پرندوں جیسے دماغ والے حکمران


میرے دوستوں کو یہ خاموشی کھا رہی ہے کہ آخر ایک بندہ موجودہ حالات پر نہ تبصرہ کرتا ہے، نہ کڑھتا ہے اور نہ ہی خون جلاتا ہے۔ بالآخر سب نے مل کر اکٹھے سوال پوچھا کہ لوگ ذہنی اذیت میں مبتلا ہوتے جا رہے ہیں اور آپ مسلسل خاموش ہیں۔ کیا موجودہ حالات نے آپ پہ کوئی اثر نہیں ڈالا؟

اب اتنے لوگوں کو ایک خانہ بدوش کیا بتائے اور کیا سمجھائے؟

دیکھیں 22 برس کی محنت کے بعد خان صاحب نے باگ سنبھالی لیکن کرنا کیا ہے؟ کوئی پلان نہیں اور نہ ہی کوئی ٹیم ہے بلکہ موقع پرستوں کا ٹولہ ہے اور بس۔

خان صاحب کے آنے کے بعد سے جو لوگ پچھلے ساڑھے تین سال سے پریشان تھے انہیں موقع ملا تو ان کے پاس بھی کوئی گیم پلان نہیں۔

عوام کے نام پر اپنے آپ کے لئے جینے والوں کو اب یہ بات کون بتائے کہ بنیادی ضروریات کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا اور آسائشوں پر ٹیکس لگانا ہی عوامی حکومت کا مینڈیٹ ہوتا ہے کیونکہ عوام نے تو اپنے فیصلے ان پر چھوڑے ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں گنگا الٹی بہ رہی ہے۔

اب یہ کون طے کرے کہ آسائشوں میں کسے شمار کیا جائے؟ کیا اس کے لئے بھی کسی کمیٹی یا کمیشن کی ضرورت ہے؟

پاکستان کے سب سے قدیم شہر ملتان کی گرمی ویسے ہی مشہور ہے۔ اور اگر جون کے مہینے میں ملتان میں کرکٹ میچ رکھ دیے گئے ہوں تو ایسی دانشمندانہ پلاننگ پہ ہر کوئی واہ واہ نہ کرے تو اور کیا کرے؟

اب دیکھیں ناں فٹ بال کا عالمی کپ ہر سال جون جولائی میں ہوتا ہے لیکن پتا نہیں فیفا والوں کو کیا مسئلہ ہے کہ انہوں نے اس بار قطر میں ہونے والے کپ کو 21 نومبر سے 18 دسمبر تک کا پلان کیا۔ لگتا ہے فٹ بال کھیلنے والوں کو زیادہ گرمی لگتی ہے حالانکہ وہ صرف 90 منٹ گراؤنڈ میں گزارتے ہیں جبکہ بیچارے کرکٹ والے ان سے زیادہ ہمدردی کے مستحق ہیں جنہیں ان سے زیادہ وقت گراؤنڈ میں گزارنا پڑتا ہے اور انہیں گرمی بھی نہیں لگتی۔

ویسے کبھی آپ نے سوچا کہ اتنی دہائیوں میں ہم ایک بھی بڑا منتظم یا اچھا دماغ کیوں پیدا نہیں کر سکے جو کم ازکم بروقت فیصلے اور دور رس منصوبہ بندی کر سکے۔

ان سب سے تو ہمارے ارتغرل بھائی اچھے تھے کم ازکم اپنی کسی بھی قسط میں انہوں نے مایوس نہیں کیا۔

اب تو یوں لگتا ہے کہ صاحب اختیار سارے کے سارے پرندوں جیسا دماغ رکھتے ہیں یا خانہ بدوش ہیں جو صرف آج کا دن جینا چاہتے ہیں جنہیں کل کی کوئی فکر نہیں۔

Facebook Comments HS