روایتی تعلیم اور معاشی بحران


موجودہ معاشی صورتحال تشویش ناک ہے، ملک پاکستان ایسی نہج پہ پہنچ چکا ہے جہاں سے نکلنے کے لیے ہم سب کو اب نئے انداز سے سوچنا ہو گا اب روایتی طریقوں سے ہٹ کر بات کرنی ہوگی چونکہ میں اک طالب علم ہوں تو میرا موضوع بحث تعلیم ہے، روایتی تعلیم سے ہٹ کر اگر ہم تھوڑا سا بھی تعلیمی سٹرکچر کو آؤٹ سمارٹ کریں تو واضح نتائج حاصل کر سکتے ہیں، دنیا کافی عرصے سے بدل چکی ہے اور یہ تبدیلی مسلسل رونما ہو رہی ہے ہم جتنا روایتی انداز تعلیم سے چپکے رہیں گے اتنا ہی دنیا سے پیچھے ہوتے جائیں گے

روایتی انداز سے میری مراد وہ پرانا تعلیم نظام جو فقط نہ سمجھ آنے والی تھیوری رٹا اور مارکس کی حد تک ہے، اور پھر تعلیمی اداروں کا ماحول جس میں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کی بجائے بے تکی سرگرمیوں کی نظر کر دیا جاتا ہے۔ اب وقت ہے وقت کی ضرورت کو سمجھنے کی بنیادی اور شعوری تعلیم کے بعد طلبہ کو نئے رجحانات اور سکلز کی طرف لایا جائے تاکہ ان کے لیے آسان روزگار کے مواقع پیدا ہو سکیں ملکی معیشت کو ایک مضبوط ہاتھ مل سکے،

بات اتنی سادہ نہیں ہے، ہر سال ہزاروں طلبہ یونیورسٹیوں سے گریجویٹ ہوتے ہیں لیکن نوکریاں نہیں ملتی تعلیمی ادارے لاکھوں روپے فیسیں لے کر ہر سال بے روزگاروں کی نئی کھیپ پیدا کر رہے ہیں تو پھر

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

دنیا کا مقابلہ کرنا ہے تو دنیا کی رفتار کے ساتھ بھی چلنا ہو گا، جتنی دنیا ترقی کر رہی ہے اتنے ہی ہمارے لیے مواقع بڑھ رہے ہیں لیکن اگر ہم اندرونی سیاسی بحثوں اور فضول کی سرگرمیوں سے نہ نکلے تو یہ مواقع ہاتھ سے نکل جائیں گے

آپ اپنے گھر کے اک کمرے میں دنیا کے کسی بھی کونے میں اپنا کام کر سکتے ہیں اپنی مہارت بیچ سکتے ہیں اور گھر بیٹھے لاکھوں کما سکتے ہیں کئی لوگوں کو روزگار دے سکتے ہیں تو کیوں نہیں کرتے ہم؟ کیوں معاشی بحران پر واویلا کرتے ہیں؟ کیوں بے روزگاری کا رونا روتے وقت ضائع کرتے ہیں؟

آج کل روزگار کے انداز تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ پوری دنیا میں انٹرپینیور شپ کا کلچر تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ اس میں آپ اپنی تعلیم ’ہنر اور تجربے کو استعمال کر کے اپنے ساتھ دوسروں کے لئے بھی روزگار پیدا کر سکتے ہیں۔ اب دفاتر میں جا کر نو سے پانچ کام کرنے کا کلچر زوال پذیر ہو رہا ہے۔ اس کی جگہ فری لانسنگ نے لے لی ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں فری لانسنگ یونہی کوئی مذاق یا غیر سنجیدہ کام ہے‘ اس میں پیسے نہیں کمائے جا سکتے اور یہ سب فراڈ ہے۔

یہ تینوں باتیں درست نہیں۔ دنیا میں اس وقت ایک سو پچانوے کے قریب ممالک ہیں۔ ان میں سے امریکہ ’چین‘ روس ’جاپان‘ برطانیہ وغیرہ دنیا کی بڑی طاقتیں شمار کی جاتی ہیں۔ دنیا کی کل آبادی ساڑھے سات ارب ہے۔ اس میں سے ڈیڑھ ارب مسلمان ہیں۔ ان ڈیڑھ ارب مسلمانوں میں سے بیس کروڑ پاکستان میں رہتے ہیں اور پاکستان فری لانسنگ میں دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔ پہلے نمبر پر بھارت ہے۔ چوبیس فیصد فری لانسرز بھارتی ہیں۔ آپ حیران ہوں گے بھارت صرف فری لانسنگ سے چار سو ارب ڈالر سالانہ کما رہا ہے ’جبکہ پاکستان کی کل برآمدات بیس ارب ڈالر ہیں۔

فری لانسنگ میں دوسرے نمبر پر بنگلہ دیش ہے‘ یعنی دنیا کے ہر جدید اور ایٹمی ممالک سے آگے۔ اس کے فری لانسرز کل تعداد کا سولہ فیصد ہیں۔ بنگلہ دیش میں اوسط تنخواہ چھ ہزار روپے ہے ’جبکہ فری لانسنگ کرنے والوں کی اوسط ماہانہ آمدن اٹھاسی ہزار روپے تک جا پہنچی ہے۔ تیسرے نمبر پر امریکہ ہے۔ وہی ملک جس سے آدھی دنیا ڈکٹیشن لیتی ہے اور جو جب چاہے جس پر چاہے چڑھ دوڑتا ہے۔ یہ ملک پورا براعظم ہونے کے باوجود تیسرے نمبر پر ہے۔

امریکہ میں ساڑھے پانچ کروڑ افراد فری لانسنگ سے وابستہ ہیں‘ جو امریکہ کی کل ورک فورس کا پینتیس فیصد بنتے ہیں۔ ایک امریکی سروے کے مطابق یہ تعداد 2028 ء تک چوراسی فیصد ہو جائے گی ’یعنی صرف دس سال بعد امریکہ میں دفاتر میں جا کر کام کرنے والے صرف سولہ فیصد افراد ہوں گے۔ چوتھے نمبر پر پاکستان ہے۔ اس کی ایک وجہ یہاں کے نوجوانوں کی تعداد اور بیروزگاری ہے۔ اسی فیصد نوجوان انٹرنیٹ سے سیکھ کر خود سے فری لانسنگ کر رہے ہیں۔ بقایا بیس فیصد ای روزگار پروگرام سے تربیت حاصل کر کے اٹھارہ ماہ میں چار کروڑ روپے کما چکے ہیں۔

پنجاب یونیورسٹی سے حیران کن طور پر ای روزگار کی تین ماہ کی تربیت لینے والے ایک سو ستر نوجوان لڑکے لڑکیوں نے دوران تربیت 67 لاکھ ڈالر کمائے۔ ان میں دو نوجوان ایسے تھے جن میں سے ایک نے گیارہ لاکھ اور دوسرے نے چار لاکھ کمائے۔ پاکستان فری لانسنگ سے اس وقت ایک بلین ڈالر کما رہا ہے ’جو بھارت کے مقابلے میں چار سو گنا کم ہے‘ جبکہ پاکستان میں نوجوانوں کی سکلز اور جذبہ بھارتیوں سے چار سو فیصد زیادہ ہے۔ پانچویں نمبر پر فلپائن ہے۔

فلپائن میں سڑکوں اور ذریعہ آمدورفت کی خراب صورتحال کی وجہ سے لوگوں نے گھروں سے کام شروع کر دیا اور یوں فلپائن پانچویں نمبر پر آ گیا۔ چھٹے نمبر پر برطانیہ ہے۔ وہاں یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ستاسی فیصد طلبا اسے بطور کیریئر اپنا رہے ہیں کیونکہ نوکری کے بعد فوری طور پر جاب اب وہاں بھی نہیں ملتی چنانچہ طلبا فری لانسنگ شروع کر دیتے ہیں اور ان میں سے پچانوے فیصد شاندار آمدنی کی بنا پر مستقل فری لانسرز بن جاتے ہیں ؛چنانچہ اس سارے منظر میں ایشیا آگے نکلتا دکھائی دیتا ہے۔

حکومت اس سلسلے میں باقاعدہ قانون سازی کرے اور ایچ ای سی کے ذریعے ای روزگار جیسے منصوبوں کو تعلیم کا باقاعدہ حصہ بنا دے تو چند ہی برسوں میں پاکستان فری لانسنگ میں پہلے نمبر پر پہنچ سکتا ہے ’جس سے ہماری برآمدات کئی گنا بڑھ سکتی ہیں اور ہمارے سارے قرضے بھی اتر سکتے ہیں۔ فری لانسنگ کو قومی سطح پر فروغ دیا جائے تو یہ پہلے تین برسوں میں ہی ملک کی حالت یکسر تبدیل کر سکتی ہے۔ سوال یہ ہے‘ اگر بھارت جیسا ملک چار سو ارب ڈالر کما سکتا ہے ’تو ہم کیوں نہیں؟

ہمارے نوجوانوں میں کیا کمی ہے؟ ہمارے کئی نوجوان تو سالانہ بارہ کروڑ سے بھی زائد کما رہے ہیں۔ ان سے بھی نہ جانے کتنے ٹیلنٹڈ نوجوان ایسے ہوں گے‘ جو اس سے بھی زیادہ کما سکتے ہوں گے۔ فری لانسنگ پراجیکٹ کی فزیبیلٹی پر کام کرنا ہو گا۔ صرف بیروزگار ہی نہیں باروزگار افراد بھی مہنگائی کی وجہ سے کم تنخواہوں پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔ ہر گھر میں تین چار لوگ فارغ بیٹھے ہیں۔ ان سب کو ورک فورس میں بدلے بغیر ملکی حالت نہیں بدلی جا سکتی۔ اس کے لئے ہر فرد کو چینی عوام کی مانند کام کرنا اور اپنا حصہ ڈالنا ہو گا

Facebook Comments HS