قرآنی آیات سے پیٹرول میں برکت


پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پوری دنیا ہی پریشان ہے۔ پاکستان زیادہ مشکل صورت حال میں ہے کیوں کہ پیٹرول خریدنے کے لئے ادائیگی ڈالر میں کرنی پڑتی ہے اور ڈالر کے ذخائر تیزی سے گرتے جا رہے ہیں۔

ڈالر کے ذخائر اس لیے کم ہو رہے ہیں کہ آپ کی برآمدات کم ہیں اور درآمدات زیادہ۔ اس کو تجارتی خسارہ بھی کہتے ہیں۔ ایک عام آدمی کے لئے اتنا ہی جاننا کافی ہے۔

دوسرے ملکوں نے پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا اور پیٹرول کا ماحولیاتی تبدیلی پر جو اثر پڑتا ہے اس کا حل یہ نکالا کہ وہ اب بیٹری سے چلنے والی گاڑیاں بنا رہے ہیں۔ وہ زیادہ سے زیادہ سورج، ہوا اور پانی سے بجلی کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کر رہے ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی ان کی بنیادی توجہ کا مرکز ہے۔

لیکن ہم نے اس کا علاج یہ نکالا کہ سات مرتبہ سورت الکوثر پڑھ کر پیٹرول ڈلوایا جائے تو اس میں تیس فیصد تک کی بچت ہو جاتی ہے۔ ایسا رب کریم کے کلام کی برکت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ایک مذہبی رہنما کو یہ گفتگو کرتے ہوئے ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے جو آج کل سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر مشہور ہو رہی ہے۔

وہ قرآن جو بنی نوع انسان کی اعلی اخلاقی تعلیم کے لئے نازل ہوا تھا، وہ اب پیٹرول میں برکت، کاروبار میں ترقی، لڑکی کی رخصتی، کرونا وبا کے علاج اور ان جیسی کئی اور عام چیزوں کے ٹوٹکے کے لئے وقف ہو گیا ہے۔

قرآن کریم کی اصل روح اور مقصد کہیں گم ہو گیا ہے جس کو شاید حضرت بہلول رحمت اللہ علیہ اور جنید بغدادی رحمت اللہ علیہ کے درمیان اس مکالمے سے سمجھا جا سکتا ہے۔

شیخ جنید بغدادی بغداد سے سیر کے لیے نکلے۔ اس کے شاگرد اس کے پیچھے چل پڑے۔ شیخ نے پوچھا بہلول کیسا ہے؟ انہوں نے جواب دیا، ”یہ ایک پاگل آدمی ہے، آپ کو اس سے کیا ضرورت ہے؟“

”اسے ڈھونڈو کیونکہ مجھے اس کی ضرورت ہے۔“
طالب علموں نے بہلول کو تلاش کیا اور اسے صحرا میں پایا۔ وہ شیخ جنید کو بہلول کے پاس لے گئے۔
شیخ نے سلام کیا۔ بہلول نے جواب دیا اور پوچھا تم کون ہو؟
”میں جنید بغدادی ہوں۔“
”کیا آپ شیخ بغدادی ہیں جو لوگوں کو روحانی ہدایات دیتے ہیں؟“
”جی ہاں!“
”کیا تم کھانا بھی جانتے ہو؟“

”میں بسم اللہ (اللہ کے نام سے ) کہتا ہوں۔ میں اپنے سامنے سے کھاتا ہوں، میں چھوٹے چھوٹے نوالے لیتا ہوں، انہیں اپنے منہ کے دائیں طرف رکھتا ہوں، اور آہستہ آہستہ چباتا ہوں۔ میں دوسروں کے نوالوں کو نہیں دیکھتا۔ کھانا کھاتے ہوئے اللہ کو یاد کرتا ہوں۔ میں جو بھی لقمہ کھاتا ہوں، الحمدللہ کہتا ہوں۔ میں کھانے سے پہلے اور بعد میں اپنے ہاتھ دھوتا ہوں۔“

بہلول کھڑا ہوا اور کہا کہ آپ دنیا کے روحانی استاد بننا چاہتے ہیں لیکن آپ کو کھانا بھی نہیں آتا۔ یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔

شیخ کے شاگردوں نے کہا: اے شیخ! وہ ایک پاگل شخص ہے۔ ”

جنید بغدادی نے کہا نہیں۔ بہلول کی ان باتوں میں کوئی راز ہے اور وہ بہلول کے پیچھے پیچھے چلنا شروع ہو گیا۔

بہلول جب ایک ویران عمارت میں پہنچا تو بیٹھ گیا۔ جنید اس کے قریب آیا۔ بہلول نے پوچھا تم کون ہو؟
”شیخ بغدادی جو کھانا پینا بھی نہیں جانتا۔“
”آپ کو کھانا نہیں آتا، لیکن کیا آپ بات کرنا جانتے ہیں؟“
”جی ہاں۔“
”کیسی بات کرتے ہو؟“

”میں اعتدال اور نقطہ نظر سے بات کرتا ہوں۔ میں کبھی کبھار یا بہت زیادہ نہیں بولتا۔ میں بولتا ہوں تاکہ سننے والے سمجھ سکیں۔ میں دنیا والوں کو اللہ اور رسول کی طرف بلاتا ہوں۔ میں اتنی زیادہ بات نہیں کرتا کہ لوگ اکتا جائیں۔ مجھے باطنی اور ظاہری علم کی گہرائی کا خیال ہے۔“

”کھانا بھول جاؤ، تمہیں بات کرنا بھی نہیں آتا۔“ بہلول کھڑا ہوا، اپنا لباس شیخ پر جھاڑ کر چلا گیا۔
طلباء نے کہا: اے شیخ! آپ نے دیکھا، وہ ایک پاگل شخص ہے۔ آپ ایک پاگل سے کیا امید رکھتے ہیں! ”
”مجھے اس کی ضرورت ہے۔ تم نہیں جانتے۔“

وہ پھر بہلول کے پیچھے چلا یہاں تک کہ اس کے پاس پہنچا۔ بہلول نے پوچھا تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ تم جو کھانے اور بولنے کے آداب نہیں جانتے، کیا تم سونا جانتے ہو؟

”ہاں میں جانتا ہوں۔“
”تم کیسے سوتے ہو؟“

”جب میں نماز عشاء اور دعاؤں سے فارغ ہوتا ہوں تو میں اپنے سونے کے کپڑے پہن لیتا ہوں۔“ پھر سونے کے وہ آداب بیان کیے جو اہل دین نے ان تک پہنچائے تھے۔

”میں سمجھتا ہوں کہ تم سونا بھی نہیں جانتے۔“ بہلول نے اٹھنا چاہا لیکن جنید نے اس کی چادر پکڑی اور کہا: اے بہلول! میں نہیں جانتا، تم اللہ کے لیے مجھے سکھا دو۔

”جنید آپ جان لیں کہ آپ نے جو کچھ بھی بیان کیا وہ ثانوی ہے۔ کھانا کھانے کے پیچھے حقیقت یہ ہے کہ آپ حلال لقمہ کھائیں۔ اگر اسی طرح حرام کھانا سو آداب کے ساتھ کھاؤ تو یہ تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا بلکہ دل کالا کرنے کا سبب بنے گا۔

بہلول نے آگے کہا، ”بات شروع کرنے سے پہلے دل صاف ہونا چاہیے اور نیت اچھی ہونی چاہیے۔ اور آپ کی گفتگو اللہ کو راضی کرنے کے لیے ہونی چاہیے۔ اگر یہ کسی دنیاوی یا فضول کام کے لیے ہے تو آپ جس طرح بھی اظہار خیال کریں، وہ آپ کے لیے مصیبت بن جائے گا۔ اس لیے خاموشی اور سکوت ہی بہتر رہے گا۔

جنید تم نے سونے کے بارے میں جو کچھ بھی کہا اور جو بھی آیتیں تم پڑھتے ہو، اس کی بھی ثانوی اہمیت ہے۔

سونے کی اصل حقیقت یہ ہے کہ سونے سے پہلے تمہارا دل کسی بھی دوسرے انسان سے دشمنی، حسد اور نفرت سے پاک ہو۔ تیرا دل دنیا یا دنیاوی مال کی لالچ نہ کرے ”۔

کاش ہم بھی قرآن کی بنیادی تعلیمات اور پیغام تک پہنچنے کی کوشش کریں جس کی نشاندہی پروین شاکر نے بہت پہلے کر دی تھی،

اے مری گل زمیں تجھے چاہ تھی اک کتاب کی
اہل کتاب نے مگر کیا تیرا حال کر دیا

Facebook Comments HS