عامر لیاقت: خود کو تباہ کر لیا، اور ملال بھی نہیں

یہ اکیسویں صدی کے آغاز کی بات تھی۔ میں تازہ تازہ ایف ایس سی کے امتحانات دے کر فارغ ہوا تھا۔ ایف ایم ریڈیو چینلز کی ان دنوں خوب شہرت تھی۔ اور یہ اس دور میں آج کل کی سوشل میڈیا سائٹس کی طرح مقبول ہوا کرتے تھے۔ امتحانوں کے بعد یونیورسٹی کی پڑھائی شروع ہونے کے بیچ میں کوئی چھ، آٹھ ماہ کا وقفہ ہوا کرتا تھا، سو اس دوران میں بھی ان ایف ایم چینلز کا پرستار بنا اور انہیں دن رات سننا میرا پسندیدہ مشغلہ بن گیا۔
ریڈیو پروگرامز ٹیلی ویژن کے پروگراموں سے الگ ہوتے ہیں۔ وہاں مقبول ہونے کے لئے اچھا نظر آنا بنیادی شرط نہیں ہوتی۔ اچھی آواز کے علاوہ تسلسل کے ساتھ دلچسپ باتیں، اور زبان و بیان پر عبور ایک ریڈیو پیش کار کو اپنے سامعین میں مقبول بناتا ہے۔ اس دور کے مختلف ایف ایم چینلز پر ایسے بے شمار با صلاحیت پیش کار ہوا کرتے تھے جو اپنی باتوں سے سننے والوں پر سحر طاری کرنے کا فن جانتے تھے۔ ان میں سے کئی ایک کا میں بھی پرستار ہو گیا تھا اور روز ہی بے چینی سے اس وقت کا انتظار کیا کرتا تھا کہ کب ان کا پروگرام نشر ہو گا۔
ایک رات اعلان ہوا کہ آج ایک نیا گیم شو نشر کیا جائے گا جس کا نام غالباً کوئی ایسا تھا، ”موبی لنک اور جاز بنائے منٹوں میں مالا مال“
شو شروع ہوا، اس شو کا میزبان کوئی اجنبی تھا جس کی آواز کسی ریڈیو پر میں نے پہلے نہیں سنی تھی۔ پر کیا انداز تھا، کیا گرفت اور خوبصورتی تھی۔ پورے شو کے دوران کوئی مختصر سا لمحہ بھی ایسا نہیں تھا کہ جس میں دلچسپی کا عنصر کم ہوا ہو۔ میں حیران تھا کہ کیسے کوئی ایک نیا اور ناتجربہ کار میزبان اتنا بہترین پروگرام کر سکتا ہے۔ پچھلے مہینوں یا شاید سالوں کے دوران سارے ایف ایم چینلز پر جو بھی با صلاحیت پیش کاروں کو سنا تھا، مجھے ان سب سے بہترین یہ نیا نویلا پیش کار لگا تھا۔ عامر لیاقت حسین سے یہ پہلا تعارف تھا۔ اس وقت نہ مجھے علم تھا نہ سامعین کو اور نہ ہی شاید ان کے قریبی لوگوں کو، کہ یہ شخص پاکستان کی پرائیویٹ میڈیا انڈسٹری پر آنے والے دنوں میں راج کرنے والا ہے۔
اس کے بعد ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے شہرت کی جن بلندیوں کو چھوا، اس کی تفصیل میں جانا غیر ضروری ہے کیوں کہ پاکستانی ٹیلی ویژن چینلز کے ناظرین اس سے اچھی طرح واقف ہیں۔ ان کی موجودگی ریٹنگز کو آسمان پر لے جاتی تھی۔ اور جب ریموٹ کی ایک کلک پر دنیا جہاں کے چینل میسر ہوں وہاں لوگوں کو ایک چینل پر روکے رکھنا ہی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا کارنامہ تھا۔
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی شہرت میڈیا تک ہی محدود نہیں تھیں بلکہ سیاسی میدان میں بھی انہوں نے کامیابیاں سمیٹیں اور وفاقی وزیر کے عہدے تک پہنچے۔ گویا اپنی زندگی کی تیسری دہائی میں ہی کامیابیوں اور کامرانیوں کی وہ منزلیں سر کیں، جن کے لوگوں کی اکثریت صرف خواب ہی دیکھ سکتی ہے۔
میں نے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کو ٹیلی ویژن پر بہت کم دیکھا، کیوں کہ گھر میں ٹیلی ویژن موجود نہ تھا۔ بیرون ملک منتقلی کے بعد یہ سلسلہ اور بھی کم ہو گیا۔ اس دوران ان کے تنازعات سامنے آتے رہے جو اکثر وائرل ہو جاتے تھے۔ پر یہ تنازعات ایسے ہی تھے جو کسی بھی ملک میں کسی مشہور انسان کے اکثر ہو جاتے ہیں۔ گو کہ سنجیدہ حلقوں میں ان کے افکار اور اعمال کے تضادات ہدف تنقید بننے لگے تھے پر عام لوگوں میں ان کی شہرت پہلے کی طرح ہی برقرار تھی۔
میرے لئے ٹیلی ویژن کے بجائے اخبارات ہی خبروں کا ذریعہ ہوا کرتے تھے۔ میں ان میں شایع ہونے والے بڑے کالم نگاروں کی تحریروں کا بھی شوقین تھا۔ ایک سے ایک بڑھ کر جملے ملانے والے کالم نگار موجود تھے۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین بہت ہی کم لکھا کرتے تھے۔ اکثر اوقات ان کے نظریات سے عدم اتفاق کے باوجود ان کی تحریروں کا معیار اتنا بہترین ہوا کرتا تھا جو سوچنے پر مجبور کر دیتا تھا کہ اگر یہ بندہ اور کچھ نہ ہوتا اور صرف ایک کالم نگار ہوتا تو بھی شاہکار تخلیق کرتا۔
پچھلے آٹھ، دس سالوں میں کیا کچھ تبدیل ہوا؟ متنازعہ تو وہ تھے ہی، مگر اس شعبے کے اندر لوگوں کا متنازعہ ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہوتی۔ ان آخری سالوں میں ان سے سنگین غلطیاں سرزد ہوئیں۔ انہوں نے لوگوں پر فتوے لگائے اور ان کی زندگیوں کو خطروں سے دو چار کیا، بے شمار لوگ ان کی بے جا تنقید کا شکار بنے اور اس دوران انہوں نے حدیں پار کیں اور صرف دشمن ہی بنائے جن میں بعض سے بعد میں وہ معافی مانگتے بھی نظر آئے۔ مجھے ذاتی طور پر جنید جمشید پر کیے جانے والے رکیک حملوں پر افسوس ہوا، کہ جنید جمشید بنیادی طور پر ہمیشہ ایک صلح جو اور شریف آدمی تھے۔
کیا زیادہ شہرت ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے دماغ پر سوار ہو گئی تھی؟ یا وہ توجہ کے طالب تھے جسے حاصل کرنے کے لئے وہ زیادہ تنازعات پیدا کیا کرتے تھے؟ کیا وہ ڈپریشن کے شکار ہو گئے تھے، یا پھر وہ دماغی عدم توازن کے عارضے میں مبتلا تھے؟ ایسے بے شمار سوالات ہیں جو لوگ کرتے رہیں گے مگر اس کے جواب شاید کبھی نہ مل پائیں۔
کسی کی موت پر ایسا بہت کم دیکھا ہے کہ کچھ لوگ مرنے والے کے لئے اظہار افسوس کے بجائے اس کی برائیاں بیان کریں اور اس کی مغفرت اور در گزر کی دعاؤں سے گریز کریں۔ افسوس کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے انتقال پر ایسا نہیں تھا اور بہت سے لوگ خود کو ان کی برائیاں کرنے سے روک نہ پائے۔ میں ان کے جذبات کو مکمل طور پر سمجھ سکتا ہوں کہ شاید ان حملوں کی وجہ سے ان لوگوں کی یا ان کے پیاروں کی زندگی براہ راست متاثر ہوئی جس کا کوئی مداوا نہیں کر سکتا۔
مگر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی زندگی اور پھر اچانک موت نے مجھے ایک سبق دیا ہے۔ زندگی میں اگر بہت جلدی بھی بہت کچھ حاصل ہو جائے تو یہ کہانی کا اختتام نہیں ہوتا۔ کچھ حاصل کر لینا اور پھر اس کو قائم رکھنا انسان سے مسلسل محنت اور لگن کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر راستہ کھو جائے تو کمال سے زوال کی طرف گرنے میں بہت دیر نہیں لگتی چاہے جتنی بلندیوں کا سفر طے ہو چکا ہو۔ زندگی کا یہ سبق صرف کیرئیر تک ہی محدود نہیں بلکہ انسانی رشتوں تک محیط ہے کہ کسی درخت کے برعکس ایک پودے کی طرح یہ ہمیشہ دیکھ بھال اور توجہ کے متقاضی ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین ایک بہت ہی با صلاحیت انسان تھا جو اب اس دنیا میں نہیں رہا، جو شاید کسی وقت غیر محسوس طریقے سے اپنی تباہی کے راستے پر چل پڑا۔ میڈیا کی طاقت یہی ہے کہ وہ لوگ جن سے کبھی زندگی میں ملاقات نہ ہوئی ہو، وہ آپ کی زندگی اور گھرانے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین بھی کبھی اپنی رمضان نشریات کی وجہ سے اکثر گھروں میں ان کے خاندان کے ایک فرد کی طرح ہوتا تھا۔ مجھے اس بات پر افسوس ہے کہ اس کی موت اس کی زندگی کی طرح نہیں رہی۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ پاکستانیوں کی اکثریت ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے جانے پر بھی اسی طرح دکھی ہوتی جیسے معین اختر، جنید جمشید، یا علی سدپارہ کے جانے پر ہوئی تھی۔ کاش کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اپنا رستہ یوں بھٹک نہ جاتا!
جون ایلیا کا یہ شعر شاید کافی حد تک ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی زندگی کی ترجمانی کرتا ہے۔
میں بھی بہت عجیب ہوں، اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا، اور ملال بھی نہیں

