اور پھر عامر لیاقت دنیا سے رخصت ہوا


عالم آن لائن اور رمضان ٹرانسمیشن سے عزت اور شہرت کی بلندیوں کو چھو لینے والا عامر لیاقت حسین آج دنیا سے رخصت ہوا۔ وہ کئی بار پارلیمان کا ممبر بنا اور اس نے وزارت مذہبی امور کا قلمدان بھی سنبھالے رکھا۔ اس نے اپنے حلقے میں بے شمار فلاحی کام کیے، جن کا ذکر وہ اکثر اپنی کئی ویڈیوز میں کرتا بھی رہا۔ بلاشبہ، اس میں انتہا کی ذہانت اور قابلیت تھی۔

مگر وہ اپنی ذاتی زندگی میں بری طرح ناکام رہا۔ پہلی دو شادیوں میں ناکامی کے بعد وہ تنہائی، ڈپریشن اور مایوسی کا شکار ہو گیا ہوا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ دانیہ جیسی انتہائی گھٹیا اور نیچ لڑکی کے جال میں پھنس گیا۔ جال کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ کوئی بھی منکوحہ کسی بھی صورت میں اپنے خاوند کی ننگی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالنے کی جرات نہیں کر سکتی۔ مگر بے شرم دانیہ نے اس انسانی اور اخلاقی حد کی دھجیاں اڑا کر خود کو انسانیت کیا حیوانیت کے درجے سے بھی نیچے گرا دیا۔ دراصل دولت اور شہرت کے لالچ میں اس نے عامر لیاقت کو پھنسا کر بداخلاقی اور گھٹیا پن کی ہر حد ہی توڑ ڈالی۔

دانیہ کی اس حرکت کے بعد ہمارے معاشرے کا ردعمل بھی انتہائی افسوس ناک اور باعث شرم رہا۔ بطور معاشرہ ہم نے دانیہ کو اس نیچ حرکت پر تنقید کا نشانہ بنانے کی بجائے الٹا عامر لیاقت کا ہی مذاق اور تمسخر اڑانا شروع کر دیا۔ لہذا عامر لیاقت کی موت کا ذمہ دار ہمارا سارا معاشرہ ہے اور یہ ایک معاشرتی قتل ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر افسوسناک بات عوام الناس کا اس کی موت پر ردعمل ہے۔ کئی دودھ کے دھلے تو اس پر دوزخ کے فتوے جاری کر رہے ہیں۔ ارے یہ کام اللہ سبحان و تعالیٰ کا ہے اور یہ جنت دوزخ کے فیصلے اسی پر چھوڑ دیں تو بہتر ہے۔ سب اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور دیکھیں کہ خدائے بزرگ و برتر نے ہمارے کس کس طرح کے اعمال پر پردہ نشینی کی ہوئی ہے۔

عامر لیاقت کی نفسیاتی حالت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس کی پہلی دونوں بیویاں اسے چھوڑ چکی تھیں۔ خاندان اور بچوں نے اسے مسترد کر دیا ہوا تھا۔ وہ تنہائی کا شکار تھا۔ اس حالت میں دانیہ جیسی خطرناک عورت کا شکار ہو گیا، جس نے اس بے چارے کے ہر پرائیویٹ معاملے کو پبلک کر دیا۔

اور پھر بدقسمتی سے اس پر معاشرتی ردعمل نے اس سے اس کی تنہائی بھی چھین لی۔ وہ جہاں جاتا اس پر آوازیں کسی جاتیں۔ اس کا تمسخر اڑایا جاتا۔ اسے ذلیل و رسوا کیا جاتا۔ بالکل اسی طرح جس طرح ایک پاگل دیوانے گروہ نے بنا تحقیق کیے سر عام سری لنکن شہری کو پیٹ پیٹ کر جلا دیا۔ اس جنونی گروہ کے رویے اور ہمارے دوسرے معاشرتی رویوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ ادھر بھی بطور معاشرہ ہم نے گھٹیا پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے عامر لیاقت جیسے ذہین انسان کا نفسیاتی قتل کر دیا اور اسے ہر لمحہ اذیت دے دے کر اس سے زندہ رہنے کا حق چھین لیا۔ اور وہ بے چارہ پاکستان کو ہمیشہ کے لیے چھوڑتے چھوڑتے دنیا ہی چھوڑ بیٹھا۔ دراصل، ہم نے اس سے جینے کی خواہش ہی چھین لی اور وہ ہزاروں روشنیوں کے بیج اسٹیج پر سارا سارا دن اور رات پروگرام کرنے والا تن تنہا موت کی آغوش میں چلا گیا۔ صد افسوس کہ اس کے پاس اس کی آخری خواہش پوچھنے والا بھی کوئی نہیں تھا۔

Facebook Comments HS