شیخوپورہ: لاپتہ فرد کی لاش گھر کے صحن سے برآمد، شک پر اہلیہ حراست میں
شیخوپورہ کے علاقے شرقپور شریف میں پولیس نے ایک گھر کا صحن کھود کر ایک ماہ سے لاپتہ شخص کی لاش برآمد کر لی ہے۔ پولیس کے مطابق مقتول کے بھائی ان کی تلاش میں کئی دنوں سے جیلوں کے ریکارڈ چیک کر رہے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حق نواز نامی مقتول کی اہلیہ کو قتل کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ خاتون نے اپنے رشتے دار دوست کے ساتھ مل کر خاوند کو قتل کر دیا تھا اور لاش گھر ہی کے صحن میں گڑھا کھود کر دفن کر دی تھی۔
پولیس حکام کے مطابق ملزمہ نے پولیس کو بتایا کہ ’خاوند کو صحن میں دفن کرنا کسی ڈراؤنے خواب جیسا تھا۔۔ صحن سے گزرتی تو یوں لگتا جیسے وہ مجھے ابھی دبوچ لے گا اور مارے گا۔۔۔ رات جاگ کر گزارتی۔۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مکان ہی چھوڑ دیا جہاں خاوند دفن تھا اور یہی بات قتل کا راز کھلنے اور گرفتاری کی وجہ بن گئی۔‘
خاوند کی قید کا بہانہ
پولیس کا کہنا ہے کہ شیخوپورہ کے علاقے شرقپور شریف کے رہائشی حق نواز گذشتہ ایک ماہ سے پراسرار طور پر لاپتہ تھے اور ان کی اہلیہ سے مالک مکان اور خاوند کے رشتے داروں نے جب استفسار کیا کہ حق نواز کہاں ہے تو خاتون مبینہ طور پر سب کو ایک ہی بیان دیتیں۔
وہ کہتیں کہ ’حق نواز کے خلاف نشہ کرنے کا مقدمہ ضلع فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے کسی تھانے میں درج تھا جو ان دنوں عدالت میں زیر سماعت ہے اور وہ گھر سے تاریخ پیشی پر گئے تھے، میرا خیال ہے کہ اُنھیں عدالت سے سزا ہو گئی ہو گی اور وہ جیل چلے گئے ہوں گے۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ کچھ ہفتوں تک تو یہ بیانیہ چلتا رہا پھر خاتون نے اپنے چھ بچوں کو ساتھ لیا اور کرائے پر لیا جانے والا یہ گھر ہی چھوڑ دیا۔ خاتون نے مالک مکان سے ایڈوانس کی مد میں دی جانے والی رقم واپس لی اور بچوں کو ساتھ لے کر کسی دوسرے علاقے میں منتقل ہو گئیں۔
پولیس کے مطابق مقتول کے بھائی بشیر احمد نے پولیس کو بتایا کہ وہ اور ان کے دیگر بھائی ڈسٹرکٹ جیل فیصل آباد سمیت اردگرد کے اضلاع کی جیلوں میں گئے اور اپنے بھائی کا پتہ کیا لیکن کہیں سے کوئی سراغ نہ ملا۔
پولیس کے مطابق مقتول کے بھائی نے بتایا کہ ’اس نام اور ولدیت کا کوئی قیدی کسی جیل میں نہ تھا، جب عدالتوں سے پتہ کیا کہ اس نام کے کسی قیدی کو سزا ہوئی ہے کیا، تو کسی عدالت سے کوئی ایسا ریکارڈ نہ ملا جس سے ہماری پریشانی میں اضافہ ہو گیا۔‘
پولیس کے مطابق مقتول کے بھائی بشیر احمد نے بتایا کہ بھائی کو گم ہوئے ایک ماہ ہو چکا تھا، اسی تلاش میں ہم بھائی کے اس گھر میں پہنچ گئے جہاں وہ رہتے تھے اور بھابھی و بچے اب اس گھر کو چھوڑ چکے تھے۔
’اتفاق سے اس مکان میں ابھی نئے کرائے دار نہیں آئے تھے اور یہ بند پڑا تھا۔ بشیر اور ان کے بھائیوں نے مکان کی تلاشی لی تو صحن کی مٹی ایک جگہ سے نرم لگی، بارش کے پانی کی وجہ سے صحن کا وہ حصہ کچھ بیٹھ چکا تھا۔‘
پولیس کے مطابق شک پڑنے پر انھوں نے کھدائی کرنا شروع کی تو نیچے سے لاش برآمد ہو گئی، اس پر انھوں نے فوری طور پر مقامی پولیس کو اطلاع کر دی۔ پولیس کی موجودگی میں کھدائی کی گئی تو حق نواز کی لاش برآمد ہو گئی جنھیں مبینہ طور پر قتل کر کے صحن میں دفن کر دیا گیا تھا۔
شرقپور شریف پولیس نے بشیر احمد کی درخواست پر مقتول کی اہلیہ اور مقتول کے بھانجے کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ ملزمہ زیرحراست ہے جبکہ ملزم مقتول کے بھانجے کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
خاتون نے مکان کیوں بدلا؟
پولیس حکام کے مطابق ملزمہ نے پولیس کو حراست میں اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے بتایا کہ ان کے خاوند مبینہ طور پر نشہ کرتے اور اکثر مار پیٹ کرتے جس سے تنگ آ کر اُنھوں نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔
پولیس حکام کے مطابق ملزمہ نے پولیس کو بتایا کہ خاوند کو قتل کر کے گھر کے صحن میں دفن کرنے کے بعد ان کا اسی گھر میں رہنا عذاب بن چکا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
بیوی کے ہاتھوں شوہر کے قتل کا ’گواہ طوطا‘
’شوہر کو کیسے قتل کریں‘ کی مصنفہ اپنے ہی شوہر کے قتل کی مجرم
جب سڑک پر چاقو سے شوہر نے بیوی کا قتل کیا تو راہ گیروں نے کیوں نہیں روکا؟
پولیس حکام کے مطابق ملزمہ نے بتایا کہ ’حق نواز کو قتل کرنے کا منظر بار بار آنکھوں کے سامنے گھومتا، جب صحن میں جاتی تو یوں لگتا کہ حق نواز ابھی زمین سے باہر نکل آئے گا اور گلا دبا دے گا، جب رات کو اندھیرا ہو جاتا تو گھر میں رہنا ایسے لگتا جیسے قبرستان میں آ گئے ہوں، ایسے میں یہی فیصلہ کیا کہ یہ گھر ہی چھوڑ دوں تاکہ ایسے خیالات نہ آئیں۔‘
تھانہ شرقپور شریف کے تفتیشی افسر ناظم حسین نے بتایا کہ نعش کا سول ہسپتال سے پوسٹ مارٹم کروایا گیا ہے۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق ’حق نواز کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا اور اس کا گلا بھی دبایا گیا۔ یہ سارا کام کوئی ایک شخص نہیں کر سکتا بلکہ یہ دو یا تین لوگوں کا کام ہے۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ سے تفتیش کی جا رہی ہے جس کے بعد انھیں عدالتی کارروائی کے لیے جیل بھجوا دیا جائے گا کیونکہ خاتون ملزم کو وہ زیادہ دیر اپنی حراست میں نہیں رکھ سکتے۔
پولیس کا مزید کہنا ہے کہ قتل کی واردات میں شامل دیگر ملزمان بھی جلد گرفتار ہو جائیں گے۔
پولیس کے مطابق مقتول حق نواز جڑانوالہ کے رہائشی ہیں اور روزگار کے سلسلے میں شرقپور میں مقیم تھے مگر گذشتہ ایک ماہ سے لاپتہ تھے اور پولیس انھیں تلاش کر رہی تھی۔


