دھوپ کے موسم میں حسین مجروح کا "سائبان”
کتابی سلسلہ شمارہ اول۔ مدیر اعلی جناب حسین مجروح
برادرم حسین مجروح نے کمال محبت اور مہربانی سے سہ ماہی سائبان کا پہلا شمارہ عنایت کیا۔ ممنون ہوں۔ کتابی صورت کے اس رسالے کا منور محی الدین کا بنایا سرورق اور اس کا گیٹ اپ دیکھ کر ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ اس کی تخلیق پر بہت محنت کی گئی ہے۔
یہ سہ ماہی پرچہ، سائبان تحریک کا وکیل ہے۔ سرورق سے اگلے صفحے پر اس تحریک کے مقاصد و ترجیحات درج ہیں جو بہت جائز اور عبث ضروری ہیں لیکن جو ترجیح سر فہرست ہے وہ ہے،
” کتاب پڑھیں اور خرید کر پڑھیں۔ “
میرا خیال ہے کہ ہم سب لکھنے پڑھنے والوں کو اسے ماٹو بنا لینا چاہیے۔
” من و تو“ کے تحت ”رہتے ہیں اک مکاں میں مگر۔“ کے عنوان سے جناب حسین مجروح نے جو اداریہ تحریر کیا ہے وہ نہایت قابل غور و عمل ہے۔ انہوں نے بجا طور پر لکھا ہے کہ ”ایک ہی پیڑ کی ان شاخوں ( شاعری، فکشن، موسیقی، مصوری وغیرہ) میں آپسی میل جول عنقا ہے اور بول چال بند۔ بڑھتی ہوئی مغائرت کا یہ عالم ہے کہ شاعر مصور کی سرگرانی سے بے خبر ہے اور افسانہ نگار سر ساگر کی لہروں سے نا آشنا۔ جن چشموں اور معدنوں سے نخل تخلیق کی کونپلوں کو کھاد پانی ملا کرتے تھے وہ ماضی کا غبار ہوئیں سو اب ہر سو اکہرے پن کی اندھیر نگری ہے اور بے تاثیری کا چوپٹ راج۔“ اس کے بعد وہ قاری سے ملتمس ہیں کہ وہ ان روٹھے ہووں کو منانے اور بھاری پتھر کو سرکانے میں ان کی مدد کرے۔ یاد رہے کہ یہ کوئی روایتی قسم کا عام سا اداریہ نہیں بلکہ ادب کے ایک تخلیق کار کی ہم سب سے ایک پر خلوص اپیل ہے۔
ہر جریدے کی طرح اس کا آغاز بھی حمد و نعت سے ہوا ہے اور اس کے بعد سریندر پرکاش کی دو تخلیقات ہیں، ”آپ بیتی“ اور ”راندے ووز“ ۔ ان طویل صفحات کا لب لباب ایک پیراگراف میں سمو دیا گیا ہے، ”ہمارے ملک ( بھارت) میں مذہبی اقلیت کے تحفظ کے لیے کئی مذہبی گروہ ہیں، سیاسی اقلیت کے لیے کئی پارٹیاں ہیں، لیکن ذہنی اقلیت کے لیے کوئی کسی قسم کا تحفظ دینے والا نہیں ہے، جب کہ سچ یہ ہے کہ صرف ذہنی اقلیت میں آ جانے والا آدمی سب سے زیادہ مدد کا مستحق ہوتا ہے۔ “
جریدے میں شامل افسانوں کی بات کروں تو ”فتح پور سیکری کی زرتاج“ ، محترمہ طاہرہ اقبال کا ایک بیش قیمت افسانہ لگا۔ اس افسانے میں مغلوں کے ساتھ جو افسانہ نگار نے کر دیا ہے، وہ قبر سے نکل کے دیکھیں تو دوبارہ اندر چلے جائیں۔ اس افسانے کے لیے طاہرہ اقبال صاحبہ کو بہت سی داد۔
جناب مبین مرزا کا افسانہ، ”آدمی اور شہر“ میں افسانے سے زیادہ حقیقی کہانی کا تاثر ملتا ہے، وہ اس لیے کہ اس میں سماجی بود و باش کے حوالے سے تکالیف میں گھرے انسانوں کا سیدھا سیدھا ذکر ہے۔ اس میں انہوں نے آدمی اور اس کی مٹی کے مسئلے کو موضوع بنانے کی کوشش کی ہے جسے افسانوی ٹچ دینے کی سعی کہا جا سکتا ہے۔
” صحرا میں سفینہ“ اخلاق احمد صاحب کی عمدہ ڈکشن، منظر نگاری، جزئیات اور افسانے کے کرداروں کی نفسیات کے حوالے سے یہ ایک اچھی تخلیق ہے لیکن اس کا موضوع صدیوں پرانا ہے اور اس میں کوئی نیا برتاؤ بھی نظر نہیں آتا۔ افسانے کے نصف میں ہی قاری کو علم ہونا شروع ہو جاتا ہے کہ افسانہ کہاں ختم ہو گا۔ چونکہ زمانہ طالبعلمی میں صنف مخالف کی کشش، تعلقات کی استواری اور بعد میں پیدا ہونے والی صورت حال بذات خود ایک دلچسپی کی سی صورت رکھتی ہے اس لیے قاری کے لیے یہ ایک دلچسپ افسانہ ہے۔
” مرہم درد کا دوشالہ“ نجیبہ عارف صاحبہ کا یہ افسانہ بھی ڈکشن اور لفظیات کے اعتبار سے ایک اچھا افسانہ ہے۔ موضوع تو اس کا بھی روائتی سا ہی ہے۔ بالا کوٹ کے پہاڑی علاقے کی منظر کشی خوبصورت ہے۔ قاری افسانہ پڑھتے ہوئے مسافروں کے ساتھ ساتھ سفر کرتا ہے لیکن بچھڑے ہووں کو چالیس برس بعد اس طریقے سے ملانا کہ ایک کی بس چھوٹ گئی اور دوسرا جان بوجھ کر سوار نہ ہوا اور مزید یہ کہ دونوں کے پاس ایسا کوئی سامان نہیں تھا جس کا بس میں رہ جانے پر افسوس ہو۔ یہ ”اتفاقات“ کچھ شعوری سے لگتے ہیں۔
رفاقت حیات صاحب کی ”اڑتی ہوئی چارپائی،“ قدرے طوالت کا شکار ہے، مزید براں قاری اس کی مقصدیت سمجھنے سے قاصر ہے۔ میاں شہزاد صاحب کا، ”ختم شد کے بعد کی ایک کہانی“ داستان گوئی کا سا مزہ لیے ہوئے ہے۔ متن اور کرافٹ کے اعتبار سے اسے آج کی کہانی قرار دیا جا سکتا ہے۔
” کیچڑ کا انسان“ محترم مرزا اطہر بیگ کے زیر تحریر ناول کا ایک باب ہے جسے اس جریدے میں شامل کیا گیا ہے۔ ناول کے ایک باب سے ناول کے خد و خال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ناول نگار کیا لکھنا چاہتا ہے۔ ویسے بھی مرزا اظہر بیگ صاحب نے تواتر سے جو ناول پیش کیے ہیں وہ ایک خاص طبقے کے پڑھنے کی چیز ہیں۔ مقولہ مشہور ہے کہ ادب وہ جو عام قاری تک ترسیل کرے۔ ہمارے ہاں کچھ ناول نگار اور آج کے کچھ افسانہ نگار یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ ان کے لکھے کا ادراک کرنے کے لیے قاری کو اپنی ذہنی سطح بلند کرنی چاہیے تو اس میں تو پھر سماجی، معاشی، معاشرتی اور دیگر رکاوٹیں ہیں۔ جہاں تعلیمی نصاب ایک جیسا نہ ہو وہاں قاری کا شعور بلند ہونا ایک حسرت ہی رہ جاتی ہے۔
” سید وزیر الحسن عابدی، کولن ڈیوڈ، بانسری بابا، سائیں مرنا“ ادب کے قاری کی دلچسپی کے مضامین ہیں۔ جناب ناصر عباس نیئر کا مضمون ”کثیر لسانیت اور لسانی تنوع پسندی“ بہت اہم مضمون ہے۔ خرم سہیل صاحب کی ”پرچون کی دکان“ حالیہ لٹریچر فیسٹیول کی داستان ہے اور ایسے تمام فیسٹیول اسی قسم کی روداد لیے ہوتے ہیں۔
منور محی الدین صاحب کا وین گوغ کی سن فلاور، ادب اور مصوری کے طالبعلموں کے لیے ایک قیمتی مضمون ہے
” روح انسانی کی سمفنی۔ رقص“ ، نینا عادل صاحبہ کی بھرپور تحقیق اور تخلیق فن کا حسین امتزاج ہے۔ یہ اس جریدے کا سب سے اچھا مضمون ہے۔ فارسی اشعار نے اس میں الگ مزا دیا۔ ایسے مضامین عام طور پر بھاری پن کا شکار ہو جاتے ہیں یا بوریت پیدا کرتے ہیں لیکن اس پورے مضمون میں قاری کی دلچسپی شروع سے آخر تک برقرار رہتی ہے۔
نستعلیق لاہوری کے زوال کا بیانیہ سجاد خالد صاحب کی زبانی بجا لیکن اب تو کتابت ڈیجیٹل ہو چکی ہے۔ آئندہ معلوم نہیں کیا کیا ظہور پذیر ہو گا۔ مضمون اپنی جگہ پر قابل ستائش ہے۔
” اینیمل فارم“ پوری دنیا میں جانا مانا ایک معروف و مشہور ناول ہے۔ اس پر فلمیں بھی بن چکیں۔ سید کاشف رضا صاحب نے اس کی اشاعت کی کہانی رقم کر کے ہماری معلومات میں اضافہ کیا ہے۔ خاص طور پر ٹی ایس ایلیٹ کا خط اور ٹراٹسکی کا ذکر، بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ سید صاحب کا شکریہ۔
جناب خالد جاوید صاحب کے ساتھ جناب اقبال خورشید کی گفتگو میں خالد جاوید صاحب کا آج کے افسانہ نگاروں کو سراہنا قابل ستائش ہے۔ انٹرویو میں زیادہ تر مارکیز اور کنڈیرا کے حوالے سے بات ہوئی اور کیوں نہ ہوتی دونوں عالمی سطح کے بہترین تخلیق کار ہیں۔ خالد جاوید صاحب کا ایک ناول ”موت کی کتاب“ میں نے پڑھا تھا۔ وہ تو مجھے کوئی متاثر نہ کر سکا۔ اس پر میں نے تبصرہ بھی لکھا تھا۔
شاعری میں جناب صابر ظفر، شعیب بن عزیز، شاہدہ حسن، اعجاز کنور راجہ کی غزلیں عمدہ اور قابل ذکر ہیں۔ ثروت صاحب کی غزلیں تو تبرک ٹھہریں۔ نظموں میں حلیم قریشی، نسیم سید، عنبرین صلاح الدین کی نظمیں بہت پسند آئیں۔ مسعود قمر کی نظم، ”وہ عورت کبھی اکیلے نہیں سوتی“ ان سب نظموں میں سب سے اعلی ہے اور ایسی نظم مسعود قمر ہی لکھ سکتے ہیں۔
نزار قبائی کا گوشہ بھی خوب اور وقت کی ضرورت ہے جو سائبان میں شامل ہے۔
میں برادرم حسین مجروح کو اس بھرپور کاوش اور اس خوبصورت مجلے پر مبارک باد اور ڈھیروں داد پیش کرتا ہوں کہ جریدوں پر ایسی محنت 70، 80 کی دہائی کے بعد کم ہی نظر آئی۔ اور یہاں محترم غلام حسین ساجد کے الفاظ ادھار لیتے ہوئے یہی کہوں گا کہ حسین مجروح نے واقعی مرتب کا نہیں مدیر کا کردار نبھایا ہے اور خوب نبھایا ہے۔



