عوام کے انسانی حقوق
کہتے ہیں کہ جس بھیڑیے کے منہ کو انسان کا خون لگ جائے، پھر اسے کسی اور جانور کے خون میں لذت ہی نہیں ملتی۔ بھیڑیوں کے متعلق تو معلوم نہیں لیکن یہ حقیقت ہے جب اقتدار کے حصول کے لئے انسان کے منہ کو انسان کا خون لگ جائے تو وہ چھڑائے نہیں چھوٹتا۔ اپنے آس پاس اور تاریخ انسانی پر نظر دوڑائیے تو اسی خون کی لذت کی ان گنت داستانیں نظر آئیں گی۔ بالادست انسانوں نے ہمیشہ کمزور انسانوں کا خون چوسا اور ایسا انتظام رکھا کہ یہ انسان ان کے پنجہ فولادی کی گرفت سے باہر نہ نکلنے پائیں۔
تاریخ شاہد ہے کہ یہ فولادی پنجے انسانوں کے دونوں ہاتھوں میں رہے ہیں۔ ایک ہاتھ میں مالکانہ مفاد اور دوسرے ہاتھ میں مذہب کا استعمال۔ مفاد پرستانہ اذہان پھر سے اپنی کمین گاہوں سے نکلنے کی تیاریوں میں ہیں، ان کی راہ میں جو حربہ کام آنا لائق ہے اس سے گریزاں نہ کرنے کی روش با اتم پائی جاتی ہے تاکہ اپنے مخالف کو کسی بھی صورت راستے سے ہٹا دیا جائے۔
معاشرہ میں جو خلفشار نمودار ہو چکا وہ کسی کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں، باشعور طبقہ چیخ چیخ کر پکار رہا ہے کہ اس فتنے کے ازالے کے لئے کچھ کیوں نہیں کیا جاتا، ریاست بھی بعض وجوہ کی بنا پر نالاں ہے کہ قوم میں نظم و ضبط، تعاون و تناصر اور قانون کے احترام و اطاعت کا جذبہ نہیں جس کی وجہ سے ان کی تدابیر نتیجہ خیز نہیں ہو پاتی۔ حکومت اور عوام سمیت سیاسی جماعتوں کے کردار پر اجمالی جائزہ بھی لیا جائے تو عیاں ہے کہ یہ سب ایک دوسرے سے شاکی ہیں اس لئے ان میں روز بر روز بعد اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، جو کوئی نیک فال نہیں۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ علت مرض کی صحیح تشخیص نہیں گئی، اس لئے کوئی علاج کارگر نہیں ہو رہا۔ بنیادی طور پر مطالعہ کیا جائے تو ہمیں ایسے طبقے نظر آئیں گے جن کے متعلق اگر صحیح سوچ و بچار سے کام لیا جائے تو صورت حالات بہت بڑی حد تک درست ہو سکتی ہے، ضروری نہیں کہ اس سے اتفاق بھی کیا جائے تاہم ہمیں یہ جمود توڑنا ہو گا۔
قوم میں موجود خلفشار کا اہم سبب ایک ایسا طبقہ ہے جو نہ کوئی ہنر جانتے ہیں نہ اپنی روٹی کمانے کے قابل نہیں، ان کا معاش کا ذریعہ فروعی سیاست سے جڑا ہے۔ سیاست سے جڑے بیکار لشکر کے لئے معاش کی دوسری کیفیت کوئی نہیں کہ بس سیاست کی جائے۔ اب ظاہر ہے کہ روٹی کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا، اگر کسی بیکار کے لئے کوئی دوسرا شخص روٹی کا انتظام نہ کرے تو اسے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی ہوتا ہے، اب یہ سوچئے کہ ایک ایسا طبقہ جس کا سارا دار و مدار صرف سیاست سے جڑا ہے اور حصول رزق کا کوئی ذریعہ نہیں، کسی معاش کی صورت ان کے سامنے نہیں، وہ جس طریق سے ہاتھ پاؤں مارے گا تو اس سے خلفشار نہیں پیدا ہو گا تو کیا سکون پیدا ہو گا؟ اس باب میں ایسے سیاست دانوں کی حالت قابل رحم ہے، اگر وہ کوئی کسب معاش نہیں رکھتے تو اپنے گھر کا چولہا کیسے جلاتے ہوں گے۔
قوم میں خلفشار کا سب سے اہم سبب عوام کی موجودہ معاشی حالت ہے۔ (عوام میں پڑھا لکھا طبقہ بھی شامل ہے اور ان پڑھ بھی) ، اگر آپ غور سے دیکھیں تو بے کار لیڈروں کی طرف سے جو خلفشار پیدا ہو رہا ہے اس کا بڑا سبب بھی قوم کی موجودہ معاشی حالات ہیں۔ لہذا یہ سبب بڑا اہم ہے اور خاص توجہ کا محتاج بھی۔ آپ زندگی کے حقائق سے شاعری کرتے رہیں تو اور بات ہے، ورنہ حقیقت ہے کہ انسانی معاشرہ میں روٹی کا مسئلہ بڑا بنیادی مسئلہ ہے، انسانی زندگی میں ایسے مواقع کبھی کبھار آتے ہیں کہ انسان کسی بلند مقصد کے لئے اپنی جان دیدے، ورنہ انسان کی ساری زندگی جان بچانے کی فکر میں ہی گھل جاتی ہے اور جان روٹی کے ذریعہ بچتی ہے۔ جو انسانی روٹی کی مشکل میں مبتلا ہو وہ اعلیٰ اقدار کی اہمیت کے متعلق وعظ سننے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتا۔ وہ اس کی سنتا ہے جو اسے یہ بتائے کہ اس کی معاشی مشکلات کا حل کیا ہے۔ ملک کا عام طبقہ جن معاشی مشکلات میں گھرا ہوا ہے وہ سب پر روشن ہے۔
آج ہمارا نظام کچھ ایسا ہو گیا کہ جس میں قوم کی یہ حالت ہو گئی ہے کہ نہ کھانے کو پیٹ بھر روٹی، نہ پہننے کو ستھرا کپڑا، نہ سر چھپانے کو مکان، نہ بال بچوں کے لئے کوئی آسرا، نہ محفوظ مستقبل، پھوس اور ٹاٹ کی جھونپڑیاں اور کچے مکانات جنہیں ہوا کا ہر تیز جھونکا اپنے ساتھ اڑا کر لے جاتا ہے او ر بارش کا ہر حملہ انہیں نیست و نابود کر دیتا ہے۔ یہ سوکھی روٹیاں بھی ہزار مشقتوں کے بعد بمشکل نصیب ہوتی ہیں۔ یہ پھٹے پرانے چیتھڑے جو سردی، گرمی سے محفوظ رکھ سکتے ہیں اور نہ کسی بہو بیٹیوں کا ستر ڈھانپ سکتے ہیں، یہ غلاظت کے ڈھیر جس میں کیڑوں کے طرح رینگتی زندگی، یہ سب فروعی سیاست کے نظام کی لعنتیں ہیں۔
ان کے مقابل دیکھیں تو جگمگاتے محلات اور ان میں رہنے والے عیش پرست طبقہ۔ انسان تو سب ایک جیسے ہیں، ان میں یہ تفریق و فاصلہ، دراصل اس مراعات یافتہ طبقے نے کیا، جن کا اوڑھنا بچھونا، سب کچھ صرف اور صرف فروعی سیاست ہے۔ انہوں نے اپنے اثر و رسوخ سے بڑی بڑی فیکٹریاں، ملز، دکانیں، شاپنگ مال، ہاؤسنگ سوسائٹی، الاٹ کرا لیے اور اپنی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنا لیا، لیکن ان کے پیچھے زندہ باد، مردہ باد کہنے والوں کی حالت زار روز بہ روز قابل رحم ہوتی جا رہی ہے۔
کیا ہم اس روش سے ہٹ کر کوئی قابل علاج حل سوچتے بھی ہیں یا پھر نام نہاد لیڈران کی جانب سے ”وعدہ حور ’پر ہی تکیہ کرلیتے ہیں۔ آج ہر طبقے کے فرد کا سینہ انہی خیالات کی آماجگاہ بن رہا ہے، کچھ ایسے بھی ہیں جو ابھی ان خیالات کو زبان پر لانے سے گھبراتے ہیں، کچھ وہ ہیں جو علانیہ ان کا اظہار کر دیتے ہیں لیکن محسوس ہر ایک یہی کر رہا ہے کہ موجودہ نظام میں ان کے مسائل کا حل کسی کے پاس نہیں۔ اصل سوال ہے معیشت کا ، جب تک معیشت کے سوال نے ایسی شدت اختیار نہیں کی تھی، وعدوں نعروں اور دعوؤں کو جذبات کے بندھنوں سے دیر تک باندھا جاتا رہا لیکن اب اس مسئلہ کی شدت کے سیلاب کے سامنے کمزور بندھن ٹھہر نہیں سکتے۔


