شور اور شعور


معاشرے مین عمومی کافی مسائل ہیں جو کو زیرغور لانا چاہیے جن مین عوام الناس مین شور زیادہ اور شعور کم پایا جاتا ہے جس پر تبصرہ کرنا عین علم اور ضرورت ہے۔ اور اسی طرح شور اور شعور پر لکھنا بھی بہت ضروری ہے۔ ایک مشہور مقولہ ہے کہ ”ڈگری تو محض تعلیمی اخراجات کی رسید ہے، علم تو انسان کی گفتگو اور عمل سے ظاہر ہوتا ہے“ اور یہ ایک حقیقت ہے۔

چل پھر کے ادھر ادھر دیکھ لیا جائے کیسا ہے یہ شہر ایک نظر دیکھ لیا جائے

شور: فارسی زبان کا لفظ ہے جس کی معنی ہے (شور غل، دھوم، ہنگامہ، اور عربی میں کہتے ہیں (ضوضاء) انگلش میں کہتے ہیں (Noise) ۔ طبی اور نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ شور آواز کی بلندی (noise) کو نہیں بلکہ نا پسندیدہ بات کو کہتے ہیں۔ شعور : اصل میں عربی زبان کا لفظ ہے جس کی انگلش میں معنی (Consciousness) ہے۔ اور اردو میں (احساس، علم، بیداری، دانائی) وغیرہ۔ اور شعور کہتے ہیں ایسے نفسیاتی علم اور فہم کو جو خود اپنی ذات یا ماحول کے متعلق بذریعہ عقل حاصل ہو۔

تو شور اور شعور میں حروف کے اعتبار سے (ع) کا فرق اور معنی کے اعتبار سے بہت بڑا فرق ہے۔ جیسے کہ شعور سے علم و عقل کا (ع) نکال دیا جائے تو کھوکھلا شور رہ جاتا ہے جو کسی کام کا نہیں۔ اس وقت ہمارے پاکستان میں عوام ہوں یا سیاستدان ان میں شور تو بہت زیادہ پایا جاتا ہے اس کے برعکس شعور بہت کم۔ اس کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ لاشعوریت ہے! علم تو الحمد للٰہ دن بہ دن زیادہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ مگر اس علم پر عمل اور شعور بہت کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے آج ہمارے ہاں ادب، احترام، ایک دوسرے کو برداشت کرنا، ایک دوسرے کو سمجھنا، کسی دوسرے کی رائے کا احترام کرنا نہ ہونے کے برابر ہے۔ خاص کر کے آج کل سیاسی جماعتوں میں یہ بات بہت دیکھنے کو مل رہی ہے جس کی وجہ سے عوام پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں جیسا کہ : آگر کسی شخص کو کسی سے اختلاف رائے ہو، یا کسی کو سیاسی جماعت کے کاموں پر کوئی سوال ہو، یا کوئی سیاستدان کسی ایک پارٹی ولا دوسرے پارٹی کے شخص پر سوال اٹھائے یا اختلاف رائے رکھے، تو وہ ایک دوسرے کا احترام بالکل نہیں کرتے۔

اور ان جماعتوں کے کارکنان بلا کسی دلیل کے ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے میں لگ جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کی ذاتیات اور گالم گلوچ پر اتر آتے ہیں، اور شور شرابا کو اپناتے ہیں۔ بلکہ کچھ ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں کہ ایک پارٹی کے کارکن کا دوسری پارٹی کے کارکن سے کچھ بحث مباحثہ ہوا تو ان میں سے ایک پارٹی کے کارکن نے غصہ میں آ کر دوسرے پر تشدد شروع کر دیا، یا گولی مار دی! جو کے مستقبل کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ایسے اختلافات سے اجتناب کرنا اور آپس میں ہر ایک کی رائے کا احترام کرنا بہت ضروری ہے۔ اختلاف رائے کا حق ہر کسی کو حاصل ہے مگر وہ اس طرح نہیں کہ ایک دوسرے کو نفرت اور تنگ نظری سے دیکھا جائے اور شور شرابا کیا جائے بلکہ اختلاف شعور کی بنیاد پر دلیل سے ہونا چاہیے، ٹھنڈے دل و دماغ سے اس کے حل کی طرف توجہ دی جائے تاکہ مسائل کم ہوں نہ کے بڑھتے چلے جائیں۔ ہر قسم کے مسائل پر تبصرہ کرنے میں ادب ملحوظ رکھنا چاہیے اور ادب کے لئے شعور کا ہونا لازمی ہے۔

جس سے انسان اور حیوان ہونے میں فرق واضح ہوتا ہے۔ قرآن مجید (سورۃ الاعراف آیت نمبر 179 ) میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے ”اور ہم نے جنات اور انسانوں میں سے بہت سے لوگ جہنم کے لئے پیدا کیے ہیں (یعنی بالآخر ان کا ٹھکانا جہنم ہونے والا ہے ) ان کے پاس دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں ان کے پاس آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں اور ان کے پاس کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں۔ وہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں“ ۔

یعنی صحیح اور حق بات سننے، سمجھنے، دیکھنے، اور کہنے میں ایسے لوگ جانوروں سے بھی گئے گزرے ہیں، کیونکہ وہ بے شعور ہو چکے ہیں بے حس ہو چکے ہیں۔ اب بھی وقت ہے ہم اس بے حسی کو شعور میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ ورنہ ہم نے کئی قوموں کی تاریخ میں دیکھا ہے کہ ان کی تباہی و بربادی میں ایک چیز مشترک تھی اور وہ بد تہذیبی، بد اخلاقی، اور شعور سے دوری تھی۔ قوموں کی ترقی باشعور تربیت یافتہ اور مہذب لوگوں سے ہوتی ہے۔

اس کے لئے ہم سب کو مل کر جدوجہد کرنی پڑے گی اپنے آپ کی اور خاص کر کے اپنے بچوں اور نوجوانوں کی تربیت کرنے ہوگی اور ایسا علم دینا ہو گا جو ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں معاون ثابت ہو تاکہ وہ اچھے کامیاب لیڈر اچھے انسان اور اچھے مسلمان بن سکیں۔ اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب ہم ان کو انبیاء کرام علیہم السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی سیرت اور ان کی قیادت اور ان کی انقلابی حکمت عملی کو مد نظر رکھتے ہوئے اچھی تعلیم اور تربیت دیں۔ تاکہ وہ پاکستان کو ترقی دلانے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اچھا اور سچا مسلمان بننے اور اپنے ملک اور قوم کے لئے ایک اچھا باشعور انسان بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

 

Facebook Comments HS