ہنگامی صورتحال پر قابو پانے کے لئے سیدنا عمر ؓ کے اقدامات (2)

انتظامات اور فاروقی کردار :
اس عظیم اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لئے سیدنا عمر ؓ نے کیا طریقہ اختیار کیا، کیسے انتظام کیا اور کون سے اقدامات اٹھائے۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ بعض اقدامات تو خالصۃ انتظامی نوعیت کے تھے اور بعض امیر المومنین کے ذاتی کردار سے متعلق تھے لیکن جو چیز ان میں مشترک ہے وہ ہے امیر المؤمنین کی حیرت انگریز اور عدیم لمثال انتظامی صلاحیت، اپنی رعیت کے ساتھ پر خلوص محبت اور خیر خواہی تو آئیے ان کے اقدامات پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔
آٹا گھر ایک مالی ادارے کا قیام :
سیدنا عمر ؓ بدویوں، اور دیہات کے باشندوں کو ”آٹا گھر“ سے خوراک تقسیم کرتے۔ آٹا گھر ایک مالی ادارہ تھا جس کے سامان کو دور فاروقی میں ایام قحط میں وفود مدینہ میں تقسیم کیا جاتا تھا، اس میں آٹا، ستو، کھجور اور کشمش وغیرہ کھانے کی چیزیں تھیں، مصر شام اور عراق سے پہنچنے سے پہلے یہ چیزیں ان میں تقسیم ہوتی تھیں، یہ آٹا گھر بحرانی حالت میں کافی بڑا بنا دیا گیا، تاکہ دسیوں ہزار لوگ جو تقریباً نو مہینے تک مدینہ آتے رہے اور بارش سے محروم رہے وہ سب اس کی خوراک سے مستفید ہو سکیں۔ ”سید نا عمر ؓ کی یہ حکمت عملی حکومتی اداروں کی تعمیر و ترقی کے بارے میں دور اندیشی کی بہت بڑی دلیل ہے، خواہ یہ ادارے مالیاتی ہوں یا اور کوئی“
سیدنا عمر ؓ بذات خود پناہ گزینوں کی خدمت کرتے تھے :
سیدنا عمر ؓ کی یہ متواضع شان کہ آپ بذات خود پناہ گزینوں کے کیمپوں میں ان کی خدمت کرتے تھے، حضرت ابو ہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ ابن صنتمہ (عمر ؓ) پر رحم فرمائے! میں عام الرمادہ میں دیکھا کہ اپنی پیٹھ پر اناج سے بھری ہوئی دو بوریاں اور ہاتھوں میں تیل سے بھرا ہوا ایک ڈبہ اٹھائے ہوئے تھے، وہ اور اسلم باری باری اسے اٹھاتے اور چلتے، جب آپ نے مجھے دیکھ لیا تو کہا : اے ابو ہریرہ کہاں سے آ رہے ہو؟ میں نے کہا : قریب ہی سے، پھر میں نے بھی اس کا ہاتھ بٹایا اور اسے لے کر ہم سب ”ضرار“ پہنچے، وہاں ہماری ملاقات بیس گھرانوں پر مشتمل ایک جماعت سے ہوئی۔
سیدنا عمر نے ان سے پوچھا: تم لوگوں کا یہاں کیسے آنا ہوا انہوں نے کہا مشقت و تنگ دستی کھینچ لائی ہے اور اس کے بعد انہوں نے مردار جانور کا چمڑا جسے وہ کھاتے تھے اور بوسیدہ ہڈیوں کا سفوف جسے وہ پھانکتے تھے، اسے ہمیں، دکھایا یہ دیکھ کر عمر ؓ نے اپنی چادر پھینک دی اور ان کے لئے کھانا پکانے اور کھلانے میں مشغول ہو گئے یہاں تک کہ سب سیراب ہو گئے۔ بھر اونٹوں کو لانے کے لیے اسلم کو مدینہ بھیجا، ، وہ اونٹوں کو لاتے، آپ نے ان کو اونٹوں پر سوار کیا اور ”حبانہ“ لے کر ٹھہرایا، پھر انہیں کپڑا دیا جسے انہوں نے زیب تن کیا۔
اس طرح آپ برابر ان کے پاس اور دوسرے مصیبت زدہ لوگوں کے پاس جاتے رہے اور خبر گیری کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے مصیبت کو ہٹا لیا۔ آپ عشاء کی نماز پڑھتے پھر اپنے گھر واپس ہوتے اور برابر نماز پڑھتے، رات کا آخر وقت آ جاتا تو گلیوں میں گشت کے لئے نکلتے عبداللہ بن عمر ؓ کا بیان ہے کہ میں نے اپنے والد عمر ؓ سے ایک رات بوقت سحر کہتے ہوئے سنا، اے اللہ! میرے ہاتھوں امت محمدیہ کو ہلاک نہ کر اور کہتے :اے اللہ قحط زندگی سے ہمیں ہلاک نہ کر اور ہم سے اس مصیبت و آزمائش کو دور کردے، اور آپ ان کلمات کو بار بار کہ کر دعا مانگتے۔
بیت المال پبلک کے لئے کھول دیا گیا:
جیسے جیسے قحط میں شدت پیدا ہوئی گئی لوگوں کی قوت جواب دیتی گئی جو کچھ ان کے پاس محفوظ تھا اسے کھا گئے حتیٰ کہ کچھ بھی
باقی نہ رہا۔ چنانچہ آس پاس کے لوگوں امیر المومینین کے پاس دارالحکومت ”مدینہ منورہ“ آنے لگے۔ مدینہ منورہ میں بیت المال میں جو کچھ موجود تھا امیر المومنین نے وہ سب کچھ تقسیم کر دیا۔ حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
امیر المومنین کے پاس بیت المال میں جو کچھ غذائی مواد یا مال موجود تھا وہ ان میں خرچ کیا حتیٰ کہ اسے ختم کر ڈالا۔
اور بظاہر یہ معمول کا ایک اقدام نظر آتا ہے کہ سرکاری خزانے سے مفلوک الحال لوگوں کی مدد کی جائے لیکن ایسی مدد کہ بیت المال ہی خالی رہ جائے یہ مثال شاید کہیں اور نہ ملے ایسے فراخ دلانہ امداد کی توقع امیرالمؤمنین سے ہی کی جا سکتی ہے۔ قدرتی آفات، حادثات اور مصائب تو آج بھی آتے رہتے ہیں۔ لیکن حکومتوں کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ خزانہ پر بوجھ نہ پڑے۔ سیدنا عمر ؓ کا تصور یہ نظر آتا ہے خزانہ رعایا کے لئے ہوتا ہے اگر رعایا نہ رہی تو خزانہ کس کام کا ۔ اگر ہمارے مقتدر حضرات اس اصول کو سامنے رکھ کر پالیسی بنائیں تو غریب عوام کے لئے بے شمار مسائل کا ازالہ ہو سکتا ہے اور وہ اصول یہ ہے کہ ”خزانہ عوام کے لئے ہے عوام خزانہ کے لئے نہیں“ ۔
صوبوں کے گورنروں سے تعاون کا مطالبہ:
سیدنا عمر ؓ نے خوشحال گورنروں کو امدادی اسباب و وسائل ارسال کرنے کے لئے فوراً خط لکھا، آپ نے مصر پر مقرر کردہ اپنے گورنر عمر بن عاص ؓ کو لکھا: ”اللہ کے بندے عمر بن خطاب امیر المؤمنین کی طرف سے ابن العاص کے نام سلام علیکم، امابعد! کیا تو مجھے اور جو میرے پاس ہیں سب کو ہلاک ہوتے ہوئے دیکھتا رہے گا۔ اور تو اور جو تیرے پاس ہیں سب کو لے کر عیش کی زندگی گزارے گا، مدد و تعاون کی ضرورت ہے، مدد و تعاون بھیجنے میں جلدی کرو۔ چنانچہ عمر بن عاص ؓ کو یہ خط ملا تو جواب میں آپ نے یہ تحریر کیا:
”عمر بن عاص کی طرف سے اللہ کے بندے امیر المومنین کے نام اسلام علیکم، میں سب سے پہلے اللہ رب العزت کی تعریف کرتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، حمد صلوٰۃ کے بعد آپ ہمیں تھوڑی سی مہلت دیں اور تھوڑا انتظار کریں آپ کے پاس امداد ضرور پہنچے گی، میں آپ کے پاس غلے سے لدا ہوا اتنا عظیم قافلہ روانا کرنے والا ہوں، جس کا پہلا سرا آپ کے پاس، آخری سرا میرے پاس ہو گا، ساتھ ہی میں اس کی تلاش میں ہوں کہ سمندری راستے سے بھی کچھ امداد بھیج سکوں۔ چنانچہ عمر بن عاص ؓ نے خشکی کے راستے آٹے سے لدا ہوا یک ہزار اونٹوں کا قافلہ اور سمندری راستے سے تیل، اور آٹے سے لدی ہوئی بیس کشتیاں روانہ کیں، اس طرح سامان تعاون میں پانچ ہزار چادریں اور کپڑے بھی ارسال کیے“ ۔
سیدنا عمر ؓ نے شام پر مقرر اپنے تمام عمال و افسران کے نام خط لکھا کہ : ”ہمارے پاس وہ غلہ و خوراک بھیجو جو ہمارے لئے قابل استعمال ہوں، لوگ مر رہے ہیں، مگر وہی جس پر اللہ رحم فرمائے“ آپ نے عراق اور فارس کے اپنے گورنروں کو بھی اس طرح خط لکھا، اور سب نے امدادی سامان بھیجا۔
طبری نے لکھا ہے کہ سب سے پہلے ابو عبیدہ بن جراح ؓ چار ہزار اونٹوں پر غذا و خوراک لے کر آپ کے پاس پہنچے، عمر ؓ نے انہی کو یہ ذمہ داری دے دی کہ جو لوگ مدینہ کے ارد گرد پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں ان میں یہ خوراک تقسیم کر دو ۔ چنانچہ جب حضرت ابو عبیدہ ؓ تقسیم کر کے واپس ہوئے تو عمر بن خطاب ؓانہیں چار ہزار درہم دینے کا حکم دیا۔ ابو عبیدہ ؓ نے کہا:
اے امیر المومنین! مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، میں نے صرف اللہ کی رضا مندی اور آخرت کی تیاری کے لئے یہ سب کیا ہے، دنیا کو مجھ پر مسلط نہ کیجئے۔
عمر ؓ نے فرمایا : اسے لے لو اگر بغیر مطالبہ کے ملے تو اسے لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن آپ نے لینے سے انکار کر دیا۔ عمرؓ نے پھر کہا اسے لے لو میں بھی رسول ﷺکی طرف سے اسی طرح ذمہ دار بنایا گیا تھا، آپ نے مجھ سے اسی طرح کہا تھا جس طرح آج میں تم سے کہہ رہا ہوں، اور میں نے بھی اسی طرح جواب دیا تھا جس طرح تم جواب دے رہے ہو، پھر بھی آپ نے مجھے دیا۔ یہ سن کر ابو عبیدہ جراح ؓ نے وہ چار ہزار درہم قبول کر لیے اور اپنے افسران کے ساتھ واپس لوٹ گئے۔ پھر امداد تعاون کا سلسلہ جاری رہا۔
معاویہ بن ابی سفیان ؓ نے خوراک سے لدے ہوئے تین ہزار اونٹوں کا قافلہ بھیجا نیز آٹے سے لدے ہوئے ایک ہزار اونٹوں کا قافلہ عراق سے آ پہنچا خوراک اور غلہ جب مہیا ہو گیا تو سید نا عمر ؓ نے انہیں مدینہ اور اس کے قرب و جوار میں دور دراز دیہاتوں سے بھاگ بھاگ کر آنے والے وفود پر تقسیم کرنا شروع کیا، کچھ امدادی غلہ جات اور خوراک کو بادیہ نشئیوں تک بھیجا، اور یہ حکم دیا کہ اسے تمام عرب قبائل پر تقسیم کیا جائے۔
امدادی سامان کی تقسیم کے لیے منتظمین کا تقرر:
امدادی سامان مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد ایک مشکل کام باقی رہ گیا تھا اور وہ تھا امدادی سامان کی تقسیم جن حضرات کو اس قسم کا کوئی تجربہ ہوا ہے وہ جانتے ہیں کہ تقسیم انتہائی مشکل کام ہے۔ کم سامان اگر ترتیب اور نظم و ضبط کے ساتھ تقسیم ہو تو بڑی مشکلات پر قابو پایا جا سکتا ہے لیکن نظم و ضبط کے فقدان کی صورت میں زیادہ وسائل کے باوجود مشکلات میں اضافہ ہو جاتا ہے اسی حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے امیر المؤمنین حضرت عمر ؓ نے ایک لائحہ عمل (Working Plan) تیار کیا، جس کے دو حصے تھے، ایک حصہ دارالحکومت (Capital) یعنی مدینہ منورہ کے لئے تھا جبکہ دوسرا حصہ دیگر علاقوں کے لئے تھا۔ جاری

