پاکستان پیپلزپارٹی کے مختلف جنم

آمرانہ نظام حکومت اور عوام کے مسلسل استحصال کی خلاف بننے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنا پہلا جنم 30 نومبر 1967 میں لیا۔ اور آمر ایوب خان کو سوا سال کے عرصہ میں اقتدار کی کرسی اتار پھینکا۔ اقتدار ایوب کے ہاتھ سے نکل کر نئے آمر ہمہ وقت سرور میں رہنے والے یحییٰ خان کے پاس آیا ملک میں پہلی بار عام انتخاب کروائے گئے انتخاب کے نتیجہ میں عوامی لیگ مشرقی اور پیپلز پارٹی مغربی پاکستان سے ابھر کر سامنے آئی۔
مگر آمرانہ سوچ کے حامل اقتدار کے بھوکے یحییٰ خان نے اقتدار عوامی نمائندوں کے سپرد کرنے کی بجائے مشرقی پاکستان میں فوج کی چڑھائی کردی نتیجتاً مشرقی پاکستان علیحدہ ریاست ( بنگلہ دیش ) بن گیا۔ مغربی پاکستان کی عوام میں پائی جانے والی اضطرابی کیفیت اور نفرت کو بھانپتے ہوئے یحییٰ خان نے اقتدار آخر کار پاکستان پیپلز پارٹی کے حوالے کر دیا۔ اور یوں دنیا کی تاریخ میں ایک پارٹی جو 3 سال پہلے بنی تھی اتنے مختصر ترین عرصے میں اقتدار کی کرسی پر براجمان ہو گئی۔
جناب ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں بننے پیپلز پارٹی نے ایک جھکی ہوئی ہاری ہوئی قوم دلبرداشتہ فوج اور ایسا ملک جو اپنا ایک بازو آمروں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ٹوٹ چکا تھا کا اقتدار سنبھالا۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ وہی ملک پوری دنیا میں ایک چمکدار ستارہ بننے کی طرف گامزن ہوا۔ عالم اسلام کی توجہ کا مرکز بنا دنیا کے ہر گوشے میں پاکستان کا نام پکارا جانے لگا۔ ترقی یافتہ ممالک ملک پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے لگے اور ملکی عوام خوش حالی کے رستے کی طرف گامزن ہونے لگی۔
منزل دور تھی مگر ناممکن نہی تھی کہ اچانک وہی آمرانہ سوچ کے پیرو کاروں نے دوبارہ سے ملک پر قبضہ کر لیا اور عوامی دلوں پر راج کرنے والے حکمران بھٹو کو اقتدار سے الگ ہی نہی کیا بلکہ پھانسی گھاٹ تک پہنچا کر دم لیا۔ اور یوں پیپلز پارٹی کا پہلا جنم اپنے اختتام کو پہنچ گیا مگر پیپلز پارٹی ختم نہی ہوئی اور اسی رات جب پیپلز پارٹی کی حکومت کو ختم کیا گیا یعنی 5 جولائی 1977 کی صبح کی پیپلز پارٹی نے اپنا دوسرا جنم لیا اس بار پیپلز پارٹی کا مقابلہ آمر ایوب سے بھی بدتر انسان جو آمر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ظالم ترین انسان بھی تھا ضیاء سے پالا پڑا یہ دور پارٹی کے لئے انتہائی مشکل دور تھا اس میں پارٹی قیادت کے ساتھ پارٹی ورکروں کی بھی شامت آئی۔ ظالم ضیاء کی ظلمیت پارٹی کے بانی کی پھانسی ورکروں کو پھانسی جیل کوڑے جیسے درد ناک اقدامات کو اپنے سینے سے لگانے والی پیپلز پارٹی یہ کا نیا وجود سامنے آیا جس نے ایک ظالم جابر حکمران کے سامنے سر نگوں کرنے کی بجائے مزاحمت کو اپنایا اور قیادت تک کو کھو دیا۔

