بورس جانسن کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا کیوں کرنا پڑا ؟

آپ کے خیال میں بورس جانسن نے آخر ایسا کیا جرم کیا ہو گا کہ اس کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دی گئی؟ کیا اس کی آف شور کمپنیاں نکل آئیں یا کوئی پاناما ٹائپ اسکینڈل سامنے آ گیا؟ کیا اس نے منی لانڈرنگ کی یا آمدن سے زائد اثاثے بنا لیے؟ ان میں سے کوئی ایسا جرم نہیں ہے جس کا ارتکاب جانسن نے کیا ہو اور اس کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دی گئی ہو۔ آپ حیران رہ جائیں گے کہ جانسن نے جس جرم کا ارتکاب کیا ہے اس جرم کی ہماری نظر میں تنکے جتنے بھی اہمیت نہیں ہے اور نا ہی ہم اسے کوئی جرم تصور کرتے ہیں۔
اس جرم کا نام ہے ”جھوٹ بولنا اور اس پر اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کی بجائے انتہائی بے شرمی سے ڈٹے رہنا“ جی ہاں بورس جانسن نے اپنی عوام سے ایک جھوٹ بول دیا اور اس سے بڑا ظلم اس نے خود پر یہ کر ڈالا کہ بجائے اپنی غلطی کا اعتراف کر کے اپنی عوام سے معافی کا طلب گار ہوتا بلکہ اس نے اپنی غلطی تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا۔ معاملہ دراصل یہ تھا کہ کرونا لاک ڈاؤن کے دوران ایک تقریب میں جانسن نے کرونا ایس او پیز کو نظر انداز کر کے پارٹی انجوائے کی تھی۔
تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ واقعی ایس او پیز کا خیال نہیں رکھا گیا۔ اتنی چھوٹی سی غلطی کو جانسن نے تسلیم نہیں کیا اور جھوٹ سے کام چلاتے ہوئے جرم کی صحت سے ہی انکار کر دیا۔ ان معاشروں میں جھوٹ کو قطعی طور پر برداشت نہیں کیا جاتا اور اس برائی کو انتہائی گھٹیا سمجھا جاتا ہے اور معاشرے میں اس کے خلاف زیرو ٹالرنس پائی جاتی ہے۔ اگرچہ وہ اپنی پرائم منسٹر شپ بچانے میں کامیاب تو ہو گیا مگر اس پارٹی گیٹ اسکینڈل کی وجہ سے اس کے سیاسی کیریئر میں ایک بڑی دراڑ پڑ چکی ہے اور مقبولیت کا گراف بڑی تیزی سے نیچے کی طرف آنے لگا ہے اور جھوٹ کا یہ دھبہ اس کے باقی سیاسی کیریئر میں اس کا پیچھا کرتا رہے گا۔
یہ ہیں وہ کفرستانی معاشرے جہاں بقول ہمارے عذاب برسنا چاہیے مگر اس کے برعکس وہاں قدرت کی رحمتیں اور نعمتیں برس رہی ہیں اور ہمارے جیسے معاشرے جو عبادات و ریاضت، مذہبی اجتماعات، حج و عمرہ ادا کرنے میں خود کفیل ہیں، ان تمام رحمتوں اور فیوض و برکات سے محروم ہیں جن سے یورپ آج مالامال ہے۔ بنیادی وجہ ہماری تاریخ جھوٹ در جھوٹ کا پلندا ہے اور جھوٹ ہمارا قومی مشغلہ بن چکا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہم مختلف طرح کے ”پیک آف لائز“ کو مذہبی لبادے اور اصطلاحات کے ذریعہ سے مطالعہ پاکستان کے نام پر گزشتہ 70 سال سے اپنے طلبا کو پڑھاتے آرہے ہیں۔
یورپ کی جو آج منفرد حیثیت ہے وہ انہی بنیادوں پر ہے کہ وہ جھوٹ اور تلخ حقائق کو ”شوگر کوٹ“ کر کے کتابوں کی صورت میں اپنے طلبا کو نہیں پڑھاتے بلکہ ”ایز اٹ از“ بتا کر انہیں آنے والے چیلنجز کے لئے تیار کرتے ہیں۔ وہاں ملکی نظم و نسق چلانے کے لیے ”ہیروز یا مہاتما“ بنائے یا گھڑے نہیں جاتے۔ وہ مسیحا یا اوتار جیسی اصطلاحات سے بے نیاز ہوتے ہیں، اپنے ملک اور عوام کو خوش حال یا دھرتی کو پیراڈائز بنانے کے لیے اپنی ہی دھرتی سے جڑے ہوئے عام لوگ اقتدار میں آتے ہیں اور بغیر کوئی ماورائی دعویٰ کیے اپنے معاشرے کو مزید سے مزید گل و گلزار بنا کر خاموشی سے رخصت ہو جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں تو ہیروز اور مہاتما بنانے کی باقاعدہ نرسریاں ہیں جہاں ہیروز گھڑے جاتے ہیں اور وقتی ٹارگٹ کے حصول کے لیے کوچنگ کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں ہندسوں کی زبان پر عبور رکھنے والے ایک سیانے گیانی شبر زیدی نے غصے میں آ کر کسی تقریب میں یہ بھرم بھی توڑ ڈالا اور چٹے ننگے لفظوں میں کچھ یوں ارشاد فرمایا کہ
”کچھ باتوں کو اپنے دماغ سے نکال دیں کہ یہ مملکت خداداد ہے بالکل نہیں بلکہ یہ ریاست ایک پولٹیکل ڈویلپمنٹ کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی۔ دوسرا اس مغالطے سے باہر نکلیں کہ ہمارا ملک قدرت کی رحمتوں سے مالا مال ہے مجھے تو آج تک یہ رحمت نظر نہیں آئی۔ دنیا میں ریاست مدینہ نام کی کوئی ریاست نہیں تھی اور یہ ملک اس وقت چلے گا جب آپ اس کے اندر سے آئیڈیالوجی کو نکالیں گے کیونکہ آئیڈیالوجی کی بنیاد پر آپ اپنی معیشت مستحکم بنیادوں پر نہیں چلا سکتے“
اس گفتگو کا بہت سا حصہ سینسر کر کے نرم الفاظی سے کام چلا کر مفہوم واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ سند رہے۔ اسی قومی مشغلے اور وقتی بندوبست کو مدنظر رکھتے ہوئے دو پارٹی سسٹم کے ”اسٹیٹس کو“ کو ایک مہاتما یا مجسمہ صادق و امین کے ذریعے سے توڑنے کی کوشش کی گئی مگر ساری تدبیریں الٹی پڑ گئیں اور مہاتما اپنے ہی محسنوں یا پرویز الہی کی زبان کے مطابق ”نیپیاں تبدیل“ کرنے والوں کو ہی گھورنے لگا اور ملکی نقشہ تبدیل کرنے کی دھمکی دے ڈالی۔
اب ایسے بندے کی ذہنی کیفیت پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے جو اس زعم کا شکار ہو جائے کہ ”اگر میں نہیں تو پھر کچھ بھی نہیں“ نجانے اس وہم اور زعم کا شکار کتنے آئے اور کتنے چلے گئے اور اب کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکے ہیں مگر ملک کا نظام ان کے بغیر بھی اسی رفتار سے چل رہا ہے۔ لیکن اس مہاتما سے سوال کیا جانا چاہیے کہ کنٹینر سے لے کر اقتدار کی مچان تک جو حضور نے جھوٹ کی ایک میراتھون سیریز چلائی ہے اس کا ذمہ دار خود کو ٹھہرانا پسند کریں گے؟
ویسے تو آپ نے امریکہ سمیت سب پلیئرز کو ننگا کر دیا ہے مگر خیالی عالم اسلام کے ہیرو کے طور پر آپ کے پاس اب مزید نیا منصوبہ کیا ہے جس سے ہم ایشن ٹائیگر بن سکیں؟ وہی امریکہ ہو گا، وہی آئی ایم ایف ہو گا اور انہی راستوں پر ہی چل کے جانا پڑے گا کیا باغیرت مہاتما انہی راستوں پر دوبارہ چلنا گوارا کرے گا؟ کیونکہ ہر بار امریکی سازش کا چورن تو نہیں بکے گا اس لیے پہلے سے کچھ نیا سوچ لیجیے۔


قابلِ غور