تحریک انصاف کا خطرناک بیانیہ


عمران خان نے تاحال اپنی ٹیم اور اہلیہ کے ہمراہ پشاور میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور پوری صوبائی حکومت ان کے پروٹوکول، مہمان نوازی اور سرگرمیوں کے انتظامات کے علاوہ اس کوشش میں لگی ہوئی ہے کہ اگر عمران خان ایک اور مارچ کا اعلان کرتے ہیں تو ان کو یہ یقین دہانی کیسے کرائی جائے کہ اب کے بار صوبائی حکومت پہلے سے زیادہ اہتمام کے ساتھ اس میں شریک اور شامل ہوگی۔ شاید اسی کوشش میں وزیر اعلیٰ محمود خان نے رولز آف بزنس کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب کے بار وہ صوبے کی فورس کو لے کر رانا ثناء اللہ اور ان کی حکومت کو سبق سکھائیں گے۔ عمران خان نے بھی اسی تقریب اور ایک انٹرویو میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسلام آباد سے اس لئے بھی واپس ہوئے کہ ان کے کارکنوں کے پاس اسلحہ تھا اور اگر تصادم ہوجاتا تو خونریزی کی صورت حال پیدا ہو جاتی۔

محمود خان کے انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک جنگ زدہ اور حساس صوبے کا چیف ایگزیکٹو کتنا لاپروا اور غیر سنجیدہ انسان ہیں جبکہ عمران خان نے اسلحے اور تصادم والی بات کر کے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماری اور وفاقی حکومت کے اس موقف کی تائید کی کہ عمران خان تصادم کرنے اسلام آباد آ رہے تھے۔

ان دونوں کے ان بیانات کو شاید یہ سمجھ کر نظر انداز کرنا ممکن ہو کہ دونوں مارچ کی ناکامی اور اس کے بعد کی صورتحال کے باعث شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور وہ کارکنوں کا مورال بلند کرنا چاہتے ہیں تاہم اس دوران سب سے خطرناک بات عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل نے کہی ہے جس کا نوٹس لینا انتہائی لازمی ہے۔ موصوف نے کہا ہے کہ جن پشتونوں نے ایک سپر پاور کو شکست دے کر بھگا یا اگر ہم ان کو لے کر رانا ثناء اللہ اور وفاقی حکومت کے پیچھے نکل پڑے تو اس کے نتائج کیا ہوں گے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس شخص کے اپنے بچے اور اثاثے امریکہ میں ہو اور جس کو اس صوبے کے مخصوص حالات کا سرے سے کوئی علم ہی نہیں ہو وہ پشاور میں بیٹھ کر اس قسم کی باتیں کیوں اور کس کے کہنے پر کر سکتا ہے اور یہ کہ اس نوعیت کے خطرناک بیانات کا اعلیٰ سطحی نوٹس کیوں نہیں لیا جا رہا؟

یہ سوال بھی اٹھانا اس جنگ زدہ صوبے کا حق بنتا ہے کہ کیا دہشت گردی کا برسوں تک سامنا کرنا کرنے کے بعد اب اس صوبے کو تحریک انصاف کی شکل میں تحریک طالبان جیسی ایک اور قوت کا سامنا ہے؟

یاد رہے کہ پشاور کے صحافتی حلقوں میں یہ اطلاعات زیر گردش ہیں کہ محمود خان کابینہ کے تقریباً 6 وزرا نے حال ہی میں ایک کالعدم تنظیم کو ”بھتہ“ دیا ہے اور یہ کام کافی عرصہ سے جاری ہے۔ اسی پس منظر میں ہم عمران خان کے ان بیانات کا بجا طور پر حوالہ دے سکتے ہیں جب انہوں نے آن دی ریکارڈ افغان طالبان کو پاکستان میں دفاتر دینے کی بات کی تھی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ صوبے کی اپوزیشن ایسے بیانات اور سرگرمیوں پر عملاً کوئی ردعمل نہیں دکھا رہی حالانکہ یہ انتہائی خطرناک بیانیہ ہے اور اس کا براہ راست تعلق قومی سلامتی سے بھی بنتا ہے۔

Facebook Comments HS