وادی کالاش کہ جیسے کسی فلم کا سیٹ


موٹر سائیکل پر ایک طویل سفر سے حال ہی میں واپسی ہوئی ہے۔ قراقرم ہائی وے سے ہوتے ہوئے وادی غذر گئے یہاں یسین وادی کا چکر لگایا اور پھر شیندور لاسپور مستوج بونی سے ہوتے ہوئے چترال پہنچے۔ کالاش اور گول نیشنل پارک کے چکر لگانے کے بعد واپس لاہور آنے تک یہ سفر تقریباً دو ہزار کلو میٹر ہو چکا تھا۔

کئی دفعہ ایک سوال کا سامنا رہتا ہے کہ آپ گلگت بلتستان جانے کے لیے بابو سر کا مختصر راستہ کیوں نہیں اپناتے؟ اس کی ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے ٹور میں جب تک بشام پٹن داسو اور سمر نالہ وغیرہ نہ آئے لگتا ہی نہیں جیسے ٹور کیا ہو۔ بس اس کو ایک نفسیاتی فکسیشن سمجھ لیجیے۔

دوسرا جب سے قراقرم ہائی وے کافی حد تک اپ گریڈ ہوئی ہے میں بابو سر کے راستے کو کچھ زیادہ مختصر راستہ نہیں سمجھتا۔ ممکن ہے کہ دو گھنٹے کا فرق پڑتا ہو لیکن اتنے طویل سفر میں دو گھنٹے کوئی معنی نہیں رکھتے جبکہ قراقرم ہائی وے بہر حال ایک سڑک نہیں عجائب گھر ہے اور اس عجائب گھر کو ادھورا دیکھنا ٹور ادھورا کرنے کے مترادف ہے۔

سفر میں بہت سی کہانیاں ملتی ہیں اور سیکھنے سکھانے کا عمل جاری رہتا ہے۔ اس طویل سفر میں بھی میرے لیے فکری و جذباتی ترقی کے وافر اسباق تھے۔

ہم چترال سے کالاش گئے۔ آیون گاؤں سے کالاش تک کئی سوال میرے ذہن میں اودھم مچاتے رہے جن کا کوئی تشفی آمیز جواب میرے پاس نہیں تھا۔ مثال کے طور پر آیون سے بمبورت تقریباً پندرہ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ سڑک، اگر اس کو سڑک کہا جا سکتا ہے، ایک گاڑی کے گزرنے کے لیے ہے۔ کچی اور پتھریلی ہے۔ کالاش بطور سیاحتی مال کے طور پر ہم زبانی کلامی بہت بیچتے ہیں۔

پاکستان میں ثقافت مذہب زبان و دیگر جہتوں کے حوالے سے اگر کوئی انتہائی منفرد سرزمین ہے تو یہ کالاش ہی ہے۔ اب جبکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ فوری بکنے والا ”سیاحتی مال“ ہے اور ہم سیاحت کے فروغ کے لیے بلند بانگ دعوے بھی کرتے ہیں تو ہم سے یہ پندرہ کلومیٹر سڑک کیوں نہیں بنتی۔ ہم معصوم کالاشیوں کو سہولت دینے کا نہ بھی سوچیں تو سیاحت سے زرمبادلہ کے حصول کے لیے پندہ کلومیٹر کی سڑک کو پکا کرنا کوئی گھاٹے کا سودا تو ہر گز نہیں ہے۔

بمبورت تک سفر میں عجیب و غریب سوالات نے گھیرے رکھا۔ راستے میں ایک پل آتا ہے۔ پل کے ابتدا پر پولیس بیٹھی ہے جہاں آپ کو اپنے نام و دیگر معلومات کا اندراج کروانا ہوتا ہے۔ جیسے ہی بیس تیس میٹر کا چھوٹا سا پل عبور کرتے ہیں تو ایک دفعہ وہاں بیٹھے سیکیورٹی کے لوگ آپ کو روکتے ہیں اور ایک دفعہ پھر آپ کو تمام معلومات کا اندراج کروانا پڑتا ہے۔

دنیا ترقی کرتے کہاں پہنچ گئی لیکن ہم سیاحوں کی معلومات کا اندراج کسی وادی میں داخل ہونے پر ایک ہی دفعہ کرنے سے قاصر ہیں۔ سیاحوں کے مسائل کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ سیاحوں کے نکتہ نظر سے معاملات کو دیکھنے سے عاری ہیں۔

کالاش میں چلم جوشی میلہ میں ہزاروں گاڑیاں پھنس جاتی ہیں اور یہ ہر سال ہوتا ہے لیکن پندرہ کلومیٹر کی سڑک کو بنانے سے نہ جانے ہم کیوں غافل ہیں اور اگر کوئی عذر ہے تو وہ کیا ہے؟

کالاش کی ایک اور دلچسپ بات پڑھیے اور ہماری آنے والی ہر حکومت کے سیاحت کو فروغ دینے والے بلند بانگ دعوؤں کو داد دیجیے۔ کالاش عجائب گھر کا بہت سن رکھا تھا۔ جب پہلی نظر پڑی تو دنگ رہ گیا۔ کیا عالی شان طرز تعمیر تھا اور جب آپ عجائب گھر کے اندر داخل ہوتے ہیں تو جس ڈرامائی انداز سے روشنی کا بندوبست کیا گیا ہے حیرت میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہے۔

معلوم ہوا کہ یونانی رضاکاروں کی انتھک محنت اور تخلیقی صلاحیتوں کے نتیجے کا نام کالاش عجائب گھر ہے۔ یہ عجائب گھر اب خیبر پختونخوا حکومت کے شعبہ آثار قدیمہ کے پاس ہے۔ ہم اندر تصویریں بناتے رہے۔ باقی سیاح بھی تصویریں بنا رہے تھے۔ موبائل پر ویڈیو کلپ بنانے کے دوران عملے کے ایک رکن نے کہا کہ ویڈیو بنانا منع ہے۔ میں نے پوچھا کہ ایک ہی موبائل سے تصویر بنانے کی اجازت ہے جبکہ ویڈیو بنانے کی نہیں تو اس کی کیا منطق ہے۔

یقیناً کسی عقلی دلیل کا ہی سہارا لیا گیا ہو گا۔ رکن نے کہا یہ ہمیں معلوم نہیں لیکن ویڈیو آپ نہیں بنا سکتے۔ میں نے سوچا یقیناً کوئی غلط فہمی ہو گی جس کو دور کرنے کے لیے عرض کیا کہ عجائب گھروں میں ڈی ایس ایل آر وغیرہ کی کئی دفعہ ممانعت ہوتی ہے کہ اس کے اوپر فلیش لائیٹ ہوتی ہے جس نے نادر نمونوں کو نقصان کا احتمال ہوتا ہے۔ اور ایسا بھی ہر عجائب گھر میں نہیں ہوتا۔ جبکہ میرے پاس تو صرف موبائل ہے تو اس سے تصویریں کھینچنے کی ممانعت نہیں ہے تو ویڈیو بنانے کی کیوں ہے؟

سوال کیا کہ عجائب گھر تعلیم کا سب سے موثر ذریعہ ہیں اور پاکستان میں سیاحت کا فروغ بھی پیش نظر ہے تو اس عجائب گھر کے حوالے سے آپ نہیں سمجھتے کہ اس کی تشہیر ہونی چاہیے۔ عملے نے مختصر سا جواب دیا کہ اس عجائب گھر کی تشہیر کرنا ہماری ذمہ داری ہے آپ کی نہیں۔

اس کے بعد مزید استفسار کا مجھ میں حوصلہ نہیں تھا۔ نکل لیے، لیکن سوالات کی یلغار لیے۔ پاکستان میں تمام وہ عجائب گھر جو سرکاری بندوبست میں ہیں ان کی یہی حالت ہے۔ ایسے میں میرے ذہن میں بلتت اور التت قلعے گھوم گئے جو سرکاری بندوبست میں نہیں ہیں۔ ان قلعوں کو یونیسیف نے بہترین دیکھ بھال اور محفوظ کیے جانے والے قلعوں میں شمار کیا اور ایوارڈ سے نوازا۔

ان قلعوں سے ہنزہ کو بہترین آمدنی ہوتی ہے اور اس کو کیمونٹی کی ترقی میں لگایا جاتا ہے۔ وہاں آپ تصویریں کھینچیں یا ویڈیو بنائیں کسی کو کوئی اعتراض نہیں۔ اگر آپ کے پاس ڈی ایس ایل آر ہے تو ایک واجبی سے فیس ہے جو آپ کو ادا کرنی ہوتی ہے۔

ایسا کیوں ہے؟ کیونکہ بلتت اور التت قلعوں کی انتظامیہ چاہتی ہے کہ ان قلعوں کی تشہیر ہو اور یوں ان کے لیے مزید آمدنی کا بندوبست ہو لیکن یہی قلعے اگر سرکاری بندوبست میں ہوتے تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ان کے باہر لکھا ہوتا کہ ویڈیو گرافی کے بیس ہزار اور دلہا دلہن تصویر کشی کے لیے تیس ہزار فیس ہے۔ سرکار تو آمدنی بڑھانے کے ایسے ہی غیر موثر ٹوٹکے ایجاد کرتی رہتی ہے۔

کالاش کے حسن پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ کالاش جیسی انفرادیت پاکستان میں کسی اور خطے کو حاصل نہیں۔ واپسی پر مستنصر حسین تارڑ صاحب سے بات ہوئی تو میں نے کہا کہ ”سر کالاش میں ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے فلم کا سیٹ لگایا ہو اور لوگ ایسے لگتے ہیں جیسے کسی فلم کے کردار ہوں“ تارڑ صاحب کہنے لگے، ”تم نے میری کتاب چترال داستان پڑھی ہے؟“ میں نے اعتراف کیا کہ یہ کتاب پڑھنے کا موقع نہیں مل سکا ”

تارڑ صاحب کہنے لگے، ”تبھی۔ تمہیں معلوم ہے کہ میں نے چترال داستان میں یہی لکھا ہے کہ کالاش ایک فلم یا ڈرامے کے سیٹ کی طرح لگتا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے آپ کے آنے سے کچھ دیر پہلے ہی کسی نے یہ سیٹ لگایا ہو اور آپ کے جانے کے بعد یہ سیٹ اتار دیا جائے گا اور پیچھے صرف کالے بلند پہاڑ اور تنگ وادی رہ جائے گی جس میں خوبصورت نالہ بہہ رہا ہو گا“

بشکریہ ڈوئچے ویلے اردو۔

Facebook Comments HS

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 180 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik