ساگر، شاعر اور سمندروں کا عالمی دن


شاعر، امریکی ریاست ہوائی کے دارالحکومت، ’ہونولولو‘ کی خوبصورت بیچ ’وائی کیکی‘ پر سر شام بیٹھا، ہوائی کی دلپذیر ہواؤں میں پیسفک کے عمودی خط کو گھورتے ہوئے، جاوید اختر کا گیت ”ساگر کنارے۔ دل یہ پکارے۔ تو جو نہیں، تو میرا کوئی نہیں ہے۔“ گنگنا رہا ہے۔ اور پس سہ پہر بحرالکاہل کی چست لہروں پر پڑنے والی ٹیڑھی روشنی کی واپسی میں بننے والی ترچھی کرنیں، اس کی آنکھوں کو چندھیا رہی ہیں۔ کہ اچانک اس کا دھیان لاشعور سے شعور کی جانب چند قدموں کا سفر ایک لحظے میں طے کر کے، اس سے پوچھتا ہے کہ ہمارے دیس کے سمندروں کے ساحل اس قدر صاف ستھرے، حسین و دلفریب کیوں نہیں ہیں؟ ان کے کنارے بیٹھ کر کبھی ہماری نظر میں اتنی رعنائیاں کیوں نہیں جھومتیں؟ وہاں کی لہریں ہماری سماعتوں میں گنگناتی کیوں نہیں؟

یہ سوچتے ہی سمندر کا سوز اور اس کو آج درپیش ماحولیاتی مسائل کا بھیانک تصور، شاعر کے اسی ذہن میں براجمان ہو گیا، جس میں تھوڑی دیر پہلے گیتوں کی تتلیاں اس کی جذبات کی کونپلوں کو چوم رہی تھیں۔ کچھ اور لمحے گزرے تو کوی، شعور کی دنیا میں ذرا اور آگے بڑھا۔ گویا کسی بھیانک حقیقت نے اس کو چٹکی کاٹ کے کسی حسین و گداز خواب سے جگا دیا۔

اپنے فون کی اسکرین پر اس نے تاریخ دیکھی۔
8 جون۔
اس کو دھچکا سا لگا۔
آج ”سمندروں کا عالمی دن“ ہے۔ ’عالمی یوم بحور‘ ۔
ہمیں پالنے والے سمندروں کی خستہ حالی پر نوحہ کناں ہونے کا دن۔

شاعر نے سوچا کہ زمین کی سطح کے 70 فیصد سے زیادہ حصے پر محیط ان ساگروں کو آج حقیقتاً شدید خطرات لاحق ہیں۔ جن میں سے سب سے بڑے خطرات کی نشاندہی ضروری ہے۔ ہر روز دنیا بھر میں تقریباً 80 لاکھ ٹن کچرا سمندر میں پھینکا جاتا ہے اور 80 فیصد سمندری آلودگی خشکی سے آ کر اس میں شامل ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار کا سمندری حیاتیاتی تنوع پر بہت منفی اور جان لیوا اثر پڑتا ہے اور ان کے لیے تباہ کن نتائج کے خطرات بڑھتے ہیں۔

اس نے اپنے آپ کو مکمل طور پر جگاتے ہوئے، نوٹ پیڈ کھولا۔ اور آج سمندروں کو درپیش دس اہم ترین اور سب سے بڑے مسائل درج کرنا شروع کیے۔

1۔ پلاسٹک: سمندر تیزی سے ایک ”دارالپلاسٹک“ (پلاسٹک کا گھر) بنتا جا رہا ہے، جو روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں سمندری جانوروں کو ہلاک کر رہی ہے۔ جلد یا بدیر، پلاسٹک کے یہ لاکھوں ٹکڑے ہمارے (انسانی) پیٹ میں ختم ہو جائیں گے۔ اس نے سوچا کہ صرف اس کے سامنے ٹھاٹھیں مارتے، دنیا کے اس سب سے بڑے سمندر، عظیم ”بحر الکاہل“ (پیسفک) میں پائے جانے والے کچرے کا حجم ہی 7 لاکھ مربع کلومیٹر (دو لاکھ 27 ہزار مربع میل) اور ایک کروڑ 50 لاکھ مربع کلومیٹر ( 58 لاکھ مربع میل) کے درمیان ہے۔

2۔ سمندر کو ہم نے ایک ’ردی کی ٹوکری‘ بنا دیا ہے۔ ساحلوں کے راستے سمندروں میں چھوڑے جانے والے یا اندرون ملک آبی گزرگاہوں، جیسے ندیوں اور نالوں میں پھینکا جانا والا کوڑا مسلسل سمندر میں حل ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت زیادہ سنگین ہو جاتی ہے، جب بات پلاسٹک جیسے غیر ’بائیوڈیگریڈیبل‘ کچرے کی ہوتی ہے، جس کے چھوٹے ذرات، مائیکرو پلاسٹکس میں ٹوٹ جاتے ہیں اور بہت سی سمندری انواع کی طرف سے اسے خوراک سمجھ کے کھا لیا جاتا ہے۔ جس سے وہ جان سے جاتے ہیں۔

دنیا بھر کے سمندروں میں کچرے کے بیشمار جزیرے، پہلے ہی ایک بھیانک حقیقت کے طور پر موجود ہیں۔ جن کا خاتمہ سمندروں اور بحری حیات کے لیے ناگزیر ہے۔

3۔ آلودگی: زراعت میں منظم طریقے سے استعمال ہونے والی بہت سی کھادیں اور کیڑے مار ادویات سمندر میں گر جاتی ہیں۔ ان میں سے کچھ مصنوعات آبی حیات کی مختلف پرجاتیوں میں ناقابل واپسی اور مہلک تبدیلیاں لاتی ہیں۔ مثال کے طور پر، وہ سمندری حیات میں تولیدی عمل کو متاثر کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ، اگر اسے انسان کھا لیں، تو وہ ان کی صحت کے لئے مہلک مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔

4۔ ماہی گیری کے وسائل کا زیادہ استحصال: متعدد تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ ماضی قریب میں سمندروں میں مچھلیوں کی کچھ انواع کی آبادی میں کافی کمی آئی ہے۔ مثلاً: کینیڈا کے پانیوں میں ماضی میں پائی جانے والی مچھلی کی کئی ایک اقسام حد سے زیادہ ماہی گیری کی وجہ سے اب تقریباً معدوم ہو چکی ہیں۔ ضرورت سے زیادہ ماہی گیری کے علاوہ، ماہی گیری کی سرگرمیوں کے انتظام یا قوانین کی عدم تعمیل کی شدید کمی بھی اس مصیبت کی کلید ہے۔

بحری جانوروں کے شکار کے وقت ان کی عمر اور جسامت کا تعین نہ ہونا، ایک اہم اور متواتر مسئلہ ہے، جس کا اگر باضابطہ تعین ہو تو نابالغ یا مادہ آبی حیات کو ان کے انڈوں کے ساتھ پکڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ طویل زندگی گزارنے والی پرجاتیوں سے تعلق رکھنے والی مچھلیوں (مثلاً: ’شارک‘ اور ’ٹونا‘ ، یا پرتعیش کھانا پکانے اور متبادل ادویات کے لیے استعمال ہونے والی انواع) کو ضرورت سے زیادہ پکڑنا، بھی سمندری زندگی کی ہم آہنگی میں ناقابل واپسی تبدیلیوں کا باعث بنتا ہے۔

5۔ غیر پائیدار آبی زراعت: سمندر میں گہری آبی زراعت، بحری آب میں آلودگی کے پھیلاؤ کو بڑھاوا دیتی ہے۔ مچھلیوں اور دوائیوں کی پیداوار میں اینٹی بائیوٹکس اور دیگر کیمیکلز کا استعمال شامل ہے، ان میں سے کچھ ماحولیاتی نظام کے لیے زہریلے اور مضر بھی ہوتے ہیں۔ یہ صورتحال ایشیائی پانیوں میں واضح طور پر ’ویتنامی کلیمز‘ کی بہت زیادہ پیداوار کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔

6۔ میرین انجینئرنگ اور آئل ڈرلنگ: تعمیرات، گہرے سوراخوں کی کھدائی، اور بہت سی دوسری انسانی مداخلتوں کی وجہ سے سمندری ماحول میں ہونے والی تمام تبدیلیاں آبی حیات کی رہائش گاہوں میں شدید اور خطرناک تغیرات، مختلف رکاوٹیں اور آلودگی پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ یہ تمام عوامل فطری عناصر کی تباہی میں انتہائی منفی کردار ادا کر رہے ہیں اور سمندری انواع کی بقا کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔

7۔ بحری حیات کی رہائش گاہوں کی تباہی: سمندر میں بسنے والی زندگیوں کی کچھ رہائش گاہیں، ان کی تولید کے لیے ایک منفرد پناہ گاہ فراہم کرتی ہیں۔ سمندری جنگلات مختلف وجوہات کی بناء پر تباہ ہو رہے ہیں، جن میں مچھلی پکڑنے کے جارحانہ آلات اور ٹرالنگ جیسے طریقے بھی شامل ہیں۔

8۔ سمندری تیزابیت اور مرجانی (کورل) بلیچنگ: موسمیاتی تبدیلی کا سمندروں پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ فضا میں کاربان ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی ہوئی سطح سمندروں میں موجود فاسفورس کی سطح میں تبدیلی کا سبب بنتی ہے۔ یہ صورتحال خاص طور پر ’ٹروپیکل علاقوں‘ (خط استوا، شمالی امریکا، جنوبی امریکا، افریقہ، ایشیا اور آسٹریلیا کے کچھ حصوں، خاص طور پر مرجان کی چٹان والے علاقوں ) میں واضح طور پر درپیش ہے، جہاں سمندری ماحولیاتی نظام انتہائی حساس اور حیاتیاتی تنوع سے مالا مال ہے اور جہاں آبی حیات کے بحری گھر مسلسل ناقابل واپسی تبدیلیوں سے گزر رہے ہیں۔

9۔ حد سے زیادہ پارہ (مرکیوری) سمندری حیات اور انسانوں میں شدید بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ یہ ایک آلودگی ہے، جو فوڈ چین میں جمع ہوتی ہے اور مچھلیوں کے ادخال کے ذریعے انسانوں تک پہنچتی ہے۔ سیماب (پارے ) کی زیادہ مقدار، سنگین بیماریوں کی وجہ بن سکتی ہے۔ جس سے بچنے کے لیے، مچھلی کی کئی برادریوں جیسے ’بلیک اسکبارڈ فش‘ اور ’ٹونا‘ وغیرہ کی کھپت کو کنٹرول کیا جانا چاہیے۔

10۔ سمندر کے درجۂ حرارت میں مسلسل اضافہ: زمین کان درجۂ حرارت بڑھنے (گلوبل وارمنگ) کی وجہ سے بحری درجۂ حرارت میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو سمندری ماحولیاتی نظام میں ڈرامائی منفی تبدیلیوں کا باعث بن رہا ہے، جس کے آبی حیات کی بہت سی پرجاتیوں کے لیے شدید اور مہلک نتائج مرتب ہو رہے ہیں۔ یہ رجحان نقل مکانی کے راستوں کو تبدیل کرنے کے لیے بھی ذمہ دار ہے، جس سے ’فوڈ چینز‘ میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، پانی کے درجۂ حرارت کا صرف نصف ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھنا بھی، مرجانی چٹانوں کی موت کا سبب بنتا ہے۔ صحتمند مرجانی چٹانیں (کورل ریفس) ایسی مختلف انواع کی ”زچگی“ کے لیے پناہ گاہوں کے طور پر کام کرتی ہیں، جو انسانوں کے لیے خوراک مہیا کرتی ہیں اور جن پر ماہی گیری کی بہت سی کمیونٹیز کا انحصار ہوتا ہے۔

شاعر اٹھا۔ اس عزم، ولولے اور ارادے کے ساتھ، کہ ان میں سے جو جو کام میں انفرادی طور پر کر سکتا ہوں، آج سے اپنا فرض سمجھ کر کروں گا۔

جو جو کام میں کمیونٹی کے فرد کے طور پر سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر کر سکتا ہوں، وہ ان کے ساتھ مل کر کروں گا۔ اور جو جو کام حکومتوں اور عالمی اداروں کو کرنے ہیں، اور وہ نہیں کر رہے، ان کو وہ کام یاد دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کروں گا۔

اس نے جاتے جاتے وائیکیکی کے حسین ساحل کی طرف مڑ کے دیکھا۔ جس میں 8 جون کا آفتاب غروب ہو رہا تھا۔

بحر الکاہل، زمین کے تمام بحور کی نمائندگی کرتے ہوئے، شاعر کی جانب دیکھ کے مسکرایا۔ گویا دل ہی دل میں بولا:

”اگر تیری طرح ہر کوئی سمندر دوست بن کر ہمارے مصائب و مسائل کا احساس کر لے، تو کوئی وجہ نہیں، کہ ہم تباہی سے بچ نہ سکیں اور آپ کی آنے والی نسلوں کو بھی زندگی دیتے رہیں۔“

Facebook Comments HS