عامر لیاقت مر گیا
عامر لیاقت کی موت کی خبر سننے کے بعد سے بے شمار سوال دماغ میں گردش کر رہے ہیں۔ عامر لیاقت کی ذاتی زندگی سے لے کر مذہبی وزارت تک اور رمضان ٹرانسمیشن سے لے کر سستے اور نچلے درجے کے شوز تک اور پہلی باوقار شادی سے لے کر دوسری کے بعد پھر تیسری واہیات قسم کی شادیوں سے متعلق سوالات۔ ایک دھماچوکڑی سی مچی ہوئی ہے دماغ میں۔
میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کیا عامر لیاقت کی موت کو اس کی ذاتی کوتاہیوں کے کھاتے میں ڈالا جائے کہ یہ ایک عالم دین ہو کر سیاست کی گہما گہمی سے ہوتا ہوا میڈیا کی لائم لائٹ میں آیا اور چھا گیا پھر اس چکا چوند کو سنبھال نہیں پایا اور بہکتا چلا گیا۔
یا ان عورتوں کی جو اس کی زندگی میں کسی بھی طرح سے آئی اور نکل گئیں۔ یہ نکاح پر نکاح کرتا گیا اور بیویاں اسے چھوڑ کر جاتی رہیں لیکن کوئی ایک بیوی بھی اس کے بارے میں ایسے ثبوت فراہم نہیں کر سکی جن سے کی بنیاد پر عامر لیاقت کلپرٹ ثابت ہو جاتا۔
یا پھر اسے ایک ذہنی بیمار شخص سمجھا جائے جس کی واضح علامات اس کی حرکات میں موجود ہیں۔
عوامی مقبولیت نے کیسے اس کے ذہن کو شکنجے میں کسا کہ وہ سرپٹ بھاگتا ہی چلا گیا۔
سوشل میڈیا ہماری زندگیوں میں یوں سرایت کر چکا ہے جیسے جسم کی رگوں میں خون ہوتا ہے۔ ہم نے اپنی شخصیت کے مختلف امیجز بنا رکھے ہوتے ہیں جن میں گھر والوں کے سامنے الگ امیج ہوتا ہے، دفتر میں الگ اور دوستوں میں کچھ الگ۔ اسی طرح اب ہمارا ایک سائبر امیج ہوتا ہوتا ہے۔ جس قدر ہم اپنے مطلوبہ امیج کے ساتھ سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرتے جاتے ہیں اسی قدر ہماری رسوائی اور عزت ہمارے ہاتھ سے نکل کر دوسروں کے ہاتھ میں پہنچتی چلی جاتی ہے۔ ہمارے منہ سے نکلی معمولی بات یہ ہماری طرف سے معمولی حرکت ہمارے اس سائبر امیج کو آسمان پر بھی پہنچا سکتی ہے اور مٹی میں بھی ملا سکتی۔
عامر لیاقت کا معاملہ بھی شاید یونہی رہا ہو کہ اس نے پہلے عالم دین کی حیثیت میں اور بعد ازاں بطور اینکر بے پناہ شہرت کمائی کہ یہ کسی چینل کا محتاج نہ رہا بلکہ چینل اس کے محتاج بن کر کر رہی گئے۔ ایک سال ایک چینل مختلف وجوہات کی بنا پر اسے چینل سے نکالتا اور اگلے سال یہ پھر کسی غیر معروف چینل سے رمضان ٹرانسمیشن کرتا ہوا ملتا اور اس غیر معروف چینل کی ٹی آر پی آسمان کو چھونے لگتی۔ پھر ہوا یوں کہ رمضان ٹرانسمیشن کے سیٹ پر گالی گلوچ والی ویڈیو وائرل ہونے سے اس کا سائبر امیج بدلنا بلکہ یوں کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ امیج بگڑنا شروع ہوا۔
پھر اس بگاڑ کی یہ ہوا جھکڑ میں بدلی اور ہوتے ہوتے اس کی ذات سے منسلک ہر اچھی شے کو ملیا میٹ کر دینے والے طوفان میں بدل گئی ہوں عامر لیاقت کا مذہبی امیج مکمل طور پر تباہ ہوتا چلا گیا۔ رہی سہی کسر پہلی بیوی سے علیحدگی نے پوری کر دی جس کو پہلے یہ ہر جگہ ساتھ لیے لیے پھرتا تھا اور بیوی کے ساتھ اس محبت اور لگاؤ کی وجہ سے لوگ اس کو بہت پسند بھی کرتے تھے۔
وقت بدلا تب شاید اس نے اپنی بقا کے لیے اپنے اس بگڑے ہوئے سائبر امیج کو ہی قبول کر لیا اور ہر وہ حرکت کرتا چلا گیا، تمام ایسے پروگرام اور شوز قبول کرتا چلا گیا جس سے لوگوں میں اس کے لیے نفرت اور ناپسندیدگی کے باوجود اس کی ویوور شپ مستحکم رہی۔ لازمی بات ہے کہ ایک ذہین اور قابل انسان ہونے کے ناتے اس اتار چڑھاؤ نے اسے نفسیاتی کچوکے بھی دیے ہوں گے۔ پھر آخری شادی، عجیب و غریب ٹک ٹاک، عمران خان صاحب سے ملاقات، معمولی سے معمولی یوٹیوب چینلز پر بیوی کے ہمراہ انٹرویوز۔ لوگ اعتراض پر اعتراض کرتے رہے اور یہ رکنے کے بجائے آگے کی آگے بھاگتا چلا گیا۔ لوگ جس چیز پر اعتراض کرتے یہ دوگنی فورس کے ساتھ وہی حرکات دہراتا چلا جاتا۔ یہ سب اس کی نفسیاتی ابتری کو ظاہر کرتا ہے جو اس کی تیسری بیوی نے میڈیا پر آ کر بتایا اور آڈیو/ویڈیو کی صورت میں دکھایا۔
اس حالت میں انسان کو کسی ہمدرد، کسی دوست، کسی اپنے کی ضرورت ہوتی لیکن ایسا وقت پڑنے تک عموماً ایسا مریض اپنے تمام ہمدرد اپنے ہاتھوں گنوا چکا ہوتا ہے، عامر لیاقت نے بھی یہی کیا۔ نہ اسے خود اپنی نفسیاتی ابتری کا ادراک ہو سکا یا شاید ادراک ہوتے ہوئے بھی اس حقیقت کو تسلیم نہ کر سکا کہ تسلیم کرنا ایسی ذہنی حالت میں تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔
خاص طور پر ایسی صورت میں جب آپ اکیلے رہ جائیں تب خود کو سنبھالنا مزید دشوار ہو جاتا ہے پھر آخری سہارا منشیات بچتا ہے۔ قوی امکان ہے کہ منشیات کی اوور ڈوز ہی عامر لیاقت کی موت کا سبب بنی ہو گی۔



واہ میڈم جتنی آپ خوبصورت ہیں اتنی پیاری آپ کی یہ تحریر ہے۔ بحر حال آخری لائن حقیقت پر منتج تھی۔ بہت شکریہ پیاری نیلم