ایسے مزید کتنے سال اور آپ چلا لیں گے؟


دنیا میں کافی مفکرین گزرے ہیں جنہوں نے مزدور طبقے کے لیے آواز اٹھائی۔ لیکن مزدور طبقے کے لئے جو آواز جو نظریات کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز نے دیے ہیں اور سوشلسٹ کی بنیاد پر کمیونزم حکومت کا تصور دیا ہے وہ مقام کسی اور کو حاصل نہیں ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں سرمایہ درانہ نظام موجود ہے۔ دنیا میں پاکستان یا ترقی پذیر ممالک کے علاوہ مزدور طبقہ کو پھر بھی کافی مراعات حاصل ہے۔ لیکن پاکستان میں مزدور، چھوٹے ملازمین اور دیہاڑی دار لوگ تعلیم، صحت، روزگار کے شدید مسائل کا شکار ہیں۔

یہاں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ پاکستان میں 2021 تک غربت کی شرح 24.3 ٪ ریکارڈ کی گئی تھی یعنی کے 55 ملین لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ لیکن 2022 میں حکومت کی تبدیلی کے بعد مہنگائی کا جو طوفان آیا ہے اس نے تو غریب اور مڈل کلاس طبقہ کی مزید کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور سابق سال کی تعداد میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس مہنگائی نے ایلیٹ کلاس، اشرفیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے گھرانوں کو کوئی خاص متاثر نہیں کیا کیوں کہ ترقی پذیر ممالک میں دولت چند ہاتھوں میں محدود ہے۔

ایک اندازہ کے مطابق ترقی پذیر ممالک یا پاکستان میں ایلیٹ کلاس کے ایک فیصد لوگوں کے پاس اتنی دولت موجود ہے جتنی باقی آبادی کے 70 سے 80 فیصد لوگوں کے پاس ہے۔ 2021 کی ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ٪ 37 آبادی روزانہ دو سے تین ڈالر کما رہی ہے اور مڈل کلاس جو کبھی 1988 میں ٪ 98 تھی جن کی روزانہ آمدنی 5 سے 6 ڈالر تھی اب وہ کم ہو کر ٪ 67 پر آ گئی ہے جو پانچ سے چھ ڈالر روزانہ کما رہے ہیں۔ پاکستان میں پچھلے تیس سالوں سے کسی بھی حکومت کے بدلنے سے پاکستان کی غربت کی شرح میں کوئی فرق نہیں پڑا۔

غریب ہر گزرتے دن کے ساتھ غریب سے غریب تر ہو رہا ہے اور دولت اشرفیہ کے پاس بڑھتی جا رہی ہے۔ اس وقت پاکستان میں مہنگائی کی شرح 13.3 فیصد، انڈیا میں مہنگائی کی شرح 7.5 فیصد اور بنگلہ دیش میں شرح مہنگائی 6.1 فیصد ہے۔ مطلب یہ کہا سکتے ہیں کہ پاکستان میں پچھلے تیس سے چالیس سالوں میں کوئی بھی حکومت غربت کی شرح میں کوئی فرق نہیں لا سکی۔ جس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ پاکستان میں حکومت اشرفیہ کی ہے جو صرف چند مخصوص طبقہ کے لوگوں کے لیے سوچتی ہے اور انہی کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔

اس وقت پاکستان میں 40 فیصد گھرانے شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ 28 ملین بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ ہر سال 55000 بچے صاف پانی کی قلت کے باعث موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ذمہ دار کون ہے؟ جب کہ وزیراعظم صاحب دو ہزار روپیہ ماہانہ سبسڈی غریبوں کو دینے کا اعلان کر رہے ہیں۔ عمران خان صاحب جنہوں نے صرف نئی حکومت کو مشکلات میں ڈالنے کے لیے آئی ایم ایف کو کرونا امداد کی آڈٹ پورٹ نہ بھجوائی۔ جس بنیاد پر آئی ایم ایف نے فروری میں قرضہ کی قسط روک لی۔ عمران خان صاحب کے تمام اقدامات اپنی حکومت بچانے کے لیے تھے۔ شہباز شریف صاحب کے تمام اقدامات اپنی پارٹی کی حکومت بنانے اور اس کو مضبوط کرنے کی ناکام کوشش کے لئے ہیں۔ جبکہ ان دونوں کے درمیان غریب عوام کے لیے کسی نے بھی نہیں سوچا۔

پاکستان کو سرمایہ دارانہ ریاست بنانے کے لیے اقدامات قائداعظم کی وفات کے فوراً بعد ہی شروع کر دیے گئے تھے۔ کیا وجہ ہے کہ قرارداد مقاصد قائد اعظم کی زندگی میں پیش و منظور نہ کی گئی۔ پاکستان کے آئین میں اسلامی جمہوریہ کا ترکہ لگاتے ہوئے سنہ 80 کی دہائی میں پاکستان کو مذہبی شدت پسندی کی طرف دھکیل کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سرمایہ دارانہ نظام کو مضبوط کر دیا گیا۔ اگرچہ بھٹو صاحب کہتے تھے کہ میں سوشلسٹ ہوں اور سوشلزم کو سپورٹ بھی کرتے تھے لیکن انھوں نے اس کے لیے کوئی خاص کام نہیں کیا۔

ضیاء الحق کے دور میں ملک کو کیپٹلزم سے بچانے کے لئے فیض احمد فیض جیسی شخصیت نے مختلف تحریکوں کے ذریعے سوشلزم کو اجاگر کرنے کی کوشش کی لیکن ڈالر کی ریل پیل کی وجہ سے سوشلزم کو دبا دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں سنہ 80 کی دہائی کے بعد کیپٹلزم نظام پر انویسٹمنٹ کر کے محنت کش طبقے کے حقوق کو بری طرح کچل گیا۔ ان چالیس سالوں کے دوران مغرب کی حمایت سے سرمایہ دارانہ نظام اس حد تک تناور درخت بن چکا ہے کہ اب اس مہنگائی کے طوفان کے پیش نظر جب غریب کو اپنے حقوق یاد آنا شروع ہوئے ہیں تو ریٹائرڈ جنرلز تک اس کو بچانے کے لئے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔

حکومت کی تبدیلی کے بعد پچھلے دو ماہ کے دوران آرمی، اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور اشرفیہ کی مراعات پر جب سوشل میڈیا پر بحث مباحثہ شروع ہوا تو یہ جوابات آنا شروع ہوئے کہ ان مراعات کی واپسی سے ملکی معیشت پر کوئی خاص فرق نہیں پڑنا۔ اسٹیبلشمنٹ، آرمی، سیاستدان اور عدلیہ تو آٹے میں نمک کے برابر مراعات لے رہے ہیں جبکہ حقیقت میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام ( یو این ڈی پی) کے مطابق یہ مراعات پاکستانی اکانومی کا 17.4 ٪ بلین ڈالر ہیں۔

ایک جیسا سکیل رکھنے والے سرکاری ملازمین کی طرز زندگی ایک جیسی کیوں نہیں ہے؟ ایک سکیل انیسویں کا عدلیہ، آرمی یا اسٹیبلشمنٹ کا ملازم انیسویں سکیل کے سکول ٹیچر کے برابر طرز زندگی کیوں نہیں رکھتا؟

انقلابات ہمیشہ دو صورتوں میں آتے ہیں یا تو عوام بہت زیادہ خوشحال ہو یا محنت کش طبقہ کے پاس کھانے کے لئے کچھ بھی نہ ہو۔ دونوں صورتوں میں انقلاب کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں مہنگائی کی موجودہ لہر نے محنت کش، مزدور، چھوٹے ملازمین اور غریب طبقے کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا اگر حکومت وقت نے اس وقت ان لوگوں کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات نہ کیے تو عوام کے سڑکوں پر آنے کے چانس بہت زیادہ ہے۔ ریاست کبھی بھی پاکستانی موجودہ طرز حکومت کے ساتھ ترقی اور کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔ پاکستانی ریاست نے اپنے تمام پڑوسیوں سے بگاڑ رکھی ہے۔ تعلیم، صحت کا بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ دفاعی بجٹ کا حجم بہت زیادہ ہے اس کے باوجود پاکستان آرمی کے بے شمار سابق افسر سویلین محکمہ جات میں تعینات ہیں۔ پاکستان کے سیاسی پارٹیوں کے سربراہ یا تو حکومت میں ہوتے ہیں یا پھر بیرون ملک رہتے ہیں۔

2020 تک، پاکستان انسانی ترقی کی رینکنگ میں 189 ممالک میں سے 154 نمبر پر تھا۔ پاکستان کے ڈاکٹرز، انجینئرز یہاں تک کہ مزدور پیشہ لوگ بھی باہر جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ وجہ کیا ہے؟ یہاں وہ عدم تحفظ کا شکار ہے۔ سوشل سیکورٹی نہیں ہے۔ آزادی رائے نہیں ہے۔ صحت اور تعلیم کا کوئی موثر نظام نہیں ہے۔ لاقانونیت اور مہنگائی عروج پر ہے اور ذرائع آمدن محدود ہیں۔ ادارے رشوت خوری کا گڑھ بن چکے ہیں اور صرف اشرفیہ، چوروں اور ڈاکوؤں کو تحفظ دے رہے ہیں۔ ایسے مزید کتنے سال اور آپ چلا لیں گے؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments