لوڈ شیڈنگ کا عذاب


مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں دعویٰ کیا ہے کہ بجلی کے بحران پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں اور اگلے چند روز میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم ہو کر محض ساڑھے تین گھنٹے جبکہ 30 جون سے لوڈ شیڈنگ دو سے ڈیڑھ گھنٹے کے قریب رہ جائے گا۔ سابق وزیر اعظم کی جانب سے یہ دعویٰ ان حالات میں سامنے آیا ہے جب پچھلے کچھ دنوں جب سے گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے کے دوران ملک کے بعض علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بارہ سے بڑھ کر سولہ گھنٹے تک پہنچ گیا ہے ۔ واضح رہے کہ پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ بجلی کا شارٹ فال 7 ہزار 793 میگا واٹ تک پہنچ گیا ہے جب کہ بجلی کی مجموعی پیداوار 19 ہزار 207 میگاواٹ اور طلب 27 ہزار میگاواٹ ہے۔

دراصل پاکستان میں جاری بجلی کے بدترین بحران کی کوئی اور وجہ نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے نا اہل حکمرانوں کی کوتاہیوں، کرپشن اور نالائقی کی داستان ہے جس کا خمیازہ پوری قوم کو ناقابل برداشت لوڈ شیڈنگ کی شکل میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ہمارے ہاں تربیلا، منگلا اور ورسک کے تین بڑے پاور پلانٹس جو سستی بجلی بناتے ہیں اور جن کی توسیع و ترقی پر کئی سالوں سے کام جاری ہے تاحال مکمل نہیں ہو سکے ہیں اس پر مستزاد یہ کہ گزشتہ کئی سالوں کے دوران وطن عزیز میں بجلی کا کوئی نیا پلانٹ نہیں لگا۔

بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم جن کا پوری قوم کو شدت سے انتظار ہے ان کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ ان کا سٹیٹس کیا ہے۔ کالاباغ ڈیم کو سیاسی مفادات اور صوبائی عصبیت کی بھینٹ چڑھا کراس قابل عمل اور ضروری منصوبے کو پچھلی کئی دہائیوں سے محض مفروضوں کی بنیاد پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایسے ملک کے ساتھ سراسر ظلم اور وطن دشمنی کا ثبوت ہے کہ جہاں پانی سے سستی ترین بجلی بنانے کے وسیع مواقع دستیاب ہیں اور جہاں کے دریاؤں کا پانی ایک بڑی مقدار میں سمندر برد ہو کر ضائع ہوجاتا ہے وہاں کے بائیس کروڑ عوام بجلی نہ ہونے کے باعث اس شدید ترین گرمی کو لوڈ شیڈنگ کے عذاب کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔

ماضی میں تھرمل بجلی کے کرپشن کے الزامات کے تحت بنائے گئے مہنگے ترین منصوبوں کا راز شاہد خاقان عباسی نے عین چوراہے میں یہ کہہ کر پھوڑا ہے کہ حکومت بازار سے مہنگی ایل این جی اور فرنس آئل خرید کر بجلی بنا رہی ہے، ایل این جی کے وہ جہاز جو 30 ملین ڈالر میں آتے تھے وہ آج 120 ملین ڈالر کے خریدے جا رہے ہیں جس کا بوجھ لازماً عوام پر بجلی کی ناروا لوڈ شیڈنگ اور اس کی قیمتوں میں ہونے والے بے تحاشا اضافے کی صورت میں سامنے آنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔

موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کے مطالبے پر گزشتہ دنوں بجلی کی قیمتوں میں 8 روپے فی یونٹ تک کے اضافے کا جو فیصلہ کیا ہے اس سے بجلی کا موجودہ نرخ فی یونٹ 25 روپے تک بڑھ جائے گا جبکہ دیگر اخراجات شامل کرنے سے یہ ریٹ فی یونٹ 60 روپے تک بڑھنے کا خدشہ ہے جس سے عام لوگوں کی زندگی مزید اجیرن بن جائے گی۔ واضح رہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کے تحت موجودہ وقت میں تقریباً ًپچاس یا اس سے زائد یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کا بل 4 سو روپے، ایک سو یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کا ماہانہ بل تقریباً 8 سو روپے، ماہانہ 150 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کا بل 12 سو روپے اور 2 سو یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کا بجلی خرچ ماہانہ بنیادوں پر 16 سو روپے تک بڑھ جائے گا۔ پیسکو ذرائع کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا اطلاق جولائی کے مہینے کے بجلی بلوں پر کیا جائے گا۔

بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور بار بار کی ٹرپنگ کا اثر ویسے تو گھریلو صارفین پر سب سے زیادہ پڑ رہا ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو اس مصیبت نے معاشرے کے تمام طبقات کو یکساں طور پر ذہنی مریض بنا رکھا ہے۔ جاری لوڈ شیڈنگ سے ہسپتالوں میں داخل مریض سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں جس کے باعث مریضوں کے لئے ہسپتالوں میں ایک گھنٹے کا قیام بھی مشکل ہو گیا ہے۔ لوڈشیڈنگ سے ہسپتالوں کے ائر کنڈیشن پلانٹس نے کام بند کر دیا ہے جبکہ پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کی وجہ سے یہاں جنریٹرز کا چلایا جانا بھی تقریباً ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

دوسری جانب بجلی اور گیس کی بے تحاشا لوڈشیڈنگ کے باعث عام شہری توانائی کے متبادل ذرائع ڈھونڈنے اور استعمال کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ویسے تو پاکستان میں پچھلے کئی سالوں سے بجلی کی مسلسل لوڈ شیڈنگ اور کم وولٹیج کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے لوگ جنریٹرز، سولر پینلز، بیٹریوں اور یو پی ایس کے متبادل ذرائع سے اپنی مالی استطاعت کے مطابق رجوع کرنے پر مجبور ہو رہے تھے لیکن موجودہ بحران کے باعث توانائی کے روایتی ذریعے سے متبادل ذرائع پر منتقلی کا یہ عمل بہ امر مجبوری اب مزید تیز ہو گیا ہے جس کا ثبوت مارکیٹ میں بڑی تعداد میں شمسی توانائی سے چلنے والے ائر کو لرز اور لائٹنگ کے ساز و سامان کا بکثرت نظر آنا ہے جس کی دھڑ ادھڑ خریدوفروخت جاری ہے۔

البتہ گزشتہ برس کے مقابلے میں مذکورہ پنکھوں، کو لرز اور بیٹریوں وغیرہ کی قیمتوں میں بھی چونکہ کئی گنا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے متبادل توانائی پر مشتمل یہ اشیاء بھی غریب شہریوں کی قوت خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہیں جس پر نہ صرف حکومت کی جانب سے ٹیکسوں میں چھوٹ کی ضرورت ہے بلکہ بازاروں میں مذکورہ سامان کے نرخوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے ان پر چیک کا بھی کوئی موثر نظام بروئے کار لایا جانا ضروری ہے۔

Facebook Comments HS