کولیسٹرول: موٹاپے کی وجہ بننے والا بدنام مرکب زندگی کے لیے کیوں ضروری ہے


کولیسٹرول
کولیسٹرول کے بارے میں ہر کسی نے سن رکھا ہے مگر کوئی بھی اسے اپنے جسم میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ مگر کم لوگ جانتے ہیں کہ اس کے بغیر ہمارا جینا ممکن نہ ہوتا

دیگر تمام جانداروں کی طرح ہم انسان بھی نامیاتی مرکبات کا ایک مجموعہ ہیں جو اس زمان و مکان میں جی رہا ہے۔ اور ان تمام مرکبات میں سے اگر سب سے زیادہ بدنام کوئی مرکب ہے تو وہ کولیسٹرول ہے۔

اس کے بارے میں ہر کسی نے سن رکھا ہے مگر کوئی بھی اسے اپنے جسم میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ مگر ہم کولیسٹرول کے بارے میں جانتے کیا ہیں؟

سب سے پہلی بات اور اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو سب سے اہم بات یہ ہے کہ کولیسٹرول کے بغیر ہم سب مر ہی جاتے۔

کولیسٹرول کی زندگی میں اہمیت

کولیسٹرول جسم میں اہم حیاتیاتی عوامل کی تکمیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر:

  1. یہ جانوروں کے خلیوں کی جِھلّیوں کا ایک بنیادی جزو ہے۔ پودوں کے خلیوں میں اسی سے ملتے جلتے مالیکیولز ہوتے ہیں جنھیں سیٹوسٹیرول اور سٹگماسٹیرول کہا جاتا ہے۔ ان کا کام کسی پہرے دار کے جیسا ہوتا ہے جو کسی مالیکیول کو اندر داخلے کی اجازت دیتے ہیں تو کسی کو دروازے پر ہی روک دیتے ہیں۔
  2. سیکس ہارمونز ان ہی سے بنتے ہیں۔ مردانہ سیکس ہارمون ٹیسٹوسٹیرون اور زنانہ ہارمون ایسٹروجین کولیسٹرول کی ہی ایک قسم سے وجود پاتے ہیں جسے سٹیرین کہا جاتا ہے۔ اگر جنسی خصوصیات کی بات کریں تو کولیسٹرول کی عدم موجودگی میں ہم بے جنس ہی ہوتے۔
  3. کولیسٹرول سے ہی کورٹیسول اور ایلڈوسٹیرون بنتے ہیں۔ کورٹیسول خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھاتا ہے جبکہ ایلڈوسٹیرون بلڈ پریشر بڑھاتا ہے۔ آسان الفاظ میں کہیں تو ان کے بغیر ہم خطرے یا حیاتیاتی دباؤ کی صورتحال میں فوری طور پر عمل کرنے کی صلاحیت نہ رکھتے۔
  4. کولیسٹرول وٹامن ڈی کا بنیادی جزوہے اس لیے یہ کیلشیئم کو جسم کا حصہ بننے میں مدد دیتا ہے۔ کولیسٹرول کے بغیر ہمارا ڈھانچہ بہت نازک ہوتا اور اوسٹیوپوروسس کے باعث ذرا سے دباؤ پڑنے پر ہی ہماری ہڈیاں ٹوٹنے لگتیں۔
  5. کولیسٹرول جگر کے نمکیات کا بنیادی جزو ہے جو ہمارے پتے سے خارج ہوتے ہیں اور ہمارے کھائی گئی چربی کو جسم کا حصہ بننے میں مدد دیتے ہیں۔
  6. جِھلّیوں کے مخصوص حصوں (خاص طور پر نیورونل میمبرین) اور دیگر حالیہ مطالعوں کے مطابق کولیسٹرول (گلائکولیپڈز اور سفینگولیپڈز) ایسی مضبوط جھلی بنانے میں مدد دیتے ہیں جو بیکٹیریا یا وائرسز کا راستہ روکتی ہیں۔
کولیسٹرول

تو پھر مسئلہ کیا ہے؟

ہمارے ڈاکٹر آخر کیوں ہمارے پیچھے پڑے رہتے ہیں کہ ہم کولیسٹرول گھٹائیں؟ آئیں جانتے ہیں۔

ہمارا جسم خون کے ذریعے مادوں کی ترسیل کرتا ہے مگر خون ایک مائع ہے اور کولیسٹرول ہائیڈروفوبک ہے یعنی پانی میں بالکل بھی حل نہیں ہوتا۔ اس کے لیے ہمارا جسم لیپوپروٹینز کا استعمال کرتا ہے جو ایسے بڑے مالیکیول ہوتے ہیں جن کے اندر پانی میں حل نہ ہونے والے مرکبات یعنی کولیسٹرول اور ٹرائیگلیسرائیڈز ہوتے ہیں۔ ان پر ہمارا جسم پروٹینز اور فاسفولیپڈز کی تہہ چڑھا دیتا ہے جس سے یہ ہمارے دورانِ خون کا حصہ بن جاتے ہیں اور جسم میں سفر کر پاتے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ لیپوپروٹینز کی کچھ اقسام اگر بہت زیادہ بلند ہو جائیں تو اُن کے ہماری خون کی شریانوں میں چپک جانے کا خدشہ ہوتا ہے جسے ایتھیروسکلیروٹک پلاق کہا جاتا ہے۔

آسان الفاظ میں کہیں تو یہ ہماری شریانوں کو بلاک کر دیتا ہے۔

مگر ہر قسم کے لیپوپروٹینز سے ایسا خطرہ نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے ہم اپنے کولیسٹرول کو اس لیپوپروٹین کی اقسام کے تحت تقسیم کر سکتے ہیں جس کے اندر وہ سفر کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی لیے کچھ اقسام کے کولیسٹرول بدنام تو کچھ نیک نام ہوتے ہیں۔

کولیسٹرول

اچھے، برے اور بدترین کولیسٹرول

ہمارے جسم میں پانچ اقسام کے لیپوپروٹینز ہوتے ہیں: کائلومائیکرونز، انتہائی کم کثافت والے لیپوپروٹینز (وی ایل ڈی ایل)، کم کثافت والے لیپوپروٹینز (ایل ڈی ایل)، درمیانی کثافت والے لیپوپروٹینز (آئی ڈی ایل)، اور زیادہ کثافت والے لیپوپروٹینز یعنی ایچ ڈی ایل۔

ان میں سے صرف تین لیپوپروٹینز ہمارے جسم میں کولیسٹرول کی ترسیل میں براہِ راست کردار ادا کرتے ہیں اور ان میں سے ایک ایسا ہے جو اگر بڑھ جائے تو ہماری شریانوں میں رکاوٹ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

اچھے کولیسٹرول

زیادہ کثافت والے لیپوپروٹینز (ایچ ڈی ایل) وہ ہوتے ہیں جو جگر تک کولیسٹرول کی ترسیل کرتے ہیں۔ وہاں ان کے ایک حصے سے ہارمونز تیار کیے جاتے ہیں اور بقایا کو جگر کے سیال مادوں کے ذریعے آنت کی طرف بھیج دیا جاتا ہے جہاں سے یہ فضلے کے ذریعے خارج ہو جاتے ہیں۔

ایچ ڈی ایل کا کام ہمارے جسم کی بافتوں سے کولیسٹرول کھینچ کر انھیں جگر تک پہنچانا ہوتا ہے۔ جو کولیسٹرول ہمارے جسم میں ایچ ڈی ایل کہلانے والی اس ٹرین پر سفر کرتے ہیں اُنھیں اچھے کولیسٹرول کہا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ڈاکٹروں نے دھڑکتے دل کا آپریشن کرنا کیسے سیکھا

کون سا کوکِنگ آئل صحت کے لیے سب سے بہتر ہے؟

انڈیا میں نوجوانوں کے دل کمزور کیوں ہونے لگے ہیں؟

برے کولیسٹرول

کم کثافت والے لیپوپروٹینز وہ ہوتے ہیں جو جگر سے کولیسٹرول کو خون میں داخل کرتے ہیں اور یہ براہِ راست دل کی بیماریوں کے سبب بنتے ہیں۔

کم کثافت والے ان کولیسٹرولز کے ہماری شریانوں پر چار بنیادی برے اثرات پڑتے ہیں

  1. اس سے ہماری شریانیں تنگ ہو جاتی ہیں جس سے خون کا بہاؤ کم ہو جاتا ہے
  2. اس سے شریانوں کی اندرونی دیواریں ناہموار ہونے لگتی ہیں جس سے خون کے بہاؤ میں اتار چڑھاؤ پیدا ہوتا ہے۔ نتیجتاً مزید ناہمواری پیدا ہوتی ہے
  3. اگر یہ کولیسٹرول شریانوں میں جمتے رہیں تو اس سے شریان مکمل طور پر بند ہو سکتی ہے جس کے باعث جسم کے اعضا کو آکسیجن کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ اگر یہ ہمارے پیر کی سب سے چھوٹی انگلی کے کسی حصے میں ہو تو ہمیں شاید پتا بھی نہ لگے، پر اگر یہ دل تک خون پہنچانے والی رگوں میں ہو تو اس سے ہارٹ اٹیک ہو سکتا ہے۔
  4. کبھی کبھی شریانوں میں جما ہوا یہ کولیسٹرول شریانوں کی دیوار سے اکھڑ بھی سکتا ہے۔ مگر یہ بھی کوئی خوشی کی بات نہیں کیونکہ یہ خون کے ذریعے جسم میں گردش کرتے ہوئے کہیں بھی پھنس سکتے ہیں۔ کان کی لو میں پھنس جائے تو شاید اتنا فرق نہ پڑے پر اگر دماغ کو خون پہنچانے والی کسی شریان میں پھنس جائے تو معاملہ کہیں سنگین ہو سکتا ہے۔
کولیسٹرول

بدترین کولیسٹرول؟

انتہائی کم کثافت والے لیپوپروٹینز (وی ایل ڈی ایل) ایسے لیپوپروٹینز ہوتے ہیں جو کولیسٹرول کو جگر سے خون میں پہنچاتے ہیں۔ تاہم وی ایل ڈی ایل لیپوپروٹینز کو دو وجوہات کی بنا پر ایل ڈی ایل سے کم اہمیت دی جاتی ہے۔

پہلی وجہ یہ کہ یہ کولیسٹرول کے بجائے زیادہ تر ٹرائگلیسرائیڈز کی ترسیل کرتے ہیں اور دوسرا یہ کہ اگر خون میں ٹرائگلیسرائیڈز کی مقدار زیادہ ہو تو وی ایل ڈی ایل کی مقدار بتانے والے بالواسطہ طریقہ کار اتنے کارآمد نہیں رہتے۔

اس تقسیم کے فائدے اور نقصانات

یہ ایسی آسان تقسیم ہے جسے عمومی طور پر لوگ سمجھ سکتے ہیں اور اس کا بہت فائدہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ تب تک کارآمد ہوتی ہے جب تک کہ کولیسٹرول کو نہ صرف اعداد و شمار کے طور پر دیکھا جائے بلکہ خون میں ایچ ڈی ایل اور ایل ڈی ایل کے مجموعی تناسب کو بھی پرکھا جائے۔

مگر اس کے نقصانات بھی ہیں۔ کئی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ یہ تقسیم اس غلط سوچ کو پروان چڑھا سکتی ہے کہ زیادہ کثافت والے لیپوپروٹینز اگر زیادہ ہوں گے تو ہماری شریانیں محفوظ رہیں گی حالانکہ اس کی گارنٹی نہیں ہے۔

اس کے علاوہ لیپوپروٹینز کا کام صرف مالیکیولز کی ترسیل سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے جس کے باعث کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ایچ ڈی ایل صحت کے لیے اچھے ہوتے ہیں جبکہ ایل ڈی ایل صحت کے لیے برے ہوتے ہیں۔

چنانچہ بدتر وی ایل ڈی ایل کولیسٹرول نہیں ہے بلکہ بدتر یہ تقسیم ہے۔


وکٹوریا دی آندریس فرنیننڈز یونیورسٹی آف ملاگا میں حیوانی حیاتیات کی پروفیسر ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 31976 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments