کہیں دیر نہ ہو جائے
زندگی کی تیز رفتاری، ٹیکنالوجی اور نت نئی ایجادات نے انسان کو نہ صرف بے حد مصروف بلکہ اپنے ارد گرد سے بھی بے خبر کر دیا ہے، یہاں تک کہ اپنے عزیز رشتوں سے بھی فاصلہ پیدا ہو گیا ہے۔ ہمیں نہ اپنے اردگرد کا کوئی علم ہے نہ ان لوگوں کو یاد کرنے کی فرصت جو دنیا کی اس بے ہنگم بھیڑ میں تھک کر ایک طرف بیٹھ گئے ہیں، مگر کسی کو ان کا احساس نہیں۔
عامر لیاقت کے کیس نے کئی تلخ حقیقتوں کو ایک بار پھر ہمارے سامنے آشکار کیا ہے کہ ہم کس الٹ پھیر میں الجھ کے رہ گئے ہیں کہ ہمیں کسی کی فکر نہیں رہی۔
ہمیں کچھ باتوں پر غور ضرور کرنا چاہیے۔
01۔ کیا کبھی ہم نے سوچا کہ بظاہر مضبوط نظر آنے والا، یا ایسا دکھنے کی کوشش کرنے والا کیا واقعی ایسا ہی ہے؟ یا اندر کی کسی کمزوری کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے؟
02۔ کسی کو مالی مسائل کا سامنا ہو، بچوں کے مستقبل کی فکر ہو، کسی کے بچھڑ جانے کا دکھ ہو، کوئی پچھتاوا ہو، کسی کی بے وفائی کا صدمہ ہو، بیوی، بچوں سے ناچاقی ہو، کوئی غلط فہمی ہو، کسی کا منفی رویہ سہنا پڑتا ہو تو کیا وہ نارمل رویہ کا حامل ہو گا؟ کیا ہم اس کو سمجھنے کی کوشش نہیں کر سکتے؟
03۔ ، کیا ہم سے غلطیاں نہیں ہوتیں؟ اگر کسی انسان سے غلطی ہوئی ہے تو کیا ہم اس کی اصلاح میں مدد نہیں کر سکتے؟ بالفرض ہمیں نقصان پہنچایا ہو تو کیا ہم اصلاح میں اس کی مدد نہیں کر سکتے؟ کیا اس کو نظرانداز بھی نہیں کر سکتے؟ اگر کوئی ہمارا اپنا، اگر اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے، معافی مانگے تو کیا ہم اس کو گلے نہیں لگا سکتے؟
04۔ اگر ہمارا اپنا کسی ایک یا پے در پے غلطیوں کی وجہ سے اکیلا ہو جائے اور اس کو ہماری ضرورت ہو تو کیا ہم اس کو رونے کے لئے اپنا کندھا بھی نہیں دے سکتے؟
05۔ اگر کوئی شخص شدید ڈپریشن میں غلطیوں پر غلطیاں کیے جا رہا ہو تو کیا ہم اس سے قطع تعلق کے بجائے اپنا فرض سمجھتے ہوئے اس کو سختی سے راہ راست پر نہیں لا سکتے؟
06۔ اگر تنہائی کا شکار یا نظرانداز ہونے والا ہمارا اپنا کبھی ہم سے کھل کر بات کرنا چاہتا ہو، اپنا دکھڑا سنانا چاہتا ہو، تو کیا ہمارے پاس اس کے لئے بھی وقت نہیں؟
07۔ سوشل میڈیا پر بنا سوچے سمجھے ہمارے کمینٹس بعض اوقات دوسرے پر کتنے گراں گزرتے ہیں، اس کا شاید ہمیں علم ہی نہیں ہوتا، کیا ہم تھوڑی احتیاط نہیں کر سکتے؟ یا کم از کم صرف اپنے ردعمل کو ان معاملات تک محدود نہیں رکھ سکتے، جن سے ہمارا ذاتی تعلق ہو۔
ان تمام باتوں پر غور کیجیے، اس دور میں کوئی بھی ان حالات کا شکار ہو سکتا ہے، ہمارے گھر میں، ہمارے ہمسایہ یا دوستوں، عزیزوں میں بھی، یہاں تک کہ ہم خود بھی اس صورتحال کا شکار ہو سکتے ہیں۔
تھوڑا سا سوچیے، کسی کو تنہائی کا شکار ہونے نہ دیجیے، ہو سکے تو بروقت سنبھال لیجیے۔ کہیں دیر نہ ہو جائے، کسی کے ناکام ہونے یا مسائل سے دوچار ہونے میں چاہے آپ کا قصور نہ بھی ہو، اگر آپ کی وجہ سے وہ مسائل سے نبردآزما ہو سکتا ہے یا نارمل زندگی کی طرف آ سکتا ہے تو ضرور اپنا کردار ادا کیجئے۔ ایسا نہ ہو کہ اس بات کا اندازہ لگانے میں وقت نکل جائے۔


