عمران خان: شخصیت ، کارکردگی اور عزائم (1)


عمران خان صاحب نے اپنے کل کے انٹرویو میں کہا ہے کہ ’پاک فوج نے اگر صحیح فیصلے نہ کیے تو ملک تین ٹکڑے ہو جائے گا‘ یہ ایک ایسے اقتدار کے جانے سے آپے سے باہر ہو رہے ہیں جو مسلط شدہ تھا، اور اب دوبارہ فوج کو پیغام دے رہے ہیں کہ اگر انہیں اقتدار میں نہ لایا گیا تو خدانخواستہ ملک ٹوٹ جائے گا؟ حیران کن بات ہے کہ اقتدار کے لیے عمران خان ملکی سالمیت کے درپے ہے، پورے نظام کے درپے ہے، کہاں ہیں وہ ثنا خوان تقدیس عمران؟ ہے کوئی جو اس تمام ہرزہ سرائی کا دفاع کرے؟ ہے کوئی محب وطن جو عمران خان کے ملک توڑنے کے بیان کو خلعت جواز عطا کرے؟ آئیے قومی ہیرو سے ملکی سلامتی کے لیے آزمائش بن جانے والے اس کھلاڑی سے سیاست دان بننے والی شخصیت اور اس کے خطرناک عزائم کے پیچھے کار فرما عوامل تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

شخصی آمریت اور فاشزم کا دفاع کرنے والے یہ سیاستدان 2011 میں منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئے، گو کہ تیرہ برس سے خارزار سیاست میں بھٹک رہے تھے مگر مسلسل ناکامیوں سے تقریباً دل برداشتہ ہو چکے تھے۔ پھر اچانک میموگیٹ کا ظہور ہوا۔ اور پھر برسر اقتدار پیپلز پارٹی کا بازو مروڑنے اور اہل سیاست کو سبق سکھانے کے لئے، طاقتوروں کی نگاہ انتخاب اس ’سیاسی لاغر‘ گھوڑے پر پڑی اور اس کو منتخب کر لیا گیا۔ یہ منتخب کرنے والوں کو بھی شاید علم نہیں تھا کہ ان کا یہ انتخاب سب سے فاش غلطی ثابت ہو گا۔

اس سارے عمل میں خیر کا پہلو بہرحال یہ رہا کہ پاکستانی قوم کی اکثریت کو اب صحیح اور غلط کا فرق واضح ہو چکا ہے۔ جمہوریت اور آمریت کا فرق بھی واضح ہو چکا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوا ہے اور مسلط شدہ مہرہ بھی نکالا جا چکا ہے۔ اسٹیبلیشمنٹ نے سیاست میں عدم مداخلت کی پالیسی اختیار کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے، مگر سابقہ مسلط کردہ کے تابکاری اثرات ابھی تک محسوس ہو رہے ہیں۔ اور اس ساری آئین شکنی اور ملک کو توڑنے کی جرات رندانہ کو مے کی مستی ریاست کا اپنا ہی ایک بازو کے پی کے کا سربراہ محمود خان، ریاستی وسائل سے فراہم کر رہا ہے۔ عمران خان کی شخصیت، کارکردگی اور عزائم کو سمجھنے کے لیے دو اصطلاحات کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ ایک سیاسیات کی اصطلاح ’فاشزم‘ ہے اور دوسری نفسیات کی اصطلاح ’نرگسیت‘ ۔

’فاشزم (Facism) یا فسطائیت، سیاسیات کی اصطلاح ہے۔ طاقت، جھوٹ اور پروپیگنڈا کے بل بوتے پر کسی معاشرے یا قوم پر استبداد اور آمریت مسلط کرنا ”فاشزم“ ہے۔ فاشسٹ یا فسطائی اس فرد یا پارٹی کو کہتے ہیں جو دوسروں پر آمریت مسلط کرے۔ ‘ فاشسٹ تواتر سے جھوٹ بولنے اور اپنی رائے ہر صورت مسلط کرنے کی حکمت عملی پر کاربند رہتا ہے۔ فاشسٹ اپنی غلطی کبھی بھی تسلیم نہیں کرتا۔ فاشزم کو مغربی دنیا نے لگ بھگ اسی ( 80 ) سال پہلے مسترد کر دیا تھا۔ فاشزم کی ابتدا اٹلی کے بدنام زمانہ ڈکٹیٹر مسولینی نے کی۔ مسولینی کے فاشزم کا انجام، 1945 میں اس کے اپنے عوام کے ہاتھوں بہیمانہ قتل پر ہوا۔ مسولینی کو اٹلی کے عوام نے قتل کر کے اس کی لاش فٹبال سٹیڈیم میں گول پوسٹ کے ساتھ لٹکا دی تھی۔ دوسری اصطلاح نرگسیت ہے

’نرگسیت‘ ، ایک پیچیدہ ذہنی حالت ہے جس میں مبتلا شخص حد سے زیادہ اور حقیقت سے زیادہ خودپسندی کا شکار ہوتا ہے۔ اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہوئے ضرورت سے زیادہ توجہ اور تعریف کا خواہشمند ہوتا ہے۔ اس کے نزدیک لوگوں سے تعلق بالکل غیر اہم ہوتا ہے۔ ذاتی زندگی اور تعلقات پریشان کن ہوتے ہیں اور دوسروں کے لیے ہمدردی یا جذبات نہ ہونے کے برابر یا اس کی شدید کمی ہوتی ہے ’

عمران خان صاحب نہ صرف فاشسٹ ہیں بلکہ نرگسیت میں بھی مبتلا ہیں۔ ان میں غرور اور تکبر بھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ پیغمبر خداﷺ کے فرامین کی روشنی میں نفاق کی ساری علامات بھی موجود ہیں۔ پیغمبر خداﷺ نے فرمایا ’منافق کی تین نشانیاں ہیں، بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور امانت میں خیانت کرے‘ ۔ (صحیح بخاری: 33 ) ۔ ان تمام کیفیات کے ساتھ نا اہلی، بدانتظامی اور بدعنوانی کی مہر بھی لگ چکی۔ لیکن ان تمام حقائق کے باوجود، اصرار اور دعویٰ خواجگی کا ہے۔

ملک توڑنے کی بات کر رہے ہیں اور وہ بھی کسی نجی محفل میں نہیں بلکہ سرعام اور میڈیا پر؟ ہمارے جیسے کمزور معاشروں میں بھی، ایسی صورت میں کوئی باوصف اتنی بدترین ناکامی کے بعد ، اعتراف کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگ کر اپنی راہ لے، کجا کہ وہ ایٹمی پروگرام کی تباہی کی باتیں کرے، ملکی سلامتی کے درپے ہو جائے۔ ترقی یافتہ معاشروں میں تو ایسے شخص کا ذمہ دار عہدوں پہ آنا ایسے ہی ہے جیسے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔

عمران خان کو اگر اپنے بل پر سیاست کرنے دی جائے تو سوائے رسوائی کے، کھاتے میں ہے کیا جو بیان کیا جا سکے۔ اور وہ بھی خاص اس واردات کے بعد جب تمام تر ریاستی وسائل اور سارے میڈیا کے بازو مروڑ کر ایک کم اہل کو ایک دیوتا اور مسیحا بنا کر پیش کیا گیا، اور چار سال کے لیے ایک پیج والا اقتدار بھی عطا کیا گیا۔ اب وہ بت تراشنے والے میڈیائی کردار ایک ایک کر کے اپنے گناہوں کا اقرار اور اعتراف کرتے اور قوم سے معافی مانگ کر اپنے تئیں پاک ہو رہے ہیں۔ اہل وطن اب ان کو پہچان لیں اور خدارا اگلی بار دھوکہ مت کھائیں، یہ دوبارہ دھوکہ دیں گے اس لیے کہ ’چور، چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے‘ ۔ احمد فراز نے کہا ہے نا کہ ’آواز دے کے چھپ گئی ہر بار زندگی۔ ہم ایسے سادہ دل تھے کہ ہر بار آ گئے۔ ‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

محمد سجاد آہیر

محمد سجاد آ ہیر تعلیم، تدریس اور تحقیق کے شعبے سے ہیں۔ سوچنے، اور سوال کرنے کا عارضہ لاحق ہے۔ بیماری پرانی مرض لاعلاج اور پرہیز سے بیزاری ہے۔ غلام قوموں کی آزادیوں کے خواب دیکھتے اور دکھاتے ہیں۔

muhammad-sajjad-aheer has 37 posts and counting.See all posts by muhammad-sajjad-aheer

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments