موسیقی روح کی غذا نہیں ہے


بھوک لگی تھی۔ بے چینی ہوئی۔ جسم نے کمزوری محسوس کی۔ کسی کام میں دل نہیں لگا۔ آپ چڑچڑے ہونے لگے۔ پھر کہیں سے کچھ کھانے کو مل گیا۔ توانائی لوٹ آئی۔ آنکھیں کھل گئیں۔ دنیا بھلی لگنے لگی۔

لیکن یہ کیا؟ موسیقی روح کی غذا ہے۔ آپ کی روح کو بھی بھوک لگ سکتی ہے؟ کیسے؟ روح کو بھوک پیاس لگتی ہو گی۔ لیکن اس بھوک کو مٹانے کا ذریعہ موسیقی ہی کیوں بتایا گیا ہے۔ مثلاً سہانے موسم میں کسی پارک میں چہل قدمی بھی تو روح کی بالیدگی کا سامان ہو سکتی ہے۔ کوئی اچھی پینٹنگ دیکھ کے بھی تو آپ ایلیویٹڈ فیل کر سکتے ہیں۔ اور سخت گرمی میں ٹھنڈے پانی میں نہا لینا کتنی بڑی نعمت ہے، اس کا اندازہ ہے آپ کو؟

موسیقی کو روح کی غذا کہ کر اس کا جواز پیدا کرنا موسیقی کے حق میں سب سے کمزور دلیل معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ موسیقی تو کئی قسموں کی ہے۔ کچھ راگ ایسے ہیں کہ طبیعت کو اور بوجھل کر دیں۔ کچھ گیت ایسے ہیں جن سے دل میں بے چینی بڑھنے لگتی ہے۔ وجہ شاید ان گیتوں سے جڑی ناخوشگوار یادیں ہی کیوں نہ ہوں۔ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ایسی موسیقی روح کو مزید بے جان کر دیتی ہے اور پھر راک، میٹل اور ہپ ہاپ کو بھی روح کی غذا مانا جائے، کیونکہ موسیقی تو بہرحال وہ ہے۔

اسی لیے تو وہ لوگ جو موسیقی کو روح کی غذا کے طور پر کنزیوم کرتے ہیں یا اسی روایتی فقرے میں موسیقی کا جواز تلاش کرتے ہیں، اپنی پسند نا پسند کو چھوڑ کر کبھی میوزک کو اپریشی ایٹ نہیں کر پاتے۔ اور ان کے ہاں اچھی موسیقی وہی ہوتی ہے جس کی ان کو سمجھ آئے یا جس کو سننے کے وہ عادی ہو جائیں۔ ایسے لوگ دراصل موسیقی نہیں سن رہے ہوتے بلکہ اپنے پسندیدہ گلوکار کو سن رہے ہوتے ہیں۔ یا پھر پہلے سے سنے ہوئے گانوں کے ذریعے کسی گزرے ہوئے اچھے یا برے وقت کو یاد کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ روح کی غذا والی بات اچھی تو لگتی ہے مگر موسیقی کی افادیت کا مکمل احاطہ نہیں کرتی

موسیقی در اصل روح کی غذا نہیں بلکہ جذبات کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے شاعری ہے۔ ولیم ورڈزورتھ نے کہا تھا کہ شاعری طاقتور جذبات کا بے ساختہ اظہار ہے، یہی کام موسیقی کا بھی ہے۔ عروض اور بحر شاعری کی جان ہیں۔ لے اور سر موسیقی کی روح۔ بات کسی خاص لحن میں ڈھلتی ہے تو شاعری کہلاتی ہے۔ ورنہ تو آپ نثر ہی پہ اکتفا کر لیجیے۔ یہی حال موسیقی کا ہے۔ جدید انسان جتنا کمپلیکس ہے، اتنے ہی اس کے جذبات اور بالآخر اسی تناسب سے ان جذبات کا اظہار۔

جو موسیقی کو روح کی غذا مان کر سنے جاتے ہیں، وہ موسیقی کو اس کی تمام تر اصناف کے ساتھ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ مثلاً ایسا کم ہی دیکھا کہ کسی غزل پسند کرنے والے نے راک میوزک کے بارے میں کوئی خیر کا جملہ منہ سے نکالا ہو۔ غور کریں تو اس کی پسند موسیقی نہیں بلکہ غزل ہے۔ وہ موسیقی کو ایک خاص ثقافتی پس منظر میں دیکھنے اور سننے کا عادی ہے۔ اور اس کے پیچھے وہی روایتی سوچ ہے کہ موسیقی روح کی غذا ہے اور جو روح کو تھوڑا ہلا دے وہ تو پھر موسیقی نہ ہوئی۔

دراصل موسیقی یا کوئی بھی فن اصناف کا محتاج نہیں ہوتا۔ فن، فنکاروں کا میدان ہے، اس کا رتبہ اور افادیت متعین کرنا نقاد کا۔ یہ نقاد کی دو نمبریاں ہیں جو موسیقی ایسے حساس ترین فن کو بھی قسموں میں بانٹ رہا ہے۔ حالانکہ موسیقی صرف دو طرح کی ہوتی ہے، اچھی یا بری۔

Facebook Comments HS