جانی ڈیپ بمقابلہ ایمبر ہرڈ: ہتکِ عزت کے مقدمے میں جانی ڈیپ کی جیت میں کلیدی کردار ادا کرنے والی وکیل کیملے ویسکوئز کون ہیں؟


ڈیپ
ایک امریکی جیوری نے قرار دیا ہے کہ ہالی وڈ اداکارہ ایمبر ہرڈ نے اپنے سابقہ شوہر اور اداکار جانی ڈیپ کو ایک مضمون میں بدنام کیا تھا جس میں انھوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ گھریلو تشدد کا شکار رہی ہیں۔

جانی ڈیپ ایمبر ہرڈ پر تشدد کرنے کے الزام کی تردید کرتے آئے ہیں اور جیوررز نے جانی ڈیپ کو ہرجانے کی مد میں ایک کروڑ پچاس لاکھ ڈالر (12 ملین پاؤنڈ) ادا کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

دوسری جانب، 36 سالہ ایمبر ہرڈ نے 58 سالہ ڈیپ کے خلاف دائر کردہ تین دعوؤں میں سے ایک جیتا ہے اور انھیں اس کی مد میں 20 لاکھ ڈالر ہرجانے کی صورت میں ادا کیے جائیں گے۔

دونوں ہالی ووڈ اداکاروں کے درمیان سنہ 2017 میں طلاق ہو گئی تھی اور مقدمے کی سماعت کے دوران انھوں نے اپنے تعلقات کے بارے میں خاصی تکلیف دہ تفصیلات بتائیں۔

چھ ہفتوں کے دوران فیئر فیکس، ورجینیا کی عدالت نے ڈیپ اور ہرڈ کی شادی کے دوران ان کے ناخوشگوار تجربات کے حوالے سے تفصیلات سنیں۔

تقریباً دو دن کے غور و خوض کے بعد جیوری کے اراکین نے بدھ کے روز فیصلہ دیا کہ ہرڈ کے اپنی شادی کے بارے میں بیانات ’جھوٹے‘ تھے اور انھوں نے ’بددیانتی‘ سے کام لیا تھا۔

البتہ انھیں یہ بھی معلوم ہوا کہ جونی ڈیپ نے ہرڈ کو اس وقت بدنام کیا جب ان کے وکیل نے سنہ 2020 میں اخبار ڈیلی میل کو ایک بیان دیا تھا جس میں امبر کی جانب سے تشدد کے الزامات کو فراڈ قرار دیا گیا تھا۔

جونی ڈیپ کے ترجمان نے بتایا کہ وہ اپنی مصروفیات کے باعث عدالت میں نہیں آ سکے تاہم ان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘جیوری نے مجھے میری زندگی لوٹا دی۔ میں بہت شکر گزار ہوں۔’ انھوں نے لاطینی زبان کے الفاظ کا سہارا لیتے ہوئے لکھا کہ ’سچ کبھی چھپ نہیں سکتا۔‘

ہرڈ

دوسری جانب ایمبر ہرڈ جو عدالت میں موجود تھیں کی جانب سے اس فیصلے کے حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس فیصلے سے ان کا ’دل ٹوٹ گیا ہے‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ جیوری نے ان کی جانب سے دیے گئے شواہد کو نظر انداز کیا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے افسوس ہے کہ میں یہ مقدمہ ہار گئی ہوں لیکن مجھے اس سے زیادہ افسوس اس بات پر ہے کہ بطور امریکی جو حق میرا خیال تھا میرے پاس ہے یعنی آزادی اظہار رائے وہ میں نے کھو دیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’مجھے اس سے بھی زیادہ مایوسی اس بات پر ہے کہ اس فیصلے کا دوسری خواتین پر کیا اثر ہو گا۔ یہ ایک دھچکا ہے۔ یہ ہمیں اس وقت میں واپس لے گیا ہے جب ایک خاتون کو آزادی سے بولنے پر عوامی طور پر تضحیک کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔‘

تاہم اس مقدمے کے دوران جسے متعدد جائزوں کے مطابق یوکرین کی جنگ یا امریکی سپریم کورٹ میں اسقاط حمل کے تاریخی فیصلے سے زیادہ دلچسپی سے دیکھا جا رہا تھا میں ایک اور کردار کو بھی خاصی شہرت ملی ہے۔

وہ شخصیت جانی ڈیپ کی وکیل کیملے ویسکوئز ہیں جو سوشل میڈیا پر آرا تقسیم کر رہی ہیں۔ جہاں ایک جانب انھیں ایک سٹار کے طور بھی دیکھا جا رہا ہے اور ایک ولن کے طور پر بھی۔ آج عدالت میں جیوری کے فیصلے کے بعد بھی انھیں خاصا خوش دیکھا جا سکتا تھا۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس مقدمے کی کوریج کو ٹیلی ویژن پر دکھایا گیا اور سوشل میڈیا پر لائیو سٹریم کیا گیا تھا جسے اربوں افراد نے دیکھا اور اس حوالے سے تبصرے بھی کیے۔

ویسکوئز

جانی ڈیپ کی وکیل کیملے ویسکوئز کون ہیں؟

کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والی نوجوان وکیل نے کروڑوں افراد کی توجہ اس وقت حاصل کی جب وہ اپنے مؤکل اور بالی وڈ اداکار جانی ڈیپ کی اپنی سابقہ بیوی کے خلاف ہتکِ عزت کے مقدمے میں نمائندگی کر رہی تھیں۔

37 سالہ ویسکوئز اتفاقیہ اور نادانستہ طور پر اس شو کی شریک سٹار بن گئی ہیں اور انھیں ان کے کاٹ دار انداز کے باعث خاصی پذیرائی ملی ہے۔

سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر بھی گردش کر رہی ہیں جن میں ان کے مداحوں نے ان کا نام اپنی ٹی شرٹس پر لکھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی تعریف میں کئی ہیش ٹیگ بھی ٹرینڈ کرتے رہے ہیں۔

وکیل ویسکوئز کی جانب سے ایمبر ہرڈ کی وکیل کو ایک دو منٹ کی ویڈیو میں کئی مرتبہ ’آبجیکٹ‘ کہتے سنا جا سکتا ہے جو عدالت میں مخالف وکیل کی کسی بات پر باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرنے کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے۔ اس ویڈیو کو ٹک ٹاک پر کچھ ہی دنوں میں دو کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ افراد دیکھ چکے ہیں۔

اس وائرل ہونے والی ویڈیو کے بعد لوگوں نے سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی اپ لوڈ کرنا شروع کر دی ہیں جن میں وہ اپنے دوستوں یا خاندان میں ہونے والی کسی گفتگو کو ’آبجیکٹ‘ کر رہے ہیں۔ مجموعی طور پر #CamilleVasquez کے ساتھ اپ لوڈ کی گئی ویڈیوز کو اب تک کروڑوں افراد دیکھ چکے ہیں۔

ایک ٹویٹ میں ایک صارف نے لکھا کہ ’میں اب بھی جانی ڈیپ کا مداح ہوں لیکن ساتھ ہی اب میں کیملے ویسکوئز کا بھی مداح ہوں۔‘

ویسکوئز

ان کی شہرت کی وجہ کیا ہے؟

کیملے ویسکوئز سان فرانسسکو میں کولمبیئن اور کیوبن والدین کے ہاں پیدا ہوئی تھیں اور انھوں نے سنہ 2006 میں یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ سنہ 2010 میں وہ لاس اینجلس کے سدرن لا سکول سے فارغ التحصیل ہوئیں۔

گذشتہ چار برس کے دوران وہ براؤن رڈنک لا فرم کے ساتھ منسلک ہیں اور یہ فرم جانی ڈیپ کی ان کے ہتکِ عزت کے پانچ کروڑ ڈالر کے مقدمے میں نمائندگی کر رہی ہے۔ وہ ان نو وکلا میں سے ایک ہیں جو اس فرم کی جانب سے اس مقدمے کا حصہ ہیں۔

سنہ 2021 میں انھیں ’بیسٹ لائر‘ میگزین کی جانب سے ’متاثر کن‘ وکلا میں سے ایک قرار دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ایمبر ہرڈ بمقابلہ جونی ڈیپ: ہالی وڈ اداکاروں کے درمیان کروڑوں کے مقدمے میں چار بڑے انکشاف

جونی ڈیپ کی طلاق کئی ماہ کے اختلافات کے بعد طے پا گئی

’آخری بار کب ایک اداکار نے کسی صدر کو قتل کیا؟‘

وہ قانونی چارہ جوئی اور ثالثی کے عمل میں مہارت رکھتی ہیں اور اس حوالے سے ان کی زیادہ توجہ ہتکِ عزت کے مقدمات پر ہی ہوتی ہے۔

تاہم ان کے نئے مداحوں ویسکوئز کو شاید صرف ان کی جانب سے کی گئیں متعدد ’آبجیکشنز‘ اور ایمبر ہرڈ کے ساتھ ہونے والے مکالموں کے باعث جانتے ہیں۔

ان کی جانب سے امبر ہرڈ سے دو روز تک سوالات کیے جاتے رہے تاکہ ان کی جانب سے کیے گئے دعوؤں کو جیوری کی نظر میں مشکوک قرار دیا جا سکے اور وہ ان میں موجود تضادات کو دیکھ سکیں۔

ایک جگہ وہ ایمبر ہرڈ سے یہ بھی پوچھتی ہیں کہ ’جانی ڈیپ نے ہی آپ کو ایکوامین میں کردار دلوانے میں مدد کی، کیا ایسا نہیں ہے؟‘

ویسکوئز

ویسکوئز سے متعلق آرا منقسم کیوں؟

ویسکوئز کی جانب سے جانی ڈیپ کے بھرپور دفاع کے بعد خواتین پر جنسی تشدد اور ہراساں کیے جانے کے خلاف موجود مہم می ٹو موومنٹ میں بھی وہ موضوعِ بحث بن گئی ہیں۔

کچھ ناقدین نے ان پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے ہرڈ کی جانب سے تشدد کے الزامات کو بے بنیاد بنانے کی کوشش کی ہے اور وہ انھیں ماننے سے انکاری رہی ہیں۔

ایک صارف نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’کیملے ویسکوئز کی تعریف کی جانی چاہیے کہ انھوں نے دو گھنٹوں کے اندر فیمنزم کو 50 سال پیچھے کر دیا۔ تاریخ آپ کو اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرے گی۔‘

دوسری جانب ان کے مداح انھیں ایسے مرد جنھیں گھروں پر تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان کی آواز بننے پر شاباش دے رہے ہیں۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp