج کشی کر کے 74 سالوں سے اس حق کو دبا دیا ہے۔ انڈیا ایک بڑا ملک ہونے کی وجہ سے بڑی طاقتیں اپنے مفادات کی خاطر کشمیر کی آزادی کی تحریک کو نظر انداز کرتے رہے ہیں اور اتنی بڑی جمہوریت کے دعوہ دار بھارت کو کھلی چھٹی دے رکھی ہیں کہ وہ اس کشمیری ریاست کے عوام کی رائے کو اہمیت دینے کی بجائے اپنی مرضی کے تسلط اور بربریت کو قائم رکھے۔

آج انڈیا کے خلاف آواز اٹھانے والے لیڈروں کے خلاف خصوصی عدالتوں کے ذریعے مقدمے بنا کر ان کو جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔ یاسین ملک دہشت گرد نہیں بلکہ اس کو یک طرفہ اور طاقت کے زور پر دشت گرد ثابت کیا گیا ہے۔ کیا آج بھی دنیا میں صرف طاقت کا بول بالا ہے؟ کمزور سچائی پہ ہونے کے باوجود اس کو دبایا جاتا ہے اور طاقت ور اپنی وحشت اور بربریت کے ساتھ آج بھی طاقتور ہے اور دندنا رہا ہے۔

دنیا اس بات کا فیصلہ کرے کہ دہشت گرد کون ہوتا ہے؟ کہ جو اپنی خود ارادیت اور آزادی کے لئے پہاڑوں میدانوں اور سفارتی محاذوں پر اپنی قوم کی بھرپور نمائندگی کرے اور لڑے یا وہ ریاست جو جبر اور ظلم سے مسلط ہو۔ جو لوگوں کی آوازوں کو دبائے، نہتے شہریوں پر بے بہا مظالم اور تشدد کریے، استصواب رائے کا حق نہ دے۔ ریاستی لوگوں کی مرضی اور اقوام متحدہ کے قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آرٹیکل 370 اور 35 A کو ختم کرے، آزادی کے حریت پسند رہنماؤں پر دشت گردی کے من پسند الزامات لگائے اور ان کو عمر قید یا پھانسی کی سزائے سنائے؟

Facebook Comments HS

One thought on “کشمیر کی آزادی اور حریت رہنما یاسین ملک

  • 02/06/2022 at 1:09 شام
    Permalink

    Good

Comments are closed.