کیا میں ایک عورت نہیں ہوں؟
کیا میں ایک عورت نہیں ہوں؟ یہ سیاہ فام امریکی خاتون، سوجورنر ٹروتھ (Sojourner Truth) کی وہ تاریخ ساز تقریر ہے جو انھوں نے 1851عسیوی میں امریکہ کی ریاست اوہائیو میں منعقد ہونے والی خواتین کنونشن میں کی تھی۔ یہ تقریر نہ صرف آج بھی طرفداران انسانی اور نسوانی حقوق میں مشہور ہے بلکہ غیر سفید فام نسوانی حقوق کے علم برداروں کے لیے ایک مشعل راہ ہے۔ سوجورنر ٹروتھ سیاہ فام امریکیوں کی غلامی کے خاتمہ اور خواتین کے حقوق کی تحریک کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
اور ان کی یہ تقریر انیسویں صدی میں امریکہ میں سیاہ فاموں اور خاص طور پر سیاہ فام خواتین کی حالت زار کی بہترین عکاسی کرتی ہے۔ یہ تقریر ہمیں یہ پیغام بھی دیتی ہے کہ جب تک ظلم و زیادتی کے خلاف خواتین خود کھڑی نہ ہو جائے ان کو حقوق ملنا مشکل ہے۔ درج ذیل میں سوجورنر ٹروتھ کی تقریر کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے۔
”اچھا، بچو، جہاں بہت زیادہ بد دیانتی ہو وہاں خرابی ضرور ہوتی ہے۔ میں سوچتی ہوں کہ جنوب کے سیاہ فام سے لے کر شمال کی خواتین تک، سب حقوق کی باتیں کر رہے ہیں کہ سفید فام مرد بہت جلد ٹھیک ہو جائیں گے۔ مگر یہ سب یہاں کس چیز کے بارے میں بات کر رہے ہیں؟
وہاں وہ آدمی کہتا ہے کہ عورتوں کو ہتھ گاڑی چلانے میں اور گڑھے سے نکالنے میں مدد کی ضرورت ہے اور ان کو ہر جگہ بہترین جگہ دینے کی ضرورت ہے۔ لیکن مجھے تو ہتھ گاڑی چلانے یا کیچڑ کے گڑھے سے نکلنے میں کوئی بھی مدد نہیں کرتا۔ اور نہ ہی کوئی مجھے بہترین جگہ دیتا ہے، کیا میں ایک عورت نہیں ہوں؟ مجھے دیکھو! میرے بازو دیکھو! میں نے ہل چلایا ہے، فصل بویا ہے، اور گوداموں میں جمع کیا ہے، لیکن کسی مرد نے میری طرف دھیان نہیں دیا۔
کیا میں ایک عورت نہیں ہوں؟ میں ایک مرد جتنا کام کرتی ہوں اور اتنا کھا بھی سکتی ہوں۔ اگر مجھے مل جائے تو۔ اور اس کے اوپر کوڑے کی ضرب بھی برداشت کرتی ہوں۔ کیا میں عورت نہیں ہوں؟ میں نے تیرہ بچوں کو جنم دے دیا ہے اور تقریباً تمام کو غلام کے طور پر فروخت ہوتے بھی دیکھا، اور جب میں تکلیف سے رویا تو یسوع کے سوا کسی نے میری نہیں سنی۔ تو کیا میں ایک عورت نہیں ہوں؟
پھر وہ اس چیز کے بارے میں باتیں کرتے ہیں جو سر کے اندر ہے ؛ اسے کیا کہتے ہیں؟ [سامعین سے سرگوشی ہوتی ہے، ”عقل“ ] جی صحیح کہا، پیارے۔ اس (عقل) کا خواتین اور سیاہ فاموں کے حقوق سے کیا تعلق ہے؟ اگر میرا پیالہ میں ایک پنٹ کے علاوہ کچھ نہیں ہے، اور آپ کا پیالہ بھرا ہوا ہے، تو کیا یہ تمھاری بخیلی نہیں ہے کہ تم مجھے میرا پیالہ آدھا بھرنا بھی نہیں دیتے؟
پھر ادھر وہ سیاہ (کپڑے والا) چھوٹا آدمی کہتا ہے کہ عورتوں کو مردوں کے جتنے حقوق نہیں مل سکتے، کیونکہ مسیح عورت نہیں تھا۔ تمہارا مسیح کہاں سے آیا تھا؟ تمہارا مسیح کہاں سے آیا تھا؟ خدا اور عورت کی طرف سے۔ مرد کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
اگر خدا کی تخلیق کی ہوئی پہلی عورت اتنی مضبوط ہو سکتی ہے کہ وہ اکیلی ہی دنیا کو الٹ پلٹ کر سکتی ہے، تو یہ سارے خواتین مل کر اسے واپس موڑ سکتی ہیں اور اسے دوبارہ درست بھی کر سکتی ہیں۔ اور اب وہ ایسا کرنے جا رہی ہیں، بہتر ہے کہ مرد انہیں ایسا کرنے دیں۔
آپ نے مجھے سنا آپ کی شکرگزار ہوں۔ اس بوڑھی سوجورنر کے پاس اب اس کے علاوہ کہنے کو کچھ نہیں ہے۔
نوٹ: ترجمہ کے دوران تقریر کا انگلش متن کے لیے فورڈہم یونیورسٹی کے ویب سائیٹ سے استفادہ کیا ہے




