صحرائے کاچھو کی پنجوتھو نہر اور تاریخی درستگی

سندھ کے کلہوڑا حکمرانوں نے زراعت کو فروغ دینے کے لیے سندھ میں کئی نہریں کھدوائیں۔ سندھ دریاء کے پانی کو زرخیز زمینوں تک پہنچایا اور زراعت کو بڑا فروغ دیا۔ دریائے سندھ کے پانی کے علاوہ پہاڑی علاقوں میں سے آنے والی بارانی ندی نالوں کے پانی کو بھی زرعی مقاصد یا زرعی استعمال کے لیے ان ندی نالوں پر نہریں کھدوائیں اور ہزاروں ایکڑ زمین سیراب کر کہ فصلیں اگوائیں۔ صحرائے کاچھو سندھ کے ضلع دادو سے شروع ہوتا ہے اور شمال میں قدیم زمانے میں سبی بلوچستان تک اور اب سندھ کے ضلع جیکب آباد اور قمبر۔ شہداد کوٹ تک پھیلا ہوا ہے۔ یہاں ضلع دادو کی تحصیل جوہی کی سرحدوں میں صحرائے کاچھو میں بارانی ندی سول یا شول اور تکی سے نکالی یا کھودی گئی پنجوتھو نہر کے نام اور اس کے تاریخی پس منظر کے بیان میں کی گئی تاریخی غلطی کی درستگی کا ذکر کرنا مقصد ہے۔
جب میاں نصیر محمد کلہوڑو ( 1692۔ 1657 ء) نے گوالیار جیل میں قید سے نجات پائی تو اس نے موجودہ ضلع دادو کی تحصیل خیرپور ناتھن شاہ کے گاؤں ’گاڑہی‘ کو مسکن بنایا تھا۔ اس نے معاشیات اور زراعت کو فروغ دینے کے لیے بارانی ندیاں بالخصوص سالاری ندی، مکھی ندی، گاج ندی، شول ندی، تکی ندی، نلی ندی، ککڑانی ندی، ہلیلی ندی، کھندھانی ندی وغیرہ پر نہریں کھدوائیں اور وہ نہریں پیداوار میں حصیداری کے طور پر اپنی میانوال تحریک کے سرکردہ حامی آدمیوں، قبیلوں اور سپہہ سالاروں کے حوالے کیں۔ ان نہروں میں آج تک گل محمد لغاری کا گل محمد واہ (نہر) ، راجو لیکھی کا راج واہ، جنگو جمالی کا جنگو واہ، طالب واہ اور پنجوتھا قبیلے کا پنجوتھو واہ موجود ہیں۔
پنجوتھو نہر پنجوتھا قبیلے کے حوالے یا نگرانی میں تھی جس کی زرعی آبادی کا حصہ میاں نصیر محمد کلہوڑو کے حوالے ہوتا تھا۔ پنجوتھو واہ (نہر) تحصیل جوہی کی دیہہ آراڑو میں آراڑو کے قبرستان کے قریب، گاؤں پٹ سلیمان کے شمال میں 4 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
پنجوتھو نہر صحرائے کاچھو کی بارانی ندی تکی سے نکالی گئی تھی اور تحصیل جوہی کی موجودہ آراڑو دیہہ کا علاقہ سیراب کرتی تھی۔ مقامی روایات کے مطابق پنجوتھو نہر پر اس وجہ سے نام پنجوتھو پڑا کہ اس نہر پر زرعی آبادی کا پانچواں حصہ میاں نصیر محمد کلہوڑو کے حوالے کیا جاتا تھا اس لیے پنجوتھو واہ (نہر) کہلایا لیکن یہ درست نہیں۔ دراصل یہ نہر میاں کے کہنے پر پنجوتھو قبیلے نے کھدوائی اور ان کے حوالے تھی اس لیے یہ نہر پنجوٹھو کہلائی۔
ہمارے مورخین نے روایات کو ترجیح دی اور تاریخ میں درج کیا ہے کہ اس نہر کی زرعی آبادی کا پانچواں حصہ میاں نصیر محمد کلہوڑو کو ملتا تھا اس لیے اس نہر پر پنجوتھو واہ (نہر) نام پڑا جب کہ حقیت اس کے بالکل بر عکس ہے۔ حقیقت پہلے بیان کی گئی ہے کہ یہ نام پنجوتھا قبیلے کی وجہ سے پڑا۔ میری معلومات کے مطابق پنجوتھا قبیلہ پنجاب کے سرائیکی وسیب میں بھی مقیم ہے۔ سندھ میں ضلع جامشورو کے تاریخی شہر سیہون شریف کے گرد و نواح کے علاوہ دوسرے اضلاع میں بھی مقیم ہے۔
سیہون شریف میں رہنے والے ہائی کورٹ کے مشہور وکیل محمد نواز پنجوتھہ نے تصدیق کی کہ پہلے ان کے آبا و اجداد سندھ کے صحرائے کاچھو میں مقیم تھے بعد میں سندھ کے دوسرے اضلاع میں مقیم ہوئے۔ اس لیے صحرائے کاچھو میں پنجوتھو واہ (نہر) کی تاریخ اور اس کے نام کے پس منظر کو درست کیا جائے۔ یہ درستگی آنے والی نسلوں کو درست تاریخی پس منظر سے آگاہ کرے گی۔

