مایوسی کا شکار کریں اس کا شکار نہ بنیں
یونانی فلسفی یوکریشس نے وقت کے بارے میں کہا تھا کہ وقت بذات خود کچھ نہیں ہے۔ اس کا مطلب تھا کہ یہ لوگ ہیں کہ جو وقت کو تقسیم کرتے ہیں، اس کی تشکیل کرتے ہیں اور پھر اسے اپنی ضروریات اور تقاضوں کے تحت استعمال کرتے ہیں۔ اس پس منظر میں وقت کی حرکت کے دو مشہور نظریے ابھرے، سیدھی لائن والا یعنی لائنر اور چکر والا یعنی سائیکلک۔ آج بھی تاریخ کو وقت کے ان دو نظریات کی رو سے ہی دیکھا جاتا ہے۔ دنیا کی قدیم تہذیبوں میں ایک وقت میں چکر والا نظریہ بہت مقبول تھا جن میں یونانی اور ہندوستانی تہذیبیں شامل ہیں۔
خصوصیت سے ہندوستان میں پہیہ اس کی علامت تھا۔ ہندوستانی تہذیب میں سنہری عہد کو ستیا کہتے ہیں، جب کہ تاریک زمانہ کل یوگ کہلاتا ہے کہ جس میں انتشار، تشدد، بے چینی ہوتی ہے۔ لیکن ان کے نظریہ کے تحت دنیا ہمیشہ تاریک زمانہ میں نہیں رہتی ہے، وقت کا پہیہ گردش کرتا ہے اور سنہری عہد پھر سے واپس آتا ہے۔ یہی نظریہ کچھ مختلف شکلوں میں عیسائی مذہب اور اسلام میں نزول عیسٰی علیہ سلام اور ظہور مہدی علیہ سلام کے طور پر موجود ہے کہ ان پاک اور عظیم ہستیوں کی آمد کے باعث مستقل سنہری دور کو اللہ اس کرۃ الارض پر قائم کرے گا۔
دور یا زمانہ کا چکر والا یعنی سائیکلک نظریہ تہذیب و مذاہب میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے جسے علامتی طور پر ”پہیہ“ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ ”پہیہ“ انسانی وقت کا پہیہ پھیر دینے والی ایجاد کہلاتی ہے۔ یہ ایجاد صرف گاڑی میں استعمال نہیں ہوئی بلکہ کئی دوسری ایجادات کے لئے بھی استعمال ہوئی۔ اس حیرت انگیز ایجاد یعنی پہیے کا تعلق 3500 قبل مسیح کے عراق سے ملتا ہے اور یہ وہ ایجاد ہے کہ اس سے جڑی دوسری ایجادات نے انسانی زندگی میں انقلاب پیدا کر دیا۔
اگر ہم یہاں نتیجہ نکالیں تو یہ سمجھ آتا ہے کہ فلسفہ، مذہب، تاریخ اور ایجادات سے ہمیں مجموعی طور پر یہ پیغام ملتا ہے کہ انسان کو کسی بھی حال میں مایوس نہیں ہونا چاہیے جیسا کہ موجودہ حالات میں پوری دنیا کا انسان کئی قسم کی مشکلات و تکالیف میں گھرا ہوا ہے اگر ہم اپنے ملک پاکستان کی بات کریں تو سیاسی گرما گرمی سے ہٹ کر معاشی لحاظ سے ملک خطرناک بھنور میں پھنسا ہوا ہے جس کے باعث ہم دیکھتے ہیں کہ روز افزوں مہنگائی کو جانے کس درویش کی دعا لگی ہے کہ اس کے آگے سب ہیچ ہے۔
ایندھن کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ کے باعث عوام میں تشویش ہی نہیں بلکہ مایوسی کی لہر دوڑ رہی ہے۔ کیا مایوسی مسئلہ کا حل ہے؟ بالکل نہیں! قوم کے لئے سب سے مہلک مرض ہی مایوسی ہے کیونکہ یہ مایوسی ہی ہے کہ جو معاشرہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو حالت نزاع میں پہنچا دیتی ہے۔ اگر ہم صرف ایندھن کی قیمتوں کے اضافہ کو ہی لیں تو دیکھنا ہو گا کہ اس مسئلہ کا کوئی حل دنیا میں موجود ہی نہیں ہے یا ہم اس کے متلاشی نہیں ہیں۔
ایک خاص نقطہ کی جانب توجہ دلوانا چاہوں گا، بی بی سی اردو کی گزشتہ سال پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ پچیس سے تیس لاکھ موٹر سائیکلز تیار کی جاتی ہیں۔ اگر ہم اسی عدد سے حساب لگائیں اور فرض کریں کہ ایک موٹر سائیکل کا پیٹرول کی مد میں ماہانہ خرچ پانچ ہزار روپے ہے، تو ایک موٹر سائیکل کا سالانہ خرچ ہوا ساٹھ ہزار روپے اور صرف ایک سال کی مدت میں تیار کی گئیں یہ (صرف تیس لاکھ) موٹر سائیکلز تقریباً ایک سو اسی بلین کا پیٹرول جلاتی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا عوام کے پاس اپنے یہ کھربوں روپے (جنہیں پہیہ گھمانے کی مد میں وہ اڑا رہے ہیں ) بچانے کا کوئی متبادل راستہ ہے؟
اس متبادل راستہ کی فی الحال صرف ایک مثال یہاں یورپی ملک نیدرلینڈز سے لی جا سکتی ہے، جس کے دارالحکومت کی کل آبادی ساڑھے گیارہ لاکھ سے زائد ہے اس آبادی کا لگ بھگ آدھا حصہ (پانچ لاکھ افراد) روزانہ سائیکل پر سواری کرتے ہیں۔ جبکہ پاکستان کے متعلق ورلڈ بینک (ڈبلیو بی) نے کم آمدنی والی غربت کی شرح کا استعمال کرتے ہوئے، یہ اندازہ پیش کیا ہے کہ 2021۔ 22 میں غربت کا تناسب تقریباً انتالیس فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ پاکستان جی ڈی پی کی فہرست میں نیدر لینڈز سے تقریباً 660 بلین ڈالر نیچے ہے۔
مذکورہ مثال اور اعداد و شمار سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہمیں کرنا صرف یہ ہو گا کہ اپنی موٹر سائیکل کو بائیسکل میں تبدیل کرنا ہو گا جس کے نتیجہ میں ہمارا پہیہ تو گھومتا ہی رہے گا ساتھ ساتھ ہم اپنا کھربوں روپیہ بھی جلنے سے بچا لیں گے۔ یہ تو ہوئی ثانوی دولت بچانے کی بات مگر کسی بھی انسان کی حقیقی دولت صحت کو سمجھا جاتا ہے۔ ہم جس سائیکل و پہیے کی افادیت کو بیان کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یہ پہیہ دوہری دولت سے اپنے صارف کو نوازتا ہے۔
سائیکل ایک انسان اور ماحول دوست سواری ہے۔ اگر انسانی صحت پر براہ راست اس کے اثرات دیکھیں تو یہ انسانی صحت کے لئے بھی بہت مفید ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند رہنے کے لئے جسمانی طور پر سرگرم رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ سائیکل سے بڑھ کر کوئی سواری ایسی نہیں کہ جو اس قسم کی افادیت رکھتی ہو، کیونکہ ماہرین نے تحقیقات کے نتائج بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلسل سائیکل چلانے سے ایک گھنٹے میں تین سو کے قریب حرارے (کیلوریز) خرچ ہوتی ہیں۔ مزید یہ کہ اگر آپ روزانہ آدھا گھنٹہ سائیکل کی سواری کریں تو ایک سال میں آپ کی پانچ کلوگرام چربی پگھل جائے گی۔
سائیکل کا پہیہ گھما کر ہم نہ صرف سستی اور با اختیار سفری سہولت کے مزے لے سکتے ہیں بلکہ خود کو اور ماحول کو موذی بیماریوں سے بھی بچا سکتے ہیں۔ یہاں یوکریشس کے قول کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرنے کا اختیار اب بھی ہمارے پاس ہے کہ وقت کے ہاتھوں مایوسی کا شکار رہنا ہے یا مایوسی کو شکار کرنا ہے


