امریکی اقدامات غور و فکر کا تقاضا کرتے ہیں
بڑے ممالک کے مشترکہ اقدامات بسا اوقات امن کے نام پر تباہی کا موجب بن جاتے ہیں۔ امریکہ کا انڈو پیسیفک اکنامک فورم بھی ایک اسی نوعیت کا قدم ہے کیونکہ اس میں ہر معاملہ چین سے متعلق ہے اور چین سے متعلق ایسا کوئی بھی قدم ممکن ہی نہیں ہے کہ جس کے ساتھ سے وطن عزیز کو سابقہ نہیں پڑے گا۔ امریکہ خطے میں کیا کرنا چاہتا ہے اور وہ کیا کر گزرے گا اس کو سمجھنے کے لئے اس کے دو اقدامات کو زیر بحث لانا ضروری ہو گا۔
امریکہ نے عراق پر حملہ کیا اس کی وجہ یہ بیان کی کہ صدام کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں، ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ سب جھوٹ کا پلندا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس زمانے میں بش ڈاکٹرائن سامنے آئی تھی کہ جس کی رو سے عراق ایک مرکزی مقام تھا کہ جہاں پر جمہوریت کے نام پر نظام تبدیل کرنا مقصود تھا اور جب ایسا ہو جائے گا تو اس نظام کی تبدیلی کو ایران اور شام میں درآمد بھی کیا جائے گا اور وہاں بھی اپنی مرضی کا نظام مسلط کرنے پر عرب دنیا کو واضح پیغام ہو گا کہ کسی نے چوں چرا کرنے کا سوچا بھی تو حشر صدام جیسا ہو گا۔
عراق جنگ کے بعد داعش کا ظہور کوئی اتفاقی امر نہیں تھا بلکہ شام میں نظام کی تبدیلی کے لئے سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ بہرحال وہاں پر کامیابی تو نہیں ہوئی مگر تباہی ضرور مچ گئی۔ دوسرا معاملہ جس کو پرکھنا ضروری ہے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے، وہ روس یوکرائن جنگ ہے۔ ہمارے یہاں ایسے بیان کر دیا جاتا ہے کہ جیسے روس کے صدر پیوٹن بہت سیمابی طبیعت رکھتے ہے اور انہوں نے سابق سوویت یونین کو بحال کرنے کی ٹھان لی ہے جس کی ایک کڑی روس یوکرائن جنگ ہے۔ حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ پیوٹن اچھی طرح سے جانتا ہے کہ اب اس پر سوچنا بھی کہ سابقہ سوویت یونین کو بحال کر دیا جائے سوائے احمقوں کی جنت میں رہنے کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ پیوٹن کیا سمجھتا ہے اس کو جاننے کے لیے اس کی تقریر کا ایک اقتباس ”
Whoever does not miss the soviet union has no heart . Whoever wants it back has no brain.
ان دو فقروں میں اس کی اس حوالے سے مکمل پالیسی کا بیان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ سابق سوویت ریاستوں میں ایسے حالات پیدا کر رہا ہے جو کہ روس کی سلامتی کے لیے خطرناک ہیں جس کی وجہ سے بادل ناخواستہ روس کو یوکرین کو روکنے کی غرض سے اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ کرنا پڑا ہے۔ اس قضیے کی ابتدا رومانیہ کے دارالحکومت بخارسٹ میں 2008 میں منعقد نیٹو کانفرنس سے ہوتی ہے جب اس بات کا اعلان کیا گیا تھا کہ یوکرائن اور جارجیا کو نیٹو کا حصہ بنا دیا جائے گا۔ یعنی مغربی یورپ اور نیٹو چلتے ہوئے یوکرائن کے توسط سے روس کی سرحد پر آ دھمکے گا اور دونوں کے درمیان روس کی سرحد ہی اب سرحد قرار پا جائے گی۔
اس اقدام میں صرف نیٹو کی توسیع ہی شامل نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کی توسیع اور امریکہ کے حامیوں پر مشتمل حکومت کا قیام جو روس کے لیے مشکلات پیدا کرے۔ روس نے اس کے فوری بعد یوکرائن پر واضح کر دیا تھا کہ روس ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ یوکرائن آزاد خارجہ پالیسی اختیار نہ کریں یا وہ امریکہ سے بہتر تعلقات قائم نہ کرے لیکن نیٹو کی یوکرائن میں آمد خالص طور پر فوجی اقدام تصور ہو گا اور روس کے لیے یہ ممکن ہی نہیں رہے گا کہ وہ یوکرائن کے اس اقدام کے بعد یا اس کی طرف بڑھتے ہوئے بھی یوکرائن کو ایک فوجی خطرے کے طور پر نہ دیکھیں اور امریکی حکمت عملی کو ناکام بنانے کی غرض سے اقدامات نہ اٹھائے۔
اب یوکرائن کی امریکی نواز حکومت کو امریکہ کی تھپکی ملی ہوئی تھی۔ لہذا وہ کسی طور پر بھی اس حوالے سے روس کے خدشات کو پرکاہ کے برابر بھی اہمیت دینے کو تیار نہیں ہوا اور جب روس نے فوج کشی کر ڈالی تو امریکہ کو روس کے خلاف ایک پروپیگنڈا کرنے کا موقع میسر آ گیا لیکن اس سب میں یوکرائن میں ایک تباہی مچ گئی۔ ان دونوں میں سبق یہ ہے کہ امریکہ کو اس سے غرض نہیں کہ کہاں پر کتنی تباہی مچتی ہے اور منزل بھی ملتی ہے کہ نہیں اس لیے امریکہ انڈو پیسیفک اکنامک فورم کی آڑ میں ہمارے خطے میں کیا کرنا چاہتا ہے کیونکہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ داعش بنی عراق اور شام میں تھی مگر اس کے اثرات ہم ابھی تک بھگت رہے ہیں۔


