پدرسری پیڑ۔ ایک حقیقی کہانی


کچھ عرصہ پہلے ایک عجیب سی بات سنی۔ مگر ابھی تک دماغ میں گھوم رہی تھی۔ جناب بات تھی ایک ”پیڑ“ جی بالکل ایک پیڑ کی جس نے کسی ”بدکار“ عورت کے چھو لینے کے بعد غیرت میں آ کر پھل دینے سے انکار کر دیا تھا۔ دماغ نے ”منطق“ کے گھوڑے دوڑائے۔ گھوڑوں نے دوڑ دوڑ کر آخر ایک جگہ قیام کیا جہاں اس پیڑ کی جڑیں تھیں۔ جی جناب آخر کار ہم اس پیڑ کی جڑ تک پہنچنے میں کامیاب ہو ہی گئے۔ کچھ غور و فکر کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے کے اس پیڑ کے بیج کے ساتھ ایک اور بیج بھی بویا گیا تھا۔

وہ تھا پدرسری کا بیج۔ پھر پیڑ کو پانی اور کھاد ملتے رہتے اور دوسرے بیج کو اس کی ضرورت کے کی آبیاری ہوتی رہتی۔ پیڑ جوان ہوا اور اس پر پھل لگنا شروع ہوئے اور اس پیڑ کے اندر جو پدرسری کا پیڑ تھا اس پر بھی پھل لگنا شروع ہوئے۔ اور ایک دن اس پیڑ کے مالک کے کہنے کے مطابق کچھ خواتین آئیں جنہوں نے اس میں سے پھل توڑنے کی کوشش کی اور مالک کو پتا لگا وہ آیا اور ان تمام خواتین کو اس کا زیاں کرنے پر برے القابات سے نواز کر رخصت کیا۔

اس دن کے بعد پیڑ نے پھل دینا بند کر دیے۔ اب اصول کی بات تو یہ بنتی تھی کے کیونکہ پیڑ کے مالک نے اس کے سامنے خواتین کو بری زبان سے مخاطب کیا تھا اس لیے پیڑ نے ناراضگی ظاہر کی۔ مگر مالک اور پیڑ دونو سیانے تھے۔ ان کے اصول کے مطابق عورت کو گالی دینا ایک انتہائی معمولی سی بات تھی۔ اور اس پر غیرت نہیں دکھائی جا سکتی۔ کچھ عرصے کے بعد پیڑ نے پھل دینے سے انکار کیا تو مالک نے کھوج لگائی اور مالک کے ہی لیول کا ایک غیرت مند انسان اسے اس مسئلے کے حل کے لیے ملا۔ اس انسان نے معائنہ کیا اور سر پیٹ کر کہا کے اس پیڑ کو غیرت آئی ہوئی ہے یہ اگلے چھہ سال تک پھل نا دے گا اس کے بعد پھل لگنا شروع ہوں گے۔

ہم نے جب اس کہانی پر غور کیا تو ایک سوال ذہن میں گردش کرنے لگا۔ اچھا اگر بدکار عورت کے چھو لینے سے ایک پیڑ چھہ سال تک سماجی بائیکاٹ کر سکتا ہے تو اس جرم میں مرد بھی شریک ہو گا نا تو پھر وہ کھیتی کرے۔ مزدوری کرے۔ بڑی نوکری کرے یا چھوٹی۔ مگر اس کی برکت پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ کھیت بھی آباد ہوتے ہیں۔ مزدوری بھی مگر اسی عمل ایک عورت ہی کا اتنا بائیکاٹ کیوں ہوا۔ جواب وہی ”پدرسری“ ۔

دوسرے معاشروں میں خواتین اور مرد کے ہر عمل سزا اور جزا برابر ہوتی ہے اور عمل بھی۔ چاہے اچھا ہو یا برا۔ مگر ہمارے معاشرے میں پیڑ، پودوں، پتوں، درختوں، گھاس اور تنکوں تک کو پتا ہوتا ہے کے ہم نے غیرت صرف عورت کے عمل پر کھانی ہے۔

Facebook Comments HS