تم بھی خفا ہو، لوگ بھی برہم ہیں دوستو


سیاست کا درجہ حرارت موسم کے درجہ حرارت سے اوپر جا رہا ہے اور اس کی شدت میں مزید اضافے کا امکان ہے سیاست ہو یا صحافت معیشت ہو یا ملازمت عدلیہ ہو یا وکیل محفوظ راستہ دینے والے ہوں یا راستے کی تلاش کرنے والے سب کے سب ہی بڑھتے ہوئے سیاسی و موسمی درجہ حرارت کی تپش سے متاثر ہو رہے ہیں جس کے باعث اکثر برہم ہی رہتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب جج صاحب دوران سماعت کسی بات پر برہم ہوتے تو بحث کرنے والے وکیل کی جانب سے اعتراض کیا جاتا کہ آپ برہم ہیں یعنی غصے میں ہیں تو کیس کی سماعت سے الگ ہو جایں ایسا نہ ہو کہ آپ غصے کی حالت میں غلط فیصلہ کر دیں جس پر اکثر جج صاحب کیس سے الگ ہو جاتے پھر وقت بدلا اب ہر اختیار والا برہم ہوتا ہے نہ کوئی اعتراض کی جرات کرتا ہے اور نہ ہی برہم شخصیت کے سامنے کھڑا رہ سکتا ہے جو کھڑا ہونے کی کوشش کرے گا وہ گھر جائے گا وہ چاہے سرکاری اہلکار ہی کیوں نہ ہو اور اگر وہ گھر نہ پہنچے تو پھر اس کا پتہ بتانے سے ہم قاصر ہیں۔

ہمارے پیارے ملک پاکستان میں سب سے زیادہ وزیر اعظم برہم ہوتے ہیں اور برہم ہو کر ایک اجلاس طلب کر لیتے ہیں سینئر افسران حاضر ہوتے ہیں وزیر اعظم برہم ہوتے ہیں خبر بھی شائع ہو جاتی ہے چینلز پر ٹکر بھی چل جاتے ہیں وزیر اعظم کی واہ واہ ہوتی ہے کہ کیسے افسران کی طبعیت درست کی ہے افسران واپس جا کر اجلاس طلب کرتے ہیں وہ اپنے محکموں کے ماتحت افسران پر برہم ہوتے ہیں اور اتنا برہم ہوتے ہیں کہ ایک ادھا افسر معطل اور کسی دوسرے کی انکوائری لگا دی جاتی ہے اب یہ افسر اپنے دفاتر میں جاتے ہیں تو سب سے پہلے نائب قاصد پر برہم ہوتے ہیں وہ غریب صاحب بہادر کے غصے کو کم کرنے کے لیے ٹھنڈا منرل واٹر پیش کرتا ہے کافی پیش کرتا ہے شدید گرمی کا موسم بھی ہو تو افسران کے کمرے تو سرکار کے خرچے پر اے سی چل رہے ہوتے ہیں ماحول ٹھنڈا ہی رہتا ہے ان افسران کا دماغ نائب قاصد کی محنت سے جب نارمل سطح پر آتا ہے تو وہ اپنی نوکری بچانے کے لیے کلرک بادشاہ کو معطل کر کے اپنے اوپر بوجھ کم کرتے ہیں پھر ایک ایکشن سے بھرپور رپورٹ تیار ہوتی ہے جو بڑے افسر کو پیش کی جاتی ہے جو اپنے نوٹ کے ساتھ اپنے باس کو پیش کرتا ہے اور پھر وہ سینئر افسران یہ رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کرتے ہیں جس میں بتایا جاتا ہے کہ ہم نے ملک کے بہترین مفاد میں کلرک بادشاہ کو معطل کر کے انکوائری لگا دی ہے اور اس کو عبرت کا نشان بنا دیا جائے گا وزیر اعظم اس افسر کی شاندار کارکردگی پر خوش ہو کر اسے اگلے گریڈ میں ترقی دیتے ہیں لیکن جس مسئلے پر وزیر اعظم برہم ہوئے تھے وہ تو جوں کا توں ہی رہا یعنی مہنگائی پر کنٹرول نہ کیا جا سکا جس پر عوام برہم ہوئے تھے۔

بس عوام کو تسلی دی گئی کہ حکومت نے ایکشن لیا ہے اور وہ بھی برہم ہے اور اس برہم کے کھیل میں عوام اپنے ہی گھروں میں برہم ہوئے کہ اخراجات کم کریں شوہر اور بیوی ایک دوسرے پر برہم ہوئے اور پھر بات گھر کو چلانے کی خاطر دب گئی کیونکہ وزیر اعظم عوام کی بھلائی کے لیے کسی اور مسئلے پر برہم ہو چکے تھے۔ دوسری طرف روزانہ کی بنیاد پر ہماری معزز عدلیہ کے جج صاحبان بھی اکثر برہم رہتے ہیں جیسا کہ پہلے لکھ چکا ہوں کہ پہلے دور میں جج صاحب کے برہم ہونے پر وکلاء اعتراض کر دیتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہوتا جج صاحب برہم ہوئے آج ہی فیصلہ کرنا ہے متعلقہ افسر مسئلہ حل کریں ورنہ گھر جایں معزز عدالت کے برہم ہونے پر افسر اپنے ماتحت پر صرف برہم ہو سکتا ہے کارروائی کرنے سے گریز کرتا ہے اپنی نوکری بچانے کے لیے عدالت سے معافی مانگ کر مزید مہلت کی درخواست کرتا ہے لیکن عدالت کیس حل ہونے تک برہم رہتی ہے۔

عدالتی نظام سے ہی منسلک وکلاء بھی اکثر برہم ہو جاتے ہیں کبھی اپنے سائل پر کبھی گواہ پر اور کبھی عدالت سے مرضی کی رعایت نہ ملنے پر برہم ہو جاتے ہیں اور جن کو مائی لارڈ کہا جاتا تھا ان کے گریبان تک ہاتھ چلا جاتا ہے وکلاء اتنا برہم ہو جاتے ہیں کہ جس عدالت میں کسی زمانے میں کوئی اونچا نہیں بول سکتا تھا وہاں سے ملزم کو ضمانت خارج ہونے پر چھڑوا کر لے جاتے ہیں کیونکہ قانون اندھا ہے اس لیے کچھ نظر نہ آنے پر کارروائی نہ کرنے پر مجبور ہے۔

اب عوام کا ذکر بھی کر لیتے ہیں جی عوام بھی اکثر برہم ہوتے ہیں ان کو سیاسی جماعتیں پیسے دے کر بھی مرضی کا برہم کر لیتی ہیں اور اگر ان کو مطلوبہ رقم نہ ملے تو وہ اصل والا برہم ہو جاتے ہیں جن کے ساتھ آتے ہیں ان پر ہی برہمی کا اظہار کرتے ہیں اور جہاں عوام حقیقی طور پر اپنے مسائل کے حل نہ ہونے پر برہم ہو کر سڑکوں پر آ جاتے ہیں وہاں حکومت بھی برہم ہو کر ان کا لاٹھی چارج اور آنسو گیس سے استقبال کرتی ہے اور ان کی تمام برہمی آنسو گیس کے باعث آنسووں میں بہہ جاتی ہے جو بھاگ جاتے ہیں ان پر گھر والے برہم ہوتے ہیں اور جو پکڑے جاتے ہیں وہ تھانوں کے اندر سنتری بادشاہ کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں اس کی جیب گرم نہ ہوئی تو وہ بھی لگے ہاتھوں برہم ہو جاتا ہے یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ سامنے آئے شکار کو کون چھوڑتا ہے۔

برہم کے اس کھیل میں ایک عوام ہیں جن کے برہم ہونے پو کوئی ایکشن نہیں ہوتا احتجاج کرنے والا مسائل سے تنگ آ کر جان بھی گنوا دے تو حکومت کی طرف سے ایک سرکاری چیک دے کر متاثرہ کے زخموں پر نمک چھڑک دیا جاتا ہے یہاں بھی اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ متاثرہ فیملی برہم ہو کر چیک واپس کر دیتی ہے اور کسی کا چیک ہی کیش نہیں ہوتا اس لیے تمام با اختیار فیصلہ سازوں اور عوام سے احترام کے ساتھ گزارش ہے کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں برہم ہونا چھوڑ کر احمد فراز کا یہ شعر پڑھا کریں۔

تم بھی خفا ہو لوگ بھی برہم ہیں دوستو

اب ہو چلا یقیں کہ برے ہم ہیں دوستو

Facebook Comments HS