شکست خوردہ سیاسی جرنیل کو ریاستی اداروں کے سہاروں کی تلاش
عمران خان نے گرفتاری کے خوف سے لانگ مارچ سے ایک ہفتہ قبل ہی پشاور میں وزیر اعلیٰ ہاؤس میں پناہ لے لی تھی لیکن ریڈ زون پر قبضہ کرنے میں ناکامی کیا ہوئی انہوں نے خیبر پختونخوا میں مستقل ڈیرے ڈال لئے تھے۔ اب فی الحال گرفتار نہ کرنے کی ضمانت پر بنی گالہ میں واپس آ گئے ہیں جو وفاقی حکومت گرانے کے لئے پی ٹی آئی کا ہیڈ کوارٹر بن گیا ہے۔ جہاں کپتان ہر روز پسندیدہ سوشل میڈیا اور اینکر پرسنز کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کو دھمکی آمیز انداز میں پیغامات بھجوا رہے ہیں۔ کبھی تحفظ فراہم کرنے کے لئے منت سماجت پر اتر آتے ہیں اور کبھی درست فیصلے نہ کرنے تباہی و بربادی کا رونا روتے ہیں۔ خاکم بدہن اب تو انہوں نے مایوسی کے عالم میں پاکستان کے تین ٹکڑے ہو جانے اور ایٹمی اثاثوں سے محروم کیے جانے کی درفنطنی چھوڑ دی ہے۔
عمران خان 25 مئی کو جس جوش و ولولے سے اسلام آباد پر حملہ آور ہوئے اسی تیز رفتاری سے ریڈ زون میں دھرنا دیے بغیر واپس پختونخوا چلے گئے۔ اب انہوں نے اپنے احتجاج کو سپریم کورٹ کی اجازت سے مشروط کر دیا ہے اگرچہ عمران خان نے اس وقت ریڈ زون میں بیٹھے رہنے کا اعلان کیا تھا لیکن 2014 کی طرح اب کی بار بھی بے نیل و مرام واپس لوٹ گئے اور جاتے جاتے ایک بار پھر الٹی میٹم دے دیا کہ 6 روز میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہ ہوا تو پھر پوری تیاری سے آؤں گا۔ سر دست کپتان نے اسلام آباد آنے کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا وہ اعلیٰ عدلیہ جس کے رات کو عدالت پر معترض تھے، اس سے ساری امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ ان کو ریڈ زون میں براجمان ہونے کے لئے تحفظ فراہم کرے اور انہیں رانا ثنا اللہ تنگ کریں اور نہ ہی حمزہ شہباز ان کے جلوسوں کو روکیں۔
پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے جس میں اس نے جہاں اسلام آباد میں پر امن احتجاج اور اجتماع کی اجازت مانگی ہے۔ وہاں احتجاج کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالنے اور پی ٹی آئی کے کسی کارکن کو رفتار نہ کرنے کی استدعا کی ہے۔ پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل جو خود بھی ان دنوں پشاور میں پناہ گزین ہیں، نے کہا ہے پر امن احتجاج ہر شہری کا حق ہے پر امن شہریوں کو گرفتار کرنا آرٹیکل 9 اور 10 کی خلاف ورزی ہے۔ وفاقی حکومت کا سوال ہے کہ پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں نام نہاد پر امن احتجاج کی اجازت دے دی جائے تو اس کے ریڈ زون پر قبضہ نہ کرنے کی ضمانت کون دے گا۔ قبل ازیں عمران خان کو اسلام آباد داخل ہونے کی اجازت دینے کے بعد جو کچھ شاہراہ قائد اعظم پر ہوا اس سے سپریم کورٹ پوری طرح آگاہ ہے۔
سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے کارکنوں کی گرفتاریوں اور راستوں کی بندش کے کیس کو نمٹاتے ہوئے تحریری فیصلہ میں کہا ہے کہ عدالت عظمیٰ کو مایوسی ہوئی ہے۔ عدالتی کوشش کا احترام نہیں کیا گیا جسٹس یحییٰ آفریدی کے اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ عمران خان نے 25 مئی کے عدالتی حکم کو نہیں مانا۔ عمران خان کی طرف سے لانگ مارچ میں اسلحہ لانے کے اعتراف اور وزیر اعلیٰ کے پی کے محمود خان کے پوری قوت سے اسلام آباد پر حملہ آور ہونے کی دھمکی کا وفاقی کابینہ نے سخت نوٹس لیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے عمران خان اور محمود خان کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں رانا ثنا اللہ کی سربراہی میں 5 رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ وفاقی کابینہ نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا ہے۔ ریاست مخالف کسی بھی لانگ مارچ سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
بازار سیاست میں ملک ریاض اور آصف علی زرداری کی مبینہ آڈیو کا بڑا چرچا ہے اگرچہ ملک ریاض نے ایسی کسی مصالحتی کوششوں سے لا علمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا کوئی رول نہیں۔ دوسری طرف عمران خان نے بھی آصف علی زرداری سے کسی رابطہ کی تردید کی ہے۔ جہاں تک تحریک عدم اعتماد کا تعلق ہے، یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ عمران خان نے آصف علی زرداری کو شہباز شریف کی بجائے کسی اور وزیر اعظم بنوانے کی تجویز پیش کی تھی جسے آصف علی زرداری نے مسترد کر دیا تھا۔
عمران خان اشاروں و کنایوں میں بات کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ پیغام بھیجا گیا ہے ملک کا سوچیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ پیغام کس کا ہے تو انہوں نے یہ کہہ کر پیغام کس طرف سے آیا نہیں بتا سکتا کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔
بظاہر قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 131 ارکان نے اپنی نشستوں پر اجتماعی استعفا دیا ہے لیکن قومی اسمبلی کے سپیکر راجہ پرویز اشرف نے ضابطہ کی کارروائی مکمل کرنے کے لئے استعفوں کی تصدیق کے لئے ارکان کو انفرادی طور پر طلب کر لیا ہے لیکن پی ٹی آئی کی قیادت نے ان استعفوں کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ جب تک پی ٹی آئی کے ارکان اپنے استعفوں کی تصدیق نہیں کرتے اس وقت ان کی نشستیں خالی قرار دینے کا پراسس مکمل نہیں ہو گا۔ وہ اسی طرح قومی اسمبلی کے رکن رہیں گے جس طرح 2014 ء میں اپنے استعفوں کی تصدیق نہ کرانے پر پی ٹی آئی کے ارکان کی رکنیت برقرار رہی۔
پی ٹی آئی کے ارکان ایک طرف مستعفی ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتے رہے دوسری طرف رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے تمام مراعات بھی حاصل کرتے رہے اگر پی ٹی آئی کی قیادت استعفے دینے میں سنجیدہ ہوتی تو وہ نہ صرف ارکان قومی اسمبلی کے الگ الگ استعفے بھجواتی بلکہ ان کی تصدیق کے عمل میں شرکت کرتی۔ شنید ہے پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں قومی اسمبلی سے استعفے واپس لئے جانے بارے میں بھی غور ہوا ہے لیکن کپتان نے یہ کہہ کر قومی اسمبلی میں واپسی کا مطلب امپورٹڈ حکومت کو تسلیم کرنا ہو گا، قومی اسمبلی میں واپس جانے کی تجویز کو ویٹو کر دیا ہے۔
چوہدری پرویز الہی نے ان کے حوالے سے پی ٹی آئی کو قومی اسمبلی میں واپس جانے کا مشورہ دینے کی خبروں کی اشاعت کی تردید کی ہے جب کہ چوہدری برادران کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے شاہ محمود قریشی سے ملاقات کے دوران پی ٹی آئی کی قیادت کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد ناکام سیاسی پیش گوئیاں کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ وہ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی منظوری سے قبل پانچ پانچ بار ڈائس پر ہاتھ مار یہ کہتے تھے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہو گی اب یہ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان آخری وقت تک سمجھتے رہے کہ تحریک عدم اعتماد نہیں آ رہی لیکن جب متحدہ اور باپ نے بھی ساتھ چھوڑ دیا تب میں بھی سمجھ گیا کہ باپ کا باپ ہمارے ساتھ نہیں۔
شیخ رشید احمد اشارتاً جو بات کہہ رہے ہیں وہ ہر ذی شعور کے علم میں ہے پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان کی حکومت ختم کرنے میں امریکہ کا کردار کہاں سے آ گیا؟ موجودہ حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا سگنل مل گیا ہے جس کے بعد اس نے ملک کو ڈیفالٹ ہونے بچانے کے لئے سخت فیصلے کرنا شروع کر دیے ہیں۔

