بجلی کے بل میں غیر قانونی ڈیڈکشن
پاکستان میں جہاں عوام کو اور بہت مسائل کا سامنا ہے وہاں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا ، بجلی کے بھاری بلوں کے آنے کا اور ٹرانسفارمرز کے روزانہ کی بنیاد پر فنی خرابی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اور ان کی مرمت کے پیسے بھی ادارہ عوام سے لیے جاتے ہیں جو کہ ادارے کی ذمے داری ہے۔
یہ ایک الگ بحث ہے کہ جو بجلی کا صارف، بجلی استعمال کر رہا ہے اور جو بل دیے جاتے اس میں جو بجلی بننے سے لے کر ، بجلی کی کی فراہمی تک جو خرچہ آتا ہے وہ بھی بل میں موجود ہوتا ہے لیکن بل کا بھاری آنا ایک سوال ہے جس کا جواب متعلقہ ادارہ دے سکتا ہے۔
لیکن ہمارا آج کا اصل عنوان غیر قانونی ڈیڈکشن ہے جو کہ پاکستان میں بجلی صارفین پر بہت ظالمانہ طریقے سے لگائی جا رہی ہے۔
آئیے جانتے ہیں ڈیڈکشن ہے کیا
اصل میں جب حیسکو، لیسکو یا سیپکو وغیرہ اپنی ٹیمیں بجلی صارفین کے میٹر کی چیکنگ کے لیے بھیجتی ہے، تو اگر کسی کی میٹر میں ٹیم کو شک ہوجاتا ہے کہ صارف نے میٹر سے بجلی چوری کی ہے، کیونکہ اس کے میٹر کی ریڈنگ کم ہے اور بجلی کا استعمال زیادہ ہے تو وہ ٹیم رپورٹ بنا کر الیکٹریکل انسپیکٹر کو دیگی، جو کہ اس کیس کو دیکھے گا اور صارف کو نوٹس پیچھا جائے گا اور اس صارف کو سنا جائے گا، کیس کے دوران اگر ضرورت ہو اور یہ تعین کرنا پڑے کہ بجلی کی چوری ہوئی یا نہیں کیونکہ میٹر میں اتنی ریڈنگ نہیں ہو رہی جتنی بجلی استعمال میں ہو رہی ہے تو ، میٹر کو لیبارٹری بھی بھیجا جا سکتا ہے۔
لیکن اس بتائے طریقے کے علاوہ بجلی کے بل پر ڈیڈکشن نہیں لگائی جا سکتی۔ لیکن وہ ٹیمیں لگا بجلی کے بلوں پر ڈیڈکشن لگا دیتی ہیں جو کہ غیر قانونی ہے اور اس کی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
الیکٹریکل انسپیکٹر کیس کو 90 دن میں حل کرے گا
ڈیڈکشن کا کیس الیکٹریکل انسپیکٹر کو ریفر کیا گیا ہو تو وہ 90 دن میں اس کیس کو حل کرے گا اگر نہیں کرتا تو صارف گورنمنٹ کو بتائے گا۔
ڈیڈکشن پر سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ بڑا واضح ہے۔ دو رکنی بینچ میں جسٹس خادم حسین تنیو اور جسٹس محمد شفیع صدیقی نے ڈیڈکشن کے متعلق ایسا فیصلہ دے رکھا ہے۔ اور انھوں نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ الیکٹریکل انسپیکٹر 4 ہفتوں میں ڈیڈکشن کا کیس نمٹائے گا۔
Cp _D no : 1360/2018
یہ بلاگ میں نے خاص طور پر عوام کے لیے لکھا ہے جو غیر قانونی ڈیڈکشن سے متاثر ہیں اور جن پر بجلی کی فراہمی والے ادارے بغیر نوٹس دیے، اور بغیر ان کو سنے ہوئے، ڈیڈکشن لگا دیتے ہیں اور ساتھ میں بجلی صارف پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ آپ نے بجلی کی چوری کی ہے۔ تو عوام کو ان سے پوچھنا چاہیے کہ کیا صاحب اپ نے ایسی چوری کا ہم کو کوئی نوٹس دیا نہ ہی آپ نے ہمیں سنا ایسے آپ بجلی پر ڈیڈکشن نہیں لگا سکتے۔
مصنفہ اسے اس ایمیل ایڈریس پر رابطہ کیا جا سکتا ہے
somiausman441@gmail.com

