کوئٹہ: جلتے ہوئے آئل ٹینکر کو آبادی سے دور لے جانے والے ڈرائیور کے لیے 5 لاکھ روپے انعام کا اعلان
انتہائی آتش گیر تیل سے بھرے ٹینکر میں آگ لگنا آس پاس موجود انسانوں اور املاک کے لیے کتنا نقصاندہ ہو سکتا ہے، اس کی مثال پاکستان کے شہر بہاولپور میں سنہ 2017 میں ایسے ہی ایک حادثے میں 139 افراد کی ہلاکت کی ہے۔
چنانچہ جب منگل کو کوئٹہ کے علاقے سریاب میں ٹینکر سے پیٹرول پمپ منتقل کرتے ہوئے اس میں آگ بھڑک اٹھی تو ڈرائیور محمد فیصل کے پاس دو ہی راستے تھے: یا تو وہ سب سے پہلے اپنی جان بچانے کی کوشش کریں اور ٹینکر سے دور چلے جائیں، یا پھر ٹینکر چلانے میں اپنی مہارت کو لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے استعمال کریں اور اسے چلا کر آبادی سے دور لے جائیں۔
اُنھوں نے دوسرے راستے کا انتخاب کیا اور اس حادثے کو ممکنہ طور پر ایک بڑے سانحے میں بدلنے سے روکنے میں کامیاب ہو گئے۔
اب محمد فیصل کے لیے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے بہادری پر پانچ لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔
محمد فیصل کہتے ہیں کہ ’آگ میں لپٹے آئل ٹینکر کو آبادی سے دور لے جانے کی ہر ساعت کو زندگی کا آخری لمحہ سمجھتا رہا مگر زندگی باقی تھی اس لیے موت کے قریب ہونے کے باوجود بچ گیا۔‘
وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر آگ لگنے کے باوجود پیٹرول سے بھرے آئل ٹینکر کو تین کلومیٹر دور تک لے جانے میں کامیاب رہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ یہ شاید ان کی زندگی کا سب سے یادگار لمحہ ہو گا کیونکہ چھوٹی سی غفلت یا غلط فیصلہ سب سے پہلے ان کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا لیکن وہ حیران ہیں کہ موت کی جانب برق رفتاری سے بڑھنے کے باوجود وہ کیسے خوفزدہ نہیں ہوئے اوردرست اقدامات کرتے۔
آئل ٹینکر اور پیٹرول پمپ کے مالک سعید احمد شاہوانی، محمد فیصل سے انتہائی خوش ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے یہ ثابت کیا کہ وہ حقیقی ہیرو ہیں۔
آئل ٹینکر میں آگ کیسے لگی؟
سعید احمد شاہوانی نے بتایا کہ آئل ٹینکر میں 10 ہزار لیٹر پیٹرول تھا جو منگل کے روز سریاب کے علاقے میں ان کے پمپ پر خالی کیا جا رہا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول کو ٹینکر سے پیٹرول پمپ کے ٹینک میں خالی کرنے کے لیے پائپ منسلک کیا ہی گیا تھا کہ اس دوران آگ بھڑک اٹھی اور ٹینکر کا پچھلا حصہ اس کی لپیٹ میں آ گیا۔
اُنھوں نے بتایا کہ آگ کے شعلے سے فلر کو بھی کچھ زخم پہنچے ہیں۔
اس وقت ڈرائیور محمد فیصل پانی پینے گئے ہوئے تھے اور ٹینکر سے کچھ فاصلے پر تھے۔ جب آگ بھڑک اٹھی تو پمپ پر موجود ہر شخص کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے لیکن محمد فیصل کسی خوف کے بغیر بھاگ کر گاڑی میں سوار ہوئے اور لوگوں سمیت پمپ کو بچانے کے لیے ٹینکر کو سٹارٹ کر کے روانہ ہو گئے۔
شاہوانی کہتے ہیں کہ پیٹرول پمپ، آئل ٹینکر اور اس میں موجود 10 ہزار لیٹر پیٹرول سب اُن کے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ جائے وقوعہ اور اس کے قرب و جوار میں آگ بجھانے کے لیے انتظامات نہ ہونے کے باعث ٹینکر اور پیٹرول نے تو ویسے جلنا ہی تھا لیکن ان کے ساتھ ساتھ خود پیٹرول پمپ میں بھی آگ بھڑکنے امکانات تھے لیکن ڈرائیور محمد فیصل کی بہادری اور حاضر دماغی نے نہ صرف کئی جانوں بلکہ پیٹرول پمپ کو بھی بچا لیا۔
یہ بھی پڑھیے
نوشہرہ آتشزدگی، لاکھوں لیٹر پیٹرول جل کر دھواں بن گیا
بہاولپور: آئل ٹینکر میں آگ لگنے سے 139 افراد ہلاک
ان کا کہنا تھا ایسے مناظر ہم تو ہالی وڈ فلموں میں دیکھتے رہے ہیں لیکن ایک حقیقی منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس آفات سے نمٹنے کے صوبائی محکمے (پی ڈی ایم اے) کا نمبر تھا اس لیے اُنھوں نے پی ڈی ایم اے کو کال کی اور اُنھوں نے آگے فائربریگیڈ کے عملے کو اطلاع دی۔
اتنی دیر میں محمد فیصل جا کر جلتے ٹینکر میں بیٹھ گئے۔
’یہ ایک ایسا وقت تھا کہ جس میں آگے نکلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا مگر گاڑی کو ریورس کیے بغیر ایسا کرنا ممکن نہیں تھا، اس لیے پہلے ٹینکر کو ریورس کیا اور اس کے بعد اس کو آگے لے گیا۔‘
اُنھوں نے بتایا کہ پیٹرول پمپ کے قریب بھی ایک کھلی جگہ تھی مگر جب وہ اس خالی جگہ پر پہنچے تو وہاں ایک سوزوکی پک اپ اور ایک کار آ گئیں جس کی وجہ سے اُنھوں نے ٹینکر کو وہاں نہیں روکا کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں دونوں گاڑیوں اور ان میں سوار افراد کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔
اب ان کے پاس واحد راستہ اس جلتے ہوئے ٹینکر کو آبادی سے جتنا دور ممکن ہو لے جانا تھا۔ جب وہ آبادی سے نکل گئے تو اس وقت ٹینکر کا پچھلا حصہ کافی حد تک آگ کی لپیٹ میں آ چکا تھا اور اب اسے مزید دور لے جانا ان کے لیے بالکل ممکن نہیں تھا۔
اب ان کے سامنے ایک اور مشکل یہ تھی کہ اُنھوں نے جب بریک پر پاﺅں رکا تو اس وقت بریک بالکل کام نہیں کر رہی تھا۔
اس وقت ٹینکر کی رفتار 70 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ محمد فیصل نے بتایا کہ ٹینکر کی رفتار بہت زیادہ ہونے کے باعث اُنھوں نے پہلے اسے تیسرے گیئر میں ڈالا، پھر دوسرے اور پھر پہلے گیئر میں ڈالا اور پھر انجن آف کر دیا اور ٹینکر رک گیا۔
اس دوران ان کو ڈر تھا کہ کہیں آگ کے شعلوں کی وجہ سے پیچھے کسی کو نقصان پہنچا ہو گا کیونکہ ہوا اور پیٹرول بہنے کی وجہ سے پیچھے شعلے دوردور تک تھے مگر وہ مسلسل ہارن دبائے آگے بڑھتے رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی آئل ٹینکر میں ان کے چھوٹے بھائی ان کے ساتھ معاون کے طور پر کام کرتے ہیں۔
’جب آگ لگنے کے بعد میں ٹینکر لے کر نکلا تو پیچھے سے میرے بھائی نے ٹریفک کو روک دیا تھا تاکہ کسی اور کو آگ کے شعلوں سے نقصان نہ پہنچے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ جب میرے بھائی اور گاڑی کے مالکان میرے پاس پہنچے تو اُنھوں نے بتایا کہ گاڑی کے پیچھے آگ سے کسی اور کو نقصان نہیں پہنچا۔
محمد فیصل کو اس بات پر خوشی ہے کہ ایک انسان ہونے کے ناطے دوسرے انسانوں کی زندگیوں کو بچانے اور اپنے مالکان کے مالی نقصانات کو کم سے کم کرنے کے لیے ان سے جو کچھ ہو سکتا تھا وہ اُنھوں نے کرنے کی کوشش کی۔



ویری گڈ۔ ویلڈن ڈرائیور