ہندوستانی سماج اور عالمی بیگانگی؟
ہندوستان موجودہ دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس کا سماج آج بھی ”دیو مالائی“ تصورات میں جکڑا ہوا ہے۔ اس سماج کی سب بڑی خامی انسانوں کی ”ذات پات“ کے نام پر تقسیم ہے۔ ہندوستان میں سماجی سطح پر پائی جانے والی یہ طبقاتی تقسیم تین سے چار ہزاریے سے چلی آ رہی ہے جو انسانوں کے ”کرما اور دھرما“ سے تعبیر ہے۔ کرما یعنی کام اور دھرما کا مطلب فرض سے ہے۔ اس سے پہلے ہندو قوانین پر مشتمل 3 ہزار برس پرانی کتاب ”منوسمرتی“ کے حوالے سے بات کو آگے بڑھایا جائے اس سے پہلے پاکستانی مورخ ڈاکٹر مبارک علی سے رجوع کرتے ہیں کہ وہ ہندوستانی ذات پات کے سماجی فلسفہ کو کس طرح پرکھتے ہیں۔
ڈاکٹر مبارک علی کے نزدیک ہندوستان میں ذات پات کا یہ رواج ”آریا“ اپنے ساتھ لے کر آئے تھے جو وقت کے ساتھ ساتھ اپنی ہیئت اور نوعیت تبدیل کرتا رہا ہے۔ ڈاکٹر مبارک علی کے مطابق ذات پات کی بنیاد ”ورن“ پر ہے جس کا مطلب ”رنگ“ ہے۔ اس میں چار ذاتیں ہیں جن میں برہمن، کھشتری، ویش اور شودر شامل ہیں جبکہ یہ چاروں ذاتیں آگے چل کر ذیلی ذاتوں میں تقسیم ہو جاتی ہیں اور ان ذیلی ذاتوں کی بنیاد ”پیشوں“ پر مشتمل ہے۔ جو جس ذات میں پیدا ہو جائے وہ اسی پیشے کو اختیار کرتا ہے اور ذات کی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔
ہر فرد کو اپنی ذات کے دھرم پر عمل کرنا ہوتا ہے، ان چار ذاتوں سے باہر ”اچھوت یا دلت“ ذات ہے، لیکن اسے یہ چار ذاتیں ناپاک قرار دے کر ان سے دور رہتی ہیں۔ جرمن فلسفی ہیگل کے مطابق ”ویدوں“ کا علم صرف برہمن ذات تک محدود تھا۔ دوسری ذاتوں کو ویدوں کے علم کے حصول کی اجازت نہیں تھی۔ اس لیے اس نظام کے خلاف بدھ مت نے آواز اٹھائی مگر گپت دور حکومت میں ذاتوں کا نظام دوبارہ سے مستحکم ہو گیا اور ”منوسمرتی“ لکھے جانے کے بعد ذات پات کے قوانین اور بھی زیادہ مضبوط ہو گئے۔
ہندوستانی ذات پات کے حوالے سے نکولاس ڈیریکس کی تصنیف ”کاسٹ آف مائنڈ“ ایک غیر معمولی تحقیق مانی جاتی ہے جبکہ ڈیرک نے ”مہابھارت اور رامائن“ کو آریائی تہذیب کا تسلط قرار دیا ہے۔ ہندوستان یعنی موجودہ بھارت کا آئین کی تشکیل کے ایک اہم کردار ”ڈاکٹر امبیڈکر“ جو کہ خود ایک نچلی ذات سے تعلق رکھتے تھے وہ بھی ہندوستانی ذات پات سے سخت بیزاری رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے 300 ساتھیوں کے ساتھ ہند و مت چھوڑ کر ”بدھ مت“ میں چلے گئے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ ہندو دیوتاؤں کو گھر سے باہر پھینک دیں۔ اس ضمن میں ڈاکٹر امبیڈکر کی کتاب ”ذات پات کے نظام کا خاتمہ“ کا مطالعہ بھارتی سماج کو سمجھنے میں بہت مدد دیتا ہے۔
بات ہو رہی تھی ”منو سمرتی قوانین“ کے حوالے سے تو یہ تحریر ہے جس میں ذات پات کے قوانین تشکیل دیے گئے ہیں یا پھر ایسا ہے اسی دستاویز سے ہندو ذات پات کے قوانین اخذ کیے گئے ہیں۔ اس دستاویز کے مطابق ہندو سماج ذات پات کے اعتبار سے برہمن، کھشتری، ویش اور شودر جیسی ذاتوں میں منقسم ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ تقسیم ہندو دیوتا ”براہما“ نے خود کی ہے جبکہ بھارت کے موجودہ آئین میں ذات پات کی بنیاد پر تفریق پر پابندی ہے اور اسی بنیاد پر بھارت کو ایک ”سیکولر ریاست“ قرار دیا جاتا ہے۔
یعنی بھارت سیاسی اعتبار سے تو سیکولر ہے لیکن سماجی اعتبار سے آج بھی دیو مالائی تصورات کی قید میں ہے اور ذات پات کی ایسی غلاظت میں گھیرا ہوا ہے کہ اس سے نکلنا اس کے لیے ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ جب آپ کسی غیر انسانی یا غیر سماجی تقسیم کو اپنے دیوی دیوتاؤں سے منسلک کریں گے تو یہ ایک مذہبی عقیدہ بن جاتا ہے جسے آسانی سے رد کیا جانا ممکن نہیں ہوتا، لہذا آج کے ہندوستان کے سماج کا سب سے سنگین المیہ بھی یہی ہے جو اپنے دیومالائی تصورات سے آج کے اس جدید دور میں بھی آزادی حاصل نہیں کر سکا ہے۔
اب ایسے سماج میں جہاں خود اس کے مذہب کے ماننے والوں کو سماجی اعتبار سے دور کی بات بلکہ مذہبی اعتبار سے بھی مساوی حقوق حاصل نہیں ہے تو پھر کیوں کر بھارت میں مسلم اور مسیحی سمیت دیگر اقلیتوں کو مساوی حقوق یا اپنے اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی حاصل ہو سکتی ہے۔ بھارت میں ایک زمانے سے مسلمانوں کی نسل کشی کا عمل جاری ہے، ان کے گھر بار کو ہی نہیں بلکہ زندہ انسانوں کو آگ لگادی جاتی ہے اور یہی حال بھارت کی دیگر اقلیتوں کا ہے۔ لہذا بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے رہنماؤں کی طرف سے رحمت العالمین حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کو محض ایک دو سیاست دانوں کا بیان نہ سمجھا جائے بلکہ انتہا پسند بھارتی حکمران جماعت کا فلسفہ ہی اس بنیاد پر کھڑا ہے کہ بھارت سے اسلام یعنی مسلمانوں کو کیسے نکالا جائے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری ہندوستان کے نام نہاد سیکولر چہرے کے پیچھے چھپے ہوئے مذہبی انتہا پسندی کو بے نقاب کرے تاکہ ہندوستانی سماج میں ذات پات کے نام پر ہونے والی انسانی تذلیل کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ ایسے میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے اسلامی ممالک پر یہ بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ اس وقت تک اپنے تجارتی و سفارتی تعلقات منقطع کریں جب تک بھارت اقوام عالم اور بالخصوص عالم اسلام سے حضور اکرم ﷺ کی شان میں ہونے والی گستاخی پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر معافی نہیں مانگ لیتا، اگر چرب زبانی کی بنیاد پر بھارت کو ڈھیل دیدی گئی تو وہ یہ حرکت آئندہ بھی کر سکتا ہے جبکہ بھارت میں اسلامی شعائر کی بے حرمتی اور مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنائے جانا معمول کی بات ہے لیکن اب اسے لگام دینے کا وقت آ گیا ہے جو ڈالی جا سکتی ہے لیکن اس کے لیے عالم اسلام کو نہ صرف متحد ہونا پڑے گا بلکہ ایک آواز ہو کر اسے للکارنا بھی ہو گا تاکہ ہندو انتہا پسند ذہنیت کو اس بار صحیح معنوں میں سبق سکھایا جا سکے۔ آخر میں یہ کہ ہندوستان ایک ایسا عجیب سماج ہے جہاں ایک طرف رام ہیرو ہے تو دوسری طرف راون ولن ہے اسی طرح ہندوستان کے جنوبی حصے میں راون کو ہیرو تصور کیا جاتا ہے لیکن ہر دسہرے پر راون کے ساتھ جو سلوک برتا جاتا ہے وہ ہندوستان میں ہر روز اقلیتوں کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے۔


