مولانا مودودی ؛ تحریک پاکستان اور چند سوال
جماعت اسلامی اور مولانا مودودی رحمہ اللہ کے خلاف یہ بیانیہ کافی عرصے سے چلا آ رہا ہے کہ انہوں نے تحریک پاکستان کی مخالفت کی۔ یہ بات مبنی بر حقیقت ہے کہ مولانا مودودی رحمہ اللہ نے تحریک پاکستان اور قائدین پاکستان کی مخالفت کی۔ یہ مخالفت کوئی عملی سیاسی میدان کی مخالفت نہیں تھی، محض تجویز کی حد تک محدود تھی۔ یہ وہ دور تھا جب جماعت اسلامی کا یا تو وجود ہی ابھی تک ممکن نہیں ہوا تھا یا ذرائع اور مواقع کی قلت کے باعث تجاویز پر ہی پر اکتفاء کیا جاتا تھا۔
اختلاف کس بنیاد پر ہوا؟ کون سے وجوہات اور تناظر اس کے پشت پر کارفرماء تھے؟ ان سوالات کو موضوع بحث لائے بغیر محض نظریاتی تعصب کی بنیاد پر غداری اور وفاداری کا سند نہیں بانٹا جاسکتا۔
چند مزید سوال یہاں قابل غور ہے کہ اگر جماعت اسلامی یا مولانا مودودی نے پاکستان اور مسلم لیگ کی مخالفت کی تو کیا اس کے بر خلاف انہوں نے گانگرس کی حمایت کی؟ کیا برصغیر کے مسلمان کی تہذیبی احیاء کا کام مولانا نے اپنی استطاعت سے کہی بڑھ کر نہیں کیا؟
کیا الجہاد فی السلام، اسلامی نظام زندگی اور اس کے اصول و مبادی، تنقیحات، مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش اور مسئلہ قومیت جیسی ضخیم کتب اس دور کی پیداوار نہیں جو مسلمانان ہند کی فکری اور علمی احیاء کا کام کرتی ہیں اور انہیں دارالاسلام کے قیام کا درس دیتی ہے؟
کیا انہوں نے مسئلہ قومیت میں واضح نہیں کیا کہ مسلمان نہ مغربی نیشنلزم کے قائل ہوسکتے ہیں اور نا ہی گانگرس کے سیکولر قومی جمہوری ریاست میں آلہ کار بن سکتے ہیں؟ یقیناً یہ سب کیا اور پورے موثر طریقے سے کیا۔
مولانا مودودی کا تصور اس وقت سب سے موثر اور متوازن تصور تھا۔ تجویز دی، تنقید کی، اپنی استطاعت کے موافق کام کیا اور مسلمانوں کو ابھارا کہ اپنی طاقت کو اس قدر مضبوط اور مستحکم کرو تاکہ مجموعی طور پر نہیں تو کم از کم ایک زیادہ تر حصہ ہندوستان کا دارالاسلام میں تبدیل ہو جائے، جس سے اخلاق و کردار اور دعوت و تبلیغ کی بنیاد پر ہندوستان زیر اثر رہے اور اسلام ہندوستان میں پنپتا رہیں۔ اس لئے ان کو بنیادی مسئلہ مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد کے طریقہ کار سے تھا، جس پر عوام اسلام کے نام پر قربان ہو رہے تھے۔ مولانا نے سمجھایا کہ اصل رخ کیا ہے۔
بالآخر جب مندرجہ بالا تجاویز کامیاب نہ رہی تو پاکستان آ کر اپنا کام جاری رکھا اور موقع کی مناسبت سے ماضی کی کوتاہیاں حکومت کو یاد دلاتے رہے۔


