نذرانوں کا جہاں اور ہے، کرپشن کا جہاں اور
گزشتہ دنوں کی آڈیو لیک جس میں ملک ریاض کی بیٹی اپنے والد کو تفصیل سے پانچ قراط کی ڈائمنڈ رنگ کے متعلق بتا رہی ہیں کہ کس طرح سے انہوں نے وہ ڈائمنڈ رنگ تیار کروا لی ہے اور اس انگوٹھی کو سابقہ خاتون اول کی پارٹنر کے حوالے کرنے جا رہی ہیں اور اس کے عوض عمران خان کی طرف سے تسلی کروا دی گئی ہے کہ ان کے آفس کے تالے کھلوا کر این او سی جاری کر دیا جائے گا۔ چند سیکنڈ کی آڈیو ریلیز ہونے کے بعد فین کلب کے شہزادے پر تنقید کے نشتر چلائے جا رہے ہیں اور ایک طرح سے طوفان بدتمیزی کا سا ماحول بنایا جا رہا رہا ہے، اس بات کا ادراک کیے بغیر کہ لاڈلے سرکار کے دل پر کیا گزر رہی ہوگی۔
دانشمندی کا مظاہرہ تو یہ ہوتا کہ اپنی تقاریر میں ”کرپشن کرپشن“ کی مالا جپنے والا اور اپنی ذات کے علاوہ ہر کسی کو چور، ڈاکو، بوٹ پالشیا یا چوہے جیسے القابات کے سرٹیفکیٹ بانٹنے والے رجسٹرڈ صادق و امین سے بھی کوئی یہ پوچھنے کی جسارت کر لیتا کہ حضور امیرالمومنین آپ کی نظر میں کرپشن کی تعریف کیا ہے؟ عین ممکن ہے سرکار کی نظر میں کرپشن کی تعریف رائج الوقت تشریح و مفاہیم سے بالکل ہی مختلف ہو اور ہم ایویں خوامخواہ میں ان پر الزامات کے ڈونگرے برسا رہے ہوں۔
تاریخ فرقہ عمرانیہ کے مطابق توشہ خانہ سے سرکاری تحائف اٹھا کر بیچنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور سعودی شہزادے کی گھڑی کے ساتھ جو ہوا وہ سب اب تاریخ کے پنے پر رقم ہو چکا ہے۔ فرح گوگی اور سابق خاتون اول کے گٹھ جوڑ کی ہوشربا کہانیاں اسکینڈل کی صورت میں منظر عام پر آنے کے باوجود خان صاحب کا ”فرح سنڑرک“ پریس کانفرنس کر کے اسے کلین چٹ دینے جیسے عوامل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے ذہن میں کرپشن کا جو حقیقی نقشہ یا مفہوم ہے وہ کچھ اور ہے یا بالکل ہی مختلف ہے۔
ہمیں اس مجمع کی طرح بننے کی بجائے جس میں ایک بندہ بڑے ہی انہماک کے ساتھ آسمان کی طرف دیکھنے میں مصروف ہوتا ہے اور درجنوں لوگ بھی اس اکیلے کی اس حرکت کے پارٹنر بن جاتے ہیں یہ جانے بغیر کہ وہ آسمان کی طرف انہماک سے کیا اور کیوں دیکھ رہا ہے؟ کہیں خان صاحب کے معاملے میں ہم بھی تو ایسا نہیں کر رہے ہیں؟ ممکن ہے لاڈلے سرکار کی نظر میں جو کچھ نواز شریف، آصف علی زرداری، شہباز شریف یا حمزہ شہباز نے کیا ہے صرف وہی کرپشن کے زمرے میں آتا ہو اور جو کچھ خان صاحب نے کیا ہے وہ کرپشن کی بجائے نذرانہ یا صدقہ و خیرات کا شاخسانہ ہو اور ہم اسے کرپشن کہہ رہے ہوں۔
شاید ہم بھول رہے ہیں کہ خان صاحب اپنی ساری زندگی تیاگ دینے کے بعد اب ایک سائیں درویش کے مرتبے پر فائز ہیں اور ایک معروف روحانی سلسلے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور روحانی سلسلوں کی تاریخ کے مطابق روحانی بزرگوں کا راشن پانی مخلوق خدا کے ذمے ہو جاتا ہے اور روحانی بزرگ تمام دنیاوی جھنجھٹوں سے بے نیاز ہو جاتے ہیں اور اپنا کچن علیم خان یا جہانگیر ترین کے سپرد کر کے خود فنافی الشیخ کے مرتبے پر فائز ہو کر حکومتی معاملات بھی روحانی مؤکلین کو سونپ کر خود ہر فکر سے بے نیاز ہو جاتے ہیں، مخلوق خدا پھر ان بزرگوں کی مختلف طریقوں سے خدمت کا فریضہ سر انجام دینے لگتے ہیں، قیمتی ہار، ڈائمنڈ کی انگوٹھیاں اور ہر طرح کا پیسہ نذرانہ کی صورت میں ان روحانی سلسلوں کو فیوض و برکات کے حصول کے لیے دان کرنے لگتے ہیں۔
اس لیے اپنے دماغوں کے فتور کا کسی روحانی معالج سے علاج کروا لیں اور اپنا ریکارڈ درست فرما لیں کہ کرپشن صرف اور صرف وہی ہے جو نواز شریف یا آصف علی زرداری نے کی ہے جہاں تک فین کلب کے شہزادے کے بات ہے وہ کرپشن کے زمرے میں بالکل نہیں آتی بلکہ وہ نذرانہ ہے جو خلق خدا اپنی خوشی سے دیتے ہیں۔ حج کرپشن کے الزام میں جب حامد سعید کاظمی گرفتار ہوئے تھے تو ان کے اکاؤنٹ سے بہت کچھ ایسا نکلا تھا جس پر موصوف کا فرمانا تھا کہ یہ سب تو لوگوں کی طرف سے دیے جانے والے نذرانے ہیں جو عوام نے خوشی خوشی انہیں دیے ہیں۔
اس لئے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ نذرانوں کا جہاں اور ہے اور کرپشن کا جہاں اور ہے، دونوں کو مکس کرنا زیادتی ہوگی اور بندگان خدا پر الزام۔ سیانے بندے کہتے ہیں کہ ”زمانہ ہم سے ہے ہم زمانے سے نہیں“ اس لیے اب سب کچھ خان صاحب سے شروع خان صاحب پر ہی ختم، کوئی کچھ کہے خان جی کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے اس کے دشمن ہی ناکام و نا مراد رہیں گے۔


